Jasoos Musafir

Jasoos Musafir

جاسوس مسافر

چولہا جل رہا تھا اوپر بڑی دیگچی چڑھی ہوئی تھی۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ حنا نے دروازہ کھولا سامنے اس کی ہمسائی نادیہ کھڑی تھی۔ نادیہ نے اندر آکر حناسے کہا۔

ماہ نور فاطمہ :
چولہا جل رہا تھا اوپر بڑی دیگچی چڑھی ہوئی تھی۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ حنا نے دروازہ کھولا سامنے اس کی ہمسائی نادیہ کھڑی تھی۔ نادیہ نے اندر آکر حناسے کہا۔ آج کل ہمارے ملکی حالات بڑے خراب ہوگئے ہیں۔
حنا چونک کربولی کیا مطلب ؟ نادیہ: تجھے پتہ نہیں کشمیر میں جوجنگ شروع ہوچکی ہے ہندو بھارتیوں نے کشمیریوں کا بلاجوازبے دریغ قتل کرنا شروع کررکھا ہے، یہ سب سوچ کر بڑا دکھ ہوتا ہے ہم اپنے ملک کیلئے کچھ نہیں کرسکتے ۔ ہم ہیں ہی پرائمری تک پڑھی اور دوسری بات، ہم وہاں سے بہت دور ہیں جہاں ہمارے مجاہدین کافروں کا مقابلہ کررہے ہیں۔
حنا: ہاں ! مجھے بھی بہت افسوس ہوتا ہے ہم کچھ نہیں کر سکتیں۔ یہ سن کرچلی گئی۔ حنا اپنی ماں کے ساتھ گھر کا کام کرنے لگی ۔

(جاری ہے)

اتنے میں اس کے ابوکرم دین بھی آگئے۔ سب نے رات کاکھاناکھایا اور سوگئے۔ صبح حسب معمول حنا اور کرم دین لکڑیاں لینے جنگل کی طرف چلے گئے، کرم دین ایک درخت پرچڑھا اور لکڑیاں کاٹنے لگا جبکہ حنا گھر میں جلانے کیلئے لکڑیاں اکٹھی کرنے لگی، لکڑیاں چنتے جب کافی ساری لکڑیاں جمع ہوگئیں تو حنا خشک پتوں پر درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی سوچ رہی تھی کہ کاش وہ مزید پڑھ لکھ سکتی، اپنے ملک کانام روشن کر سکتی۔


اتنے میں کرم دین لکڑیاں چھکڑے پر لاد کر منڈی بیچنے چلاگیا، حناوہیں بیٹھی رہی۔ اچانک اسے پتوں کی سرسراہٹ کی آواز اپنے عقب سے آئی اس نے غور نہ کیا لیکن تھوڑی دیر بعد اسے اپنے پیچھے سے کسی کی آواز آئی۔ میں مسافر ہوں میرے پیچھے ڈاکو لگے ہیں میری مددکرو۔

حنا نے پیچھے مڑکردیکھا تو ایک صحتمند نوجوان کھڑا تھا۔ حنا نے سوچا مسافر ہے چلومدد کردیتے ہیں۔ اسے کہا میرے پیچھے آؤ اور وہ شخص اس کے پیچھے چل دیاحنا اس کوگھرلے گئی کرم دین گھر آچکا تھا ، حنا نے کرم دین کو صورتحال سے آگاہ کردیااور اس شخص کو اپنے کچے مکان کا پچھلا کمرہ دے دیا۔
کرم دین نے اس کا نام پوچھا تو اس نے سلطان احمد بتایا اور کہنے لگا دراصل میں لاہور سے آیاہوں میں بس سے اتر کر ایک سڑک سے گزررہاتھا توڈاکوؤں نے مجھے لوٹ لیا اور میرے پیسے وغیرہ بھی لے لئے اب وہ مجھے مارنا چاہتے تھے ۔ اب اگر کوئی شخص ادھر آیا تو مہربانی کرکے اسے میرا مت بتانا وہ ڈاکوؤں کاس مخبر بھی ہوسکتا ہے۔
حنا نے اپنی ماں سے کہا کہ راشن کا سامان ختم ہوگیا ہے ابا کو گھر چھوڑتے ہیں ابھی زیادہ رات نہیں ہوئی اور خود سودالے آتے ہیں کیونکہ اباہی اس آدمی کے پاس رک سکتے ہیں؟ چنانچہ دونوں ماں بیٹی گاؤں کے چھوٹے سے بازار میں آگئیں سودا خریدا، حنا کونجانے کیا سوجھی اس نے اماں سے کہا کہ ان کے علاقے قریب فوجیوں کی چوکی ہے ادھر چل کر پولیس کو اطلاع دیتے ہیں کہ ڈاکو ایک آدمی کے پیچھے لگے ہوئے تھے کہیں وہ گاؤں میں آکر لوٹ مارنا شروع کردیں سودونوں وہاں پہنچ گئیں۔
بلقیس نے ایک فوجی کو قریب بلایااور اسے بتایا کہ ان کے گاؤں میں ڈاکوآسکتے ہیں اور حنا نے سلطان کے بارے میں سب کچھ بتادیا۔ خیرہ دونوں واپس آئیں اور سودارسوئی میں رکھا۔ تب کرم دین نے حنا سے راز دارانہ انداز میں کہا۔ مجھے یہ سلطان کوئی ڈاکولگتا ہے۔
میں جب چائے دینے کیلئے اس کے کمرے میں گیا توچارپائی پر بیٹھا ہوا تھا۔ دروازے کی طرف اس کی کمر تھی اس کے ہاتھ میں بہت بڑا چاقو تھا۔
حنا بھی کچھ پریشان ہوگئی۔ اگلی صبح حنا کو اپنے گھر کے باہر کسی کے بولنے کی آوازیں سنائی دیں۔
دروازے پر دستک ہوئی حنانے دروازے کھولا تین چار فوجی اندرداخل ہوئے ان میں سے ایک نے پوچھا کہ جو مسافر ان کے گھر آیاوہ کدھر ہے حنا نے بتایا کہ پچھلے کمرے میں ہے۔ سب وہاں پہنچ گئے فوجی نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سلطان کے ماتھے پر گن رکھتے ہوئے کہا۔
تم زیرحراست ہوافرار ہونے کی کوشش مت کرنا اورساتھ ہی سلطان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگادیں۔ فوجی کرم دین کو بھی ساتھ لے گئے۔ حنا اور بلقیس بہت پریشان ہوئیں۔ خیررات کے وقت کرم دین واپس آگیا۔ اس کے ہاتھ میں مٹھائی کاڈبہ تھا اور کرم دین نے بڑی شفقت سے حنا کے سر پرہاتھ پھیر اور بولا” پترتیرا جذبہ نیک تھا، تو اللہ نے تجھ سے دوکام کرایاہے۔
پتر! وہ بندہ جو مسافر بن کرہمارے گھر ٹھہرا تھا۔ حقیقت میں پاکستان کا بہت بڑادشمن تھا، وہ ہندو اور بھارتی جاسوس تھا جس کی تلاش میں ہماری انٹیلیجنس اور فورس کب سے بھٹک رہی تھی۔ آخرتم نے وہ جاسوس وہ غداران کے ہتھے چڑھا ہی دیا۔ یہ سن کر حنا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ اللہ کا شکرادا کرنے لگی۔

Your Thoughts and Comments