Jhooti Khabar

Jhooti Khabar

جھوٹی خبر

شرپسندوں کے ایک گروہ نے شہر میں بدامنی پھیلارکھی تھی ۔ امن وامان کی بحالی کے لیے آئی جی صاحب نے یہ معاملہ خفیہ پولیس کے انسپکٹرراشد کو سونپا۔ شہر کے حالات پر ان کی پہلے ہی بہت گہری نظر تھی، اس لیے انھوں نے فوراََ کام کرنا شروع کردیا۔

عبداللہ بن مستقیم :
شرپسندوں کے ایک گروہ نے شہر میں بدامنی پھیلارکھی تھی ۔ امن وامان کی بحالی کے لیے آئی جی صاحب نے یہ معاملہ خفیہ پولیس کے انسپکٹرراشد کو سونپا۔ شہر کے حالات پر ان کی پہلے ہی بہت گہری نظر تھی، اس لیے انھوں نے فوراََ کام کرنا شروع کردیا۔
سب سے پہلے تووہ شہر کے جدید ترین اسپتال گئے۔ وہاں ایک ضروی کام سے فارغ ہوکر سیدھے ایک بڑے اخبار کے دفتر گئے۔ ایک خبر لگانے کے لیے ایڈیٹر کو آئی جی صاحب کا حکم نامپ دکھایا اور معاملے کو راز میں رکھنے کا کہا ۔
اگلے دن صبح اخبار نے سرخیوں میں یہ خبرچھاپی : ” کل رات ایک اہم اجلاس میں شرپسندوں کو ختم کرنے کا پلان ترتیب دے دیا گیا۔
نیچے انسپکٹرراشد کا بیان لگایا گیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اس پلان کے ذریعے ہم ایک ہفتے کے اندراندر گروہ کا صفایا کردیں گے ۔

(جاری ہے)


اسی دن شام کو انسپکٹر راشد معمول کے مطابق دفتر سے گھر کی طرف آرہے تھے کہ انھیں پیچھے تعاقب کا احساس ہوا۔

ایک کالے رنگ کی کاران کا تعاقب کررہی تھی یہ دیکھ کر انھوں نے اپنی گاڑی کی رفتار کم کر دی۔ جلد ہی وہ گاڑی ان سے آگے نکل گئی اور تھوڑی دورجاکرسڑک پر ترچھی ہو کر اس طرح رک گئی کہ آگے جانے کا راستہ بند ہوگیا۔ فوراََ ہی چار لمبے تڑنگے نقاب پوش کار سے اُترے اور ان کی گاڑی کی طرف بڑھے ۔
انسپکٹر راشد چاہتے تو انھیں نشانہ بناسکتے تھے ، مگر کچھ سوچ کر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ جب وہ نزدیک آئے توانھوں نے سرباہر نکلا کر پوچھا : کون ہوتم لوگ ؟
جواب میں ا نھوں نے کوئی چیزان کے ناک پر رکھی اور اس کے بعد انھیں کچھ ہوش نہ رہا۔
ہوش آیاتو انھوں نے اپنے آپ کو ایک کرسی سے بندھا پایا۔ ہوش میں آکر دیکھا توسامنے ایک شخص ٹانگ پر ٹانگ رکھے کرسی پر بیٹھا تھا۔ پھر انھوں نے ادھراُدھر نظریں گھمائیں توکمرے کے چاروں طرف نقاب پوش ہاتھوں میں گنیں لیے کھڑے تھے۔
آخر انھوں نے سامنے بیٹھے شخص سے پوچھا: کون ہوتم ؟
تمھاری موت !
لیکن شکل سے توتم چاے والے لگتے ہو۔
چٹاخ ! ایک زور دار طمانچہ انسپکٹر راشد کے منھ پر لگا۔ بندھے ہونے کی وجہ سے وہ کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے، لہٰذا خون کے گھونٹ پی کررہ گئے ۔

میں اس گینگ کا باس ہوں، باس۔ اس نے باس ‘ پرزور دیتے ہوئے کہا ، پھر بولا: بتاؤ تم نے کیا پلان بنایا ہے ہمارے گروہ کو ختم کرنے کے لیے ؟
بتادوں گاتو تم لوگ مجھے ماردو گے ۔
وہ تو ویسے بھی ماردیں گے ، پھر تمھارے آئی جی کو یہاں لاکر اس کی بھی خبر لیں گے ۔
پولیس کو ایسا دھچکا دیں گے کہ آیندہ کوئی ہمیں ختم کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکے گا ۔
توسنو! ایسا کوئی پلان ہم نے ترتیب دیاہی نہیں ۔ انسپکٹر راشد نے عجیب سے لہجے میں کہا ۔
کیا !! بکواس ، میں نہیں مانتا ۔
ہاں ، میں نے خود پریس والوں سے جاکریہ خبر چھاپنے کے لیے کہا تھا، تاکہ تم مجھے اغوا کرکے پلان کے بارے میں پوچھو اور میں تم تک پہنچ جاؤں اور دیکھ لو، میں تم تک پہنچ چکا ہوں۔
انسپکٹر راشد نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
یہ جملہ سن کر باس چونکا، مگر پھر سنبھل کربولا: یہاں سے تواب صرف تمھاری لاش ہی جائے گی۔ اس وقت ہم نے تمھیں جہاں رکھا ہوا ہے، وہاں تو پولیس پر بھی نہیں مارسکتی ۔
پرنہیں مارسکتی مگر چھاپہ تو مارسکتی ہے نا۔

میرے بالوں میں ایک عدد مائیکروچپ چھپی ہوئی ہے، جو میرے ساتھیوں کو یہ بتارہی کہ میں اس وقت کہاں ہو۔ بس وہ یہاں پہنچے والے ہی ہوں گے ۔
یہ سن کرباس زور سے دہاڑا ” ماردو اسے ! اور نکلو یہاں سے !
فوراََ ہی کمرے میں کھڑے نقاب پوشوں کی بندوقیں انسپکٹر راشد کی طرف تن گئیں ۔
اچانک کمرے کی کھڑکی کا شیشہ ٹوٹ کراندر کی طرف گرا۔ کلاشنکوف والے انسپکٹر راشد کوبھول گئے اور انھوں نے کھڑکی کی طرف فائرکھول دیا، مگر وہاں کوئی نہیں تھا ۔ اچانک دوسری طرف کی کھڑکیاں ٹوٹیں اور پولیس کے کمانڈوز چھلانگیں لگاتے ہوئے اندرداخل ہوئے ۔
نقاب پوش سمجھ رہے تھے کہ پولیس والے پچھلی طرف سے نہیں آپائیں گے، اس لیے وہ اس اچانک حملے سے گھبراگئے ۔ اسی گھبراہٹ میں جب وہ کھڑکیوں سے کودنے والے کمانڈوز کی طرف متوجہ ہوئے توموقع کا فائدہ اٹھا کر چند سپاہی بھی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئے ۔ اب نقاب پوش اور ان کاباس دونوں طرف سے گھر گئے تھے ۔ نتیجتاََ یہ کہ انھوں نے ہتھیار ڈال دیے اور شہر میں امن قائم ہوگیا۔

Your Thoughts and Comments