Kabootar Ka Tohfa

Kabootar Ka Tohfa

کبوتر کا تحفہ

معلوم نہیں وہ سچ مچ کبوتر ہی تھا یاکبوتر کے بھیس میں کوئی اور مخلوق تھی۔ وہ کبوتربہت خوب صورت اور معصوم تھا۔

عبدالرؤف تاجور:
معلوم نہیں وہ سچ مچ کبوتر ہی تھا یاکبوتر کے بھیس میں کوئی اور مخلوق تھی۔ وہ کبوتربہت خوب صورت اور معصوم تھا۔ جو بھی دیکھتا، بس دیکھتا ہی رہ جاتا۔ برف کی طرح سفید رنگ تھا۔ چونچ، آنکھیں اور نیچے یا قوت کی طرح سرخ، دونوں پیروں میں پنجوں تک چھوٹے چھوٹے پربھرے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے وہ اور بھی خوب صورت لگتا تھا۔
گھر میں اس کا آنا ایک اہم واقعہ تھا اور اس کا جانا ایک حادثے کی طرح تھا بلکہ جانا زیادہ پراسرار تھا، گھر کے لوگ کبوتر کے چلے جانے کے بعد بھی اُلجھن کا شکار رہے۔
ایک اتوار کی صبح کاذکر ہے۔ حمزہ اپنا بلا تلاش کرتا ہوا بالکونی میں آیا تو یہاں کا منظردیکھ کر حیران رہ گیا۔
ایک سفید کبوتر اپنے خون میں لت پت بیٹھا اونگھ رہا تھا۔

(جاری ہے)

اور اس سے تھوڑے فاصلے پر لوہے کی گرل پر اپنے دونوں نیچے جمائے ایک چیل، کبوتر کو کونی نگاہوں سے گھوررہی تھی، لیکن اندر آنے سے قاصر تھی، کیوں کہ گرل کی جالی ایسی تھی کہ بڑا پرندہ مثلاََ کوا، کبوتر، چیل یابازاندر نہیں آسکتا تھا۔

لیکن یہ زخمی کبوتر کسی نہ کسی طرح اندرآگیاتھا۔ آہٹ پاکر کبوتر نے لمحے بھر کے لیے حمزہ کو دیکھا اور پھر آنکھیں موندلیں۔حمزہ کو صورت حال بھانپنے میں چند سکینڈ لگے۔ وہ اُلٹے پاؤں بھاگا۔ اپنے کمرے میں جاکر میز کی دراز سے غلیل نکالی، مٹھی بھر شیشے کی گولیاں، جیب میں ڈالیں اور چھپ کر ایک غلہ اس چیل کو مار دیا جو اگر نشانے پر لگ جاتا تو چیل اس مار کو ہمیشہ یادرکھتی، لیکن حمزہ کانشانہ خطاہوگیا۔
غلہ گرل سے ٹکرا گیا، ایک زبرداست آواز پیداہوئی۔ اور وہ خونی پرندہ چیخ دار آوازیں نکالتا ہوا اُڑ گیا۔ حمزہ نے جلدی سے دوسرا غلہ چلادیا، لیکن یہ بھی خطا ہوگیا۔ ادھر سے فارغ ہو کر اس نے ساری بات اپنی دادی جان کو بتادی اور اپنا بلالے کر بھاگتا ہوا اپنے اسکول کی طرف چل پڑا کیوں کہ میچ شروع ہونے میں صرف بیس منٹ رہ گئے تھے۔

اس دن میچ میں حمزہ کا دل بالکل نہیں لگا۔ اس کے باوجود وہ دو وکٹیں اور ساتھ رن لے کر مین آف دی میچ قرار پایا۔ کھیل کے دوران اس کادھیان کبوتر کی طرف لگارہا۔ پتا نہیں بے چارہ زندہ بھی ہے یااللہ کو پیارا ہوگیا۔ گھر واپس پہنچا تو دادی جان نے اسے فوراََ خوش خبری سنادی کہ زخمی کبوتر نہ صرف زندہ ہے، بلکہ خطرے کی زد سے نکل آیا ہے۔
حمزہ نے بلاایک طرف پھینکا اور بالکونی کی طرف بھاگا۔ کبوتر گتے کے ڈبے میں پرانے کپڑوں کے ڈھیر پر سورہاتھا۔ آہٹ پاکر اس نے آنکھیں کھول دیں اور معصوما نہ نگاہوں سے حمزہ کو دیکھنے لگا، جیسے کہہ رہاہو، بہت بہت شکریہ میرے دوست آپ نے میری جان بچائی، میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔

دادی جان نے ٹوٹکوں اور دیکھ بھال کی وجہ سے وہ ہفتہ دس دن کے اندر پوری طرح صحت یاب ہوگیا۔ اب وہ گھر کا ایک فروبن چکا تھااور اپنی پیاری حرکتوں سے سب کادل بہلاتار ہتا تھا۔ گھر کے تین چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ کھیلنا اسے بہت اچھا لگتا تھا۔
وہ اسے پکڑنے کے لیے دوڑتے اور وہ انھیں جھکائیاں دے کر پورے گھر میں دوڑتا رہتا۔ کبوتر کی ایک عجیب خوبی جس پر سب لوگ حیران تھے وہ یہ تھی کہ صبح کے وقت جب دادی جان نماز سے فارغ ہوکر تلاوت شروع کرتیں تو وہ اُڑتا ہوا آتا اور آکر ان کے شانے پر ساکت بیٹھ جاتا اور جب تک تلاوت جاری رہتی، اسی طرح ادب سے بیٹھا رہتا۔
یہ سب کچھ تھا لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس نے کبھی گھر سے بھاگنے کی کوشش نہیں کی۔ شاید اس خونی چیل کا خوف ابھی تک اس کے ذہن میں بیٹھا ہواتھا۔
اور پھر ایک دن یہ کبوتر جس طرح خاموشی سے ہمارے گھر آیاتھا، اسی طرح چپ چاپ ہمیشہ کے لیے ہمیں اُداس چھوڑ کر چلاگیا۔

وہ بھی اتوار ہی کادن تھا اور صبح کے ساتھ بج رہے تھے۔ گھر کے سب لوگ بے خبر سو رہے تھے۔ صرف حمزہ اٹھ گیا تھا اور دادی جان اپنے کمرے میں تخت پر بیٹھی تلاوت کررہی تھیں۔حمزہ بلا لے کر باہرنکلنے ہی والا تھا کہ اطلاعی گھنٹی بجی۔
اس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو سفید کپڑے پہنے ایک لمباتڑلگا شخص کھڑا نظر آیا۔ اتنے لمبے قد کاآدمی حمزہ نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا، اس لیے قدرے حیران سا ہوگیا۔
جی فرمایئے؟ حمزہ نے بوکھلاہٹ بھرے لہجے میں کہا۔

آپ ہی حمزہ ہیں؟ اس آدمی نے مسکرکرنرم لہجے میں پوچھا: میرا مطلب ہے حمزہ خاور مسعود۔
جی ہاں ، میرا نام ہی حمزہ ہے، لیکن آپ کون؟
مجھے چھوڑیے۔ صرف یہ بتائیے کہ کیا آپ میری امانت مجھے واپس کرنا پسند کریں گے۔ حمزہ الجھن میں پڑگیا: امانت کیسی امانت؟ میں کچھ سمجھا نہیں۔

ایک سفید رنگ کا کبوتر جو تقریباََ دو مہینے سے آپ کے گھر میں پرورش پارہا ہے اور آپ نے ایک خونی چیل کے پنجے سے چھڑا کر ایک نئی زندگی بخشی ہے۔
حمزہ بوکھلا کردو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ کبوتر سے جدائی کے بارے میں تو اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

اچھا تو وہ آپ کا کبوتر ہے۔جسے آپ لینے آئے ہیں، لیکن وہ تو ہمارے گھر کا ایک فروبن چکا ہے اور ہم اس سے جدا ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ اس سے کتنا پیارکرتے ہیں، لیکن کچھ مجبوریاں ہیں کہ میں اسے آپ کے پاس نہیں چھوڑ سکتا۔
حمزہ میاں ! میں نہیں بتاسکتا کہ وہ کبوتر ہمارے لیے کتنا قیمتی ہے۔ آپ نے اس کی جان بچا کر مجھ پر جو احسان کیا ہے، میں اسے تاحیات نہیں بھولوں گا۔ کاش میں اس قابل ہوتا کہ آپ کے اس عظیم احسان کابدلہ چکا سکتا۔
عین اسی لمحے تلاوت سے فارغ ہوکر دادی جان بھی دروازے پر آگئیں۔
انھیں دیکھ کر اس آدمی نے بڑے ادب سے سلام کیا: اماں جی! میں اپنی امانت واپس لینے آیا ہوں، یعنی وہ سفید کبوتر جو دو مہینے سے آپ کے گھر میں رہ رہا ہے ۔
ٹھیک ہے آپ اپنی امانت واپس لے سکتے ہیں، لیکن اس کا ثبوت کیا ہے کہ یہ آپ ہی کا کبوتر ہے۔
دادی جان نے دل گرفتہ لہجے میں کہا۔ کبوتر سے جدائی کا تصور ان کے لیے بھی تکلیف دہ تھا۔
اسے میرے سامنے لائیے۔ آپ کو ثبوت مل جائے گا۔ اس آدمی نے کہا۔
لیکن کبوتر کو پکڑ کر سامنے لانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ وہ دادی جان کے کمرے سے اُڑتا ہوا آیا اور آکر ان کے شانے پر بیٹھ گیا اور پھر لمبے آدمی پر نظر پڑتے ہی اُچھل کر اس کے کاندھے پر جا بیٹھا اور جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
حمزہ کو ایسا لگا جیسے وہ کبوتر نہ ہو، ایک چھوٹا سا بچہ ہو جو بچھڑے ہوئے باپ کو پاکر خوشی سے نہال ہوگیا ہو۔ اس کی آنکھوں سے روشنی سی پھوٹ رہی تھی۔
آپ کی امانت آپ کو مبارک ۔ دادی جان نے گلوکیر آواز میں کہا اور لڑکھڑاتے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف چل دیں۔
اس آسمی نے کبوتر کو پکڑ کر اپنی قمیص کی بائیں جیب میں رکھا لیا اور حمزہ سے ہاتھ ملا کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا، جلدی نظروں غائب ہوگیا۔ حمزہ گیٹ سے باہر نکل کر اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا اور پھر اپنا بلا لینے گھر کے اندر آیا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔ سامنے ہی دیوار کے سہارے نیلے رنگ کی ایک بالکل نئی چمچماتی ہوئی ایسی سائیکل کھڑی تھی، جس کی تمنا برسوں سے اس کے دل میں تھی۔ کبور جاتے جاتے حمزہ کو اس کی پسندکا تحفہ دے گیا تھا۔

Your Thoughts and Comments