Kachway Ka Ghussa

Kachway Ka Ghussa

کچھوے کا غصہ

یہ بہت پرانے زمانے کا قصہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ کسی گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک خوب صورت تالاب تھے جس کے کنارے تین دوست رہا کرتے تھے ۔ ان میں ایک راج ہنس تھا ، ایک پیلی کن (حواصل جس کی لمبی سی چونچ کے نیچے تھیلی سی ہوتی ہے ) اور ایک کچھوا ۔ یہ تینوں یہاں کے اصل باشندے نہیں تھے ۔ ایک زبردست سیلاب کے نتیجے میں بہتے بہتے اس تالاب تک پہنچ گئے تھے ، پھر اس کی خوب صورتی دیکھ کر کریمیں بس گئے تھے ۔

سیدہ ملائکہ سرور :
یہ بہت پرانے زمانے کا قصہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ کسی گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک خوب صورت تالاب تھے جس کے کنارے تین دوست رہا کرتے تھے ۔ ان میں ایک راج ہنس تھا ، ایک پیلی کن (حواصل جس کی لمبی سی چونچ کے نیچے تھیلی سی ہوتی ہے ) اور ایک کچھوا ۔
یہ تینوں یہاں کے اصل باشندے نہیں تھے ۔ ایک زبردست سیلاب کے نتیجے میں بہتے بہتے اس تالاب تک پہنچ گئے تھے ، پھر اس کی خوب صورتی دیکھ کر کریمیں بس گئے تھے ۔
تینوں دوستوں کی زندگی بڑے آرام سے گزررہی تھی ۔ کسی قسم کی کوئی الجھن یا پریشانی نہیں تھی ۔
تالاب میں مچھلیاں اور آبی کیڑے مکوڑے بھرے پڑے تھے ، اس لیے خوراک کا کوئی مسلہ نہیں تھا۔ تینوں دوست دن بھر کھیلتے کودتے ، کھاتے پیتے اور شام کو تھک کر ایک دوسرے کے قریب سنہری ریت پر سو جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

البتہ گرمی کے موسم میں ان کو کچھ پریشانی ہوجاتی ۔

تالاب کا پانی سوکھ کر ایک چوتھائی رہ جاتا اور اسی لحاظ سے مچھلیاں اور آبی کیڑے مکوڑے بھی تھوڑے رہ جاتے ۔ اکثر انھیں خالی پیٹ ہی سونا پڑتا ۔ آخر مصیبت کے یہ دن ختم ہوجاتے ہیں ۔ برسات کا موسم آجاتا اور ہر طرف جل تھل ہوجاتا ۔
کھانے پینے کی بہتاب ہوجاتی اور ان کے عیش کے دن شروع ہوجاتے ۔
ایک سال کچھ ایسا ہوا کہ برسات کا موسم آیا تو ضرور، لیکن بن برسے گزرگیا ۔ دو ایک مرتبہ ہلکی پھلکی پھوار سی پڑی اور بس ! نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ تالاب سوکھ کر دلدلی کیچڑ میں تبدیل ہوگیا ۔
مچھلیوں اور آبی کیڑے مکوڑوں کو شکاری پرندے اُچک لے گئے اور یوں تینوں دوست کھانے کے عذاب میں مبتلا ہوگئے ۔ اب اس تالاب سے ہجرت کرنا لازمی ہوگیا تھا ، کیوں کہ موت دبے پاؤں ان کی طرف بڑھتی چلی آرہی تھی ۔ اب جائیں تو کہاں ! تب راج ہنس نے کہا : میں نے یہاں سے دس بارہ میل دور ایک بہت بڑا تالاب دیکھا ہے ،جوآج بھی پانی سے لبا لب بھرا ہوا ہے ۔
چلو، وہیں چلتے ہیں اور ایک نئی زندگی شروع کرتے ہیں ۔
اچھی تجویز ہے ۔ پیلی کن بولا : لیکن اس میں ایک مشکل ہے ۔ ہم دونوں کے لیے وہاں پہنچنا کوئی بڑی بات نہیں ، لیکن ہمارا دوست کچھوا ․․․․․کیا ہم اسے یہاں فاقہ کشتی سے مرجانے کے لیے چھوڑدیں ؟ یہ تو انتہائی خود غرضی والی بات ہوگی ۔

ہاں ! یہ توہے ۔ راج ہنس نے آہستہ سے شکست خوردہ لہجے میں کہا ؛ مسلسل فاقے کی وجہ سے ذہن نے بھی کام چھوڑ دیا ہے ۔ کوئی ڈھنگ کی تجویز سمجھ میں نہیں آرہی ۔ دونوں دوست اپنی اپنی جگہ سوچوں میں گم ہوگئے ۔
تھوڑی دیر بعد راج ہنس اپنے خیالات سے چونکا اور بولا : سنو دوست ! ایک تجویز سمجھ میں آئی ہے ۔
ہم کسی درخت کی ایک لمبی سی خشک شاخ لیتے ہیں ۔ اپنی اپنی چونچوں میں دونوں طرف سے پکڑتے ہیں اور ہمارا دوست کچھوا اس شاخ کو درمیان سے پکڑ کر لٹک جائے ۔بس دس پندرہ منٹ کی توبات ہے ۔ ہم تینوں اطمینان سے اس بڑے تالاب تک پہنچ جائیں گے ۔

بے وقوفی کی بات مت کرو۔ پیلی کن خوف زدہ ہوگیا : اگر اس دوران کچھوے نے منھ کھول دیا تو جانتے ہوکیا ہوگا ؟
میں ہرگز منھ نہیں کھولوں گا ۔ کچھوا جلدی سے بول پڑا : کیا میں بے وقوف ہوں کہ منھ کھول کر اپنی موت کو آوازدوں گا ۔
چلو ، سفر کاآغاز کرتے ہیں ۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو ۔
ایک بار پھر سوچ لومیرے دوست ! تم ایک انتہائی خطرناک کام کرنے جارہے ہو ۔ اگر کسی وجہ سے تمھارا منھ کھل گیا تو پرھ کوئی معجزہ ہی تمھیں بچا سکتا ہے ۔ پیلی کن ابھی تک اس تجویز سے متفق نہیں تھا ۔
پتا نہیں کیوں اس کا دل دھڑک رہا تھا ۔
کچھ نہیں ہوگا۔ اطمینان رکھو ، میں کسی قسمت پر منھ نہیں کھولوں گا ۔ کچھوے کے لہجے میں خود اعتمادی تھی ۔
آخر سفر شروع ہوا تو جلد ہی وہ علاقہ شروع ہوگیا ، جس کے قریب یہ تالاب واقع تھا ۔
بہت سارے بچے میدان میں کھیل رہے تھے ۔ تینوں کو اڑتے دیکھ کر شور مچانے لگے : واہ وا، کیا منظر ہے ، دوپرندے ایک کچھوے کو اُڑائے لیے چلے جارہے ہیں ، خوب ․․․․․ خوب ، یہ ہے سچی دوستی ۔
جلد ہی منظر غائب ہوگیا ۔ پانچ چھے منٹ کی اڑان کے بعد ایک میدان آگیا ۔
میدان میں فٹ بال کا میچ ہورہا تھا ۔ کھیل دیکھنے کے لیے سارا گاؤں جمع تھا ۔ اچانک کسی آدمی کو نظر ان پر پڑی تو وہ چیخنے لگا : اوپر دیکھو ․․․․․․ اوپردیکھو واہ کیا خوبصورت منظر ہے ۔ خوب ․․․․․ خوب ․․․․․ دو دوست اپنے تیسرے دوست کو ساتھ لے کر اُرتے چلے جارہے ہیں ۔
دوستی ہوتو ایسی ․․․․․ اور دوسرا آدمی بولا : کچھوے بھائی ! لکڑی کو خوب مضبوطی سے پکڑے رہنا ۔ اللہ تینون کی حفاظت کرے ۔
جلدہی یہ منظر بھی غائب ہوگیا ۔ میدان سے ذرا دور راج ہنس اورپیلی کن تھوڑی دیر سستانے کے لیے زمین پر اُتر آئے ۔
اتنا بھاری بوجھ لے کر اڑنے کاان دونوں کے لیے یہ پہلا موقع تھا ، اس لیے دونون ہی بری طرح تھک گئے تھے ۔ تھوڑی دیر سستانے کے بعد سفر پھر شروع ہوگیا ۔ اب پہاڑی علاقہ شروع ہوگیا تھا ۔ اب پہاڑی علاقہ شروع ہوگیا تھا ۔ خوفناک نوکیلی چٹانیں چاروں طرف بکھری ہوئی تھیں ۔

بس چھے سات منٹ کا سفر اور رہ گیا ہے ۔ راج ہنس نے کہا : پھر عیش ہی عیش ہے ۔ لکڑی کو کسی قیمت پر نہ چھوڑنا ۔ خواہ کچھ بھی ہوجائے ۔
تھوڑی دیر بعد وہ گاؤں آگیا ، جس سے تھوڑے فاصلے پر وہ بڑا ساتالاب تھا ، جہاں انھیں پہنچنا تھا ۔
گاؤں کے باہر ایک خالی جگہ پر ایک میلہ سالگا ہوا تھا ۔ بے شمار لوگ خرید وفروخت میں لگے ہوئے تھے ۔ اچانک ایک بچے کی نظر ان تینون پر پڑی تو وہ تالیاں بجانے لگا : وہ ․․․․․ وا․․․․․ کیا مزے کا منظر ہے دیکھو دیکھو ، کس طرح دو دوست اپنے تیسرے دوست کی مدد کررہے ہیں ۔
زندہ باد دوستو ! زندہ باد ․․․․ “
ارے او، بے وقوف کچھوے ! اچانک ایک آدمی چیخا : کیوں اپنی شامت کو آواز دے رہا ہے ۔ جانتا ہے اگر گرگیا تو تیرا قیمہ بن جائے گا ۔ اُلو گدھا کہیں کا ۔
کچھوا اب تک بڑی ثابت قدمی کے ساتھ لکڑی کو منھ سے پکڑے ہوئے تھا ، لیکن اس آدمی کے الفاظ سن کر کچھوے کو سخت غصہ آیا۔
غصے میں اس نے ساری احتیاط بالاے طاق رکھ دی اور طیش کے عالم میں چیخا تم خود ہوگے اُلو بے وقوف گدھے ، احمق ۔ بس یہی چند الفاظ تھے جو کچھوے کے منھ سے نکل سکے اور پھر وہ نیچے کی طرف چلا اور نیچے اور نیچے اور پھر پیارے بچو ! کچھوے کے ساتھ کہانی بھی ختم ہوگئی ۔

Your Thoughts and Comments