Kaisa Dost

Kaisa Dost

کیسا دوست

دروازے پر آہستہ انداز میں دستک ہوئی․․․زکریا نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا․․․وہ اس وقت اپنے گھر کے صحن میں تھا۔گھر کے باقی افراد اندرونی حصے میں تھے․․․․آہستہ دستک دینے کا مطلب تھا،آنے والا نہیں چاہتا کہ اس کے آنے کی کسی کو خبر ہو۔

اشتیاق احمد:
دروازے پر آہستہ انداز میں دستک ہوئی․․․زکریا نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا․․․وہ اس وقت اپنے گھر کے صحن میں تھا۔گھر کے باقی افراد اندرونی حصے میں تھے․․․․آہستہ دستک دینے کا مطلب تھا،آنے والا نہیں چاہتا کہ اس کے آنے کی کسی کو خبر ہو۔

وہ دبے پاؤں اٹھا اور کچھ بولے بغیر دروازہ کھول دیا․․․باہر زابل کے والد کھڑے تھے․․․اس نے انہیں وہیں ٹھہرنے کا اشارہ کیا اور اندر آکر ڈرائینگ روم کا دروازہ کھول دیا․․․دوسرے ہی لمحے زابل کے والد توقیر اندر آگئے․․․انہوں نے دبی آواز میں کہا:
”السلام علیکم بیٹا زکریا۔

وعلیکم السلام رحمتہ اللہ وبرکاتہُ․․․ چچا جان!میں آپ کا ہی انتظار کر رہا تھا۔مجھے آپ کا موبائل پر پیغام مل گیا تھا۔

(جاری ہے)


”شکریہ!اصل میں تمہیں تو پتا ہے․․بیٹا․․․زابل کا تمہارے بڑے دونوں بھائیوں سے کس قدر گہرانہ دوستانہ ہے․․․ہے نا۔


”اس لیے میں بہت زیادہ خاموشی سے آیا ہوں․․․․اگر زابل کو پتا چل گیا کہ میں یہاں آیا تھا تو سارا کھیل خراب ہوجائے گا۔“
”آپ فکر نہ کریں چچا جان․․․اس کمرے میں کوئی نہیں آئے گا․․․میں رات جو یہی بیٹھ کر مطالعہ کرتا ہوں․․․وہ سب اس وقت ٹی وی کے سامنے ہوتے ہیں․․․یہاں آنے کا تو کسی کوخیال تک نہیں آئے گا۔

”بس ٹھیک ہے․․․پھر بھی تم اندر سے احتیاطََ دروازہ بند کرلو․․․اور بیرونی دروازہ بھی بند کرلو․․․․پھر میں اپنی بات کرکے جس طرح آیا ہوں چلا جاؤں گا۔“
”جی اچھا۔“زکریا نے کہا اور اٹھ کو دونوں دروازے اند ر سے بند کرلیے۔

”اب فرمائیے․․․کیامسئلہ ہے۔“
”مسئلہ ہے زابل کا․․․نہ جانے اسے کیا ہوگیا ہے․․․پہلے تو ایسا نہیں تھا․․وہ روز بروز بگڑرہا ہے․․․ہم اسے جتنا سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں․․․وہ اتنا ہی سرکش ہورہا ہے․․․․خاص طور پر ۔
“وہ کہتے کہتے رک گئے۔
”جی چچا جان خاص طور پرکیا۔“
”خاص طور پر اس کا سلوک اپنی والدہ سے تو بہت زیادہ برا ہوتا جارہا ہے․․․ماں جونہی اسے سمجھانے کی کوشش کرتی ہے ․․․وہ کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے․․․یوں لگتا ہے اپنی ماں پر ہاتھ اٹھالے گا․․․ان حالات میں میں تمہارے پاس آیا ہوں․․تم اس کے دوست ہو․․․کیا تم نے اس میں تبدیلیاں محسوس نہیں کیں؟“
زکریا نے ان کی بات کا کوئی جواب نہ دیا․․․وہ گہری سوچ میں ڈوب چکا تھا․․․
”بیٹے!تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا؟“
”جی چچا جان !اصل میں ہمیں تو یہ بات آپ سے پہلے معلوم ہے․․․لیکن آپ پریشان نہ ہوجائیں اس لیے ہم خاموش تھے․․․میرے بڑے بیٹے نے تو مجھے باقاعدہ منع کردیا تھا کہ آپ کو کچھ نہ بتاؤں۔

”لیکن یہ بات تو ٹھیک نہیں۔“انہوں نے شکایت کے انداز میں کہا۔
”آپ یہ بات کہہ سکتے ہیں چچا جان!لیکن ہمارے حساب سے یہ بات بالکل ٹھیک تھی․․ہم نے سوچاتھا․․․زابل کی اصلاح کرنے کی اپنی کوشش کریں گے․․تاکہ آپ تک بات نہ پہنچے اور زابل ٹھیک ہوجائے․․․․ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا سلوک اپنے گھر والوں سے ایسا ہوجائے گا․․․اور چچا جان! اپنے طور پر کام کرنے سے یہ پتا چلالیا ہے․․․اسے بگاڑنے میں کس کا ہاتھ ہے․․․لیکن افسوس!ہم اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے․․ہمیں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا․․․ورنہ کا او ر بگڑ سکتا ہے۔

”کیا مطلب․․تم کیا کہنا چاہتے ہو۔“
”معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے چچا جان․․اب وہ ہماری بھی نہیں سنتا․․ہمیں جاننا یہ ہے کہ اسے آخر بگاڑ کون رہا ہے۔“
”اوہ! میں تو اس خیال میں تھا کے تم لوگوں کی مدد سے اس کی اصلاح ہوسکتی ہے․․․لیکن معاملہ تو اس سے کہیں زیادہ بگڑ چکا ہے․․․اب کیا ہوگا۔

”ہم تینوں اس معاملے پر غور کر رہے ہیں․․․آپ میرے بڑے بھائیوں کی طرف سے پریشان نہ ہوں․․․یہ معاملہ اب راز نہیں رہ گیا،انہیں بھی سب کچھ معلوم ہوچکا ہے․․ہم انشاء اللہ ایک دو روز تک آپ کو یہ بتانے کے قابل ہوجائیں گے کہ اسے کون خراب کررہا ہے۔

”اوہ ․․․اچھا۔“
اور پھر وہ چلے گئے․․زکریا اپنے بھائیوں کے پاس آیا․․․اس نے انہیں زابل کے والد کے بارے میں بتایا:
”ہاں! میںآ ج تم سے بات کرنے ہی والا تھا․․․میں نے اس نوجوان کا پتا چلا لیا ہے جو اسے خراب کر رہا ہے․․․وہ ایک بہت ہی آوارہ لڑکا ہے،نشہ بھی کرتا ہے․․․بس ہمارا زابل اس کے جال میں آگیا․․ہم زابل کو اس کے چنگل سے تو نکال نہیں سکتے تھے․․․کیوں کہ اس آوارہ لڑکے کے تعلقات اور بڑے بڑے آوارہ لوگوں سے ہیں اور اس طرح معاملہ ضرور بگڑ سکتا تھا․․․اسی لیے۔
“زکریا کے بھائی کہتے کہتے رک گئے۔
”اسی لیے کیا بھائی جان؟“
”اسی لیے میں ایک ایسا کام کر رہا ہوں کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
”جی․․کیا مطلب؟“زکریاچونکا۔
”میں چند دن بعد بتاؤں گا۔

چنددن گزرنے پر زکریا کے بڑے بھائی نے انہیں بتایا:
”زابل والا معاملہ سلجھ گیا ہے۔اب تم زابل کے والد کو جاکر خبر سنا سکتے ہو کہ اب انشاء اللہ بہت جلد زابل معمول پر آجائے گا۔“
”آخر کیسے بھائی جان! آپ نے کیا کیا ہی؟
”میرا ایک دوست سی آئی ڈی میں ہے․․․بس میں نے ان سے یہ کام لیا،لیکن یہ بات کسی کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں․․․وہ آوارہ لڑکا اور نہ جانے کتنے لڑکوں کو خراب کر رہا تھا․․․میرے ان دوست نے اس کا بہت ہی اچھا انتظام کر دیا ہے۔

”لیکن کیا؟“
”یہ انہوں نے نہیں بتایا․․ ان کا اپنا کام ہے․․․ہمیں جاننے کی ضرورت نہیں․․تم چند دن زابل کے ابا جان سے ملنا․․دیکھیں وہ کیا بتاتے ہیں۔“
چند دن بعد زکریا کے والد سے بات کی تو وہ اس قدر خوش تھے کہ انہوں نے گرم جوشی سے زکریا کو گلے سے لگا لیا․․․اور لگے بار بار اس کا شکریہ ادا کرنے․․․․

Your Thoughts and Comments