Kanjoosi Ki Saza

Kanjoosi Ki Saza

کنجوسی کی سزا

بہت دنوں کی بات ہے ۔بغداد میں ایک سوداگر رہتا تھا جس کا نام ابو قاسم تھا۔وہ بہت کنجوس تھا۔ایک ایک پیسے پر جان دیتا تھا۔

خدیجہ مغل
بہت دنوں کی بات ہے ۔بغداد میں ایک سوداگر رہتا تھا جس کا نام ابو قاسم تھا۔وہ بہت کنجوس تھا۔ایک ایک پیسے پر جان دیتا تھا۔
ابو قاسم کے پس روپوں کے ڈھیر لگے تھے وہ انہیں روز گنتا اور بہت خوش ہوتا۔
دن رات اسی فکر میں رہتا کہ کسی طرح اسکی دولت بڑھتی رہے مگر گھٹے نہیں سارے بغداد کو معلوم تھا کہ ابو قاسم بہت امیر آدمی ہے۔مگر ابو قاسم سب کو یہی کہتا کہ وہ بہت غریب آدمی ہے۔وہ روکھی سوکھی کھاتا تھا۔اسکے کپڑوں پر جگہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے اور اتنے گندھے ہوتے کہہ دیکھنے سے ہی گھن آتی تھی اور اسکے جوتے؟توبہ توبہ جوتے تو ایسے تھے کہ دیکھنے سے بھی گھن آتی بھکاریوں کے پاس بھی اچھے جوتے تھے ان جوتوں کی اتنی دفعہ مرمت ہوئی کہ اصل چمڑا غائب ہو گیا تھا اور پیوند ہی پیوند دکھائی دیتے تھے۔

(جاری ہے)

ابو قاسم کے دوست اسے کہتے تھے۔میاں تم نے تو بھکاریوں کو بھی مات دے ڈالی ۔ارے بھئی اب تو نئے جوتے خرید لو۔ان کی جان چھوڑ دو۔ابو قاسم کہتاتھا۔ابھی تو یہ بہت چلیں گئے۔پھینک کیسے دوں؟
تو ابو قاسم یہی جوتے پہن کر روازنہ بازار جاتا تھا پرانامال بیچتا اور نئا خریدتا اور خوب نفع کماتا تھا۔
اسکی دولت بڑھتی جارہی تھی ایک دن ابو قاسم نے بہت سی شیشاں خوبصورت سی نازک سی خریدیں۔پھر اس نے بڑھیا عطر خریدا۔
ابو قاسم شیشاں گھر لے آیا اور عطر بھی۔اس نے شیشوں میں عطر بھرا اور خوش ہو کر بولا۔آہا! یہ عطربیچ کر خوب منافع کماؤں گا۔

اسی خوشی میں اس نے سوچا کہ آج کسی شاندار حمام میں غسل کرنا چاہیئے۔قاسم حمام میں گیا تو وہاں کچھ دوست مل گئے ۔انہوں نے اسکے پھٹے پرانے جوتے دیکھے تو بولے بھئی اگر پیسے نہیں خرچ کرنا چاہتے تو ہم سے لو مگر خدارا یہ جوتے تبدیل کر لو۔

قاسم نے ہنس کر بات ٹال دی۔پھر اس نے جوتے اور کپڑے اتارکر ایک طرف رکھ دیے اور غسل خانے میں گھس گیا۔اتنے میں شہر کا کوتوال حمام میں نہانے کے لیے آگیا۔اس نے بھی کپڑے اور جوتے اتارے اور دوسرے غسل خانے میں چلا گیا۔ابو قاسم غسل کر چکا تو باہر نکلا اور کپڑے پہننے لگا۔
اب جو اس کی نظر جوتوں پر پڑی تو ہکا بکا رہ گیا ۔اسکے پھٹے پرانے جوتوں کے بجائے با لکل نئے جوتے رکھے ہوئے تھے۔ابوقاسم کچھ دیر تو سر کھجاتا رہا پھر اس نے سوچا۔شایدمیرے دوستوں نے میرے لیے نئے جوتے خریدے ہوں۔چلو مفت میں جوتے مل گئے۔
میرے پیسے بچ گئے۔یہ سوچ کر اس نے جوتے پہن لیے اور خوشی خوشی گھر کی طرف چل دیا۔اب مزے کی بات یہ کہ مسخرے نے ابوقاسم کے جوتے اٹھا کر کوتوال کے کے کپڑوں کے پاس رکھ دیے اور کوتوال کے جوتے ابوقاسم کے کپڑوں کے پاس رکھ دیے۔کوتوال باہر نکلا تو اپنے جوتوں کی جگہ ابوقاسم کے جوتے دیکھ کر غصے سے آگ بگولہ ہوگیا۔
اس کے سپاہیوں نے حمام کا چپا چپا چھان مارا مگر جوتے نہ ملے۔ملتے کیسے وہ تو ابوقاسم پہن کر چل دیاتھا۔
ابوقاسم کے جوتے سارے شہر میں مشہور تھے۔لوگوں نے دیکھتے ہی پہچان لیاکہ یہ اسکے جوتے ہیں۔کوتوال نے حکم دیا کہ ابوقاسم کو اسکے سامنے پیش کیا جائے۔
اس نے نئے جوتے خریدنے کی بجائے ہمارے جوتے چرالیے ہیں۔
سپاہیوں نے جاتے ہی ابوقاسم کی مشکیں کس لیں اور اسے گھسیٹتے ہوئے کوتوال کے پاس لے آئے۔کوتوال نے اسے ایک ہزار روپے جرمانہ کیا اور اپنے جوتے واپس لے لیے اور اس کے واپس کر دیے۔
ان جوتوں کی وجہ سے سارے بغداد میں ابوقاسم کی بدنامی ہوئی اور اسے ایک ہزار روپے سے ہاتھ دھونے پڑے۔اس نے سوچا یہ جوتے مصیبت ہیں انہیں کہیں دور پھینک دینا چاہیے۔
اس نے گھر آکر کھڑکی کھولی اور جوتوں کو باہر پھینک دیا۔کھڑکی کے نیچے دریا بہتا تھا۔
جوتے دریا میں جا گرے۔دوسرے دن مچھیرے نے دریا میں جال ڈالا جال میں مچھلیوں کی بجائے ابوقاسم کے جوتے پھنس گئے جس سے مچھیرے کا جال جگہ جگہ سے کٹ گیا۔وہ اس لیے کہ جوتوں میں جگہ جگہ کیلیں باہر نکلی ہوئی تھیں۔مچھیرا غصے میں آگیا ۔
اس نے جوتے اٹھائے اور ابوقاسم کی کھڑکی کے اندر پھینک دیے۔
کھڑکی کے پاس عطر کی شیشیاں پڑی تھیں۔جوتے پٹاخ سے شیشیوں پہ گر ے۔شیشیاں فرش پر گر کر چور چور ہوگئیں اور سارا عطر بھی بہہ گیا۔بے چارہ ابوقاسم سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
اس کا سینکڑوں کا نقصان ہو گیا تھا۔اب تو ان جوتوں کی شکل سے نفرت ہوگئی تھی۔اس نے سوچا اسے ایسی جگہ پھینکنا چاہیے جہاں سے کسی کو بھی نہ ملیں۔اسکے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔وہ خوش ہو کر بولا۔بس یہ ٹھیک رہے گا زمین میں دبا دوں ،ابوقاسم اپنے باغ میں گیا اور گڑھا کھودنے لگا۔
ایک پڑوسی ادھر نکل آیا ۔اس نے ابوقاسم کو گڑھا کھودتے ہوئے دیکھا تو دل میں کہنے لگا۔ضرور اسے کوئی خزانہ ملا ہیتو جب ہی یہ گڑھا کھود رہا ہے۔میں ابھی جاکر وزیر کوبتاتا ہوں۔بادشاہ کا حکم تھا جب کسی کو خزانہ ملے تو فورا حکومت کو خبر کردے ورنہ سخت سزا ملے گی۔
وزیر نے ابوقاسم سے پوچھا ۔بتاؤ خزانہ کدھر ہے؟
ابوقاسم نے کہا حضور خزانہ کیسا؟میں تو اپنے جوتے زمین میں گاڑ رہا تھا۔
وزیر بولا۔کوئی جوتے بھی زمین میں گاڑھتا ہے؟ضرور تمھیں کوئی خزانہ ملا ہے۔سچ سچ بتاؤ ورنہ ایسی سزا دوں گا عمر بھر یاد رکھو گئے۔

ابوقاسم بہتیرا چینخا چلایا،قسمیں کھائیں مگر وزیر نے ایک نہ مانی اور اس پر اسے دس ہزار روپے جرمانہ کردیا۔
ابوقاسم روتا پیٹتا گھر آیا۔یہ جوتے اس کے لیے عذاب بن گئے تھے۔ان کی وجہ سے اسے ہزاروں روپے کا نقصان ہو گیا تھا۔
وہ چاہتا تھا کہ اسے ایسی جگہ پھینک دے کہاں سے کبھی بھی نہ مل سکیں۔
دوسرے دن ابوقاسم صبح سویرے نکلا اور دوسرے شہر چلا گیا یہاں ایک تالاب تھا۔ابوقاسم جوتے تالاب میں ڈال دیے ۔اور اسوقت تک انہیں دیکھتا رہا جب تک وہ مکمل ڈوب نہ گئے۔
تب اس نے سکون کا سانس لیا اور گھر کی راہ لی۔
لیکن وہ تا لاب کوئی معمولی تا لاب نہیں تھا۔اس تا لاب سے پائپ کے ذریعے بغداد کو پانی جایا کرتا تھا۔اور یہی پانی سارا شہر استعمال کرتا تھا۔ابو قاسم کے جوتے بہتے بہتے پائپ تک پہنچ گئے اور اسمیں ایسے پھنسے کہ پائپ کا منہ بند ہو گیا۔

اس دب بغداد والوں کو پانی کی ایک بوند نصیب نہ ہوئی۔سارے شہر میں شور مچ گیا ۔لوگ جلوس نکالنے لگے۔بادشاہ کے سپاہی دوڑے دوڑے تالاب پر گئے۔دو آدمی کشتی میں بیٹھے اور تالاب کھنگالا تو ان کے ہاتھ ابوقاسم کے جوتے آئے۔سپاہی دیکھتے ہی پہچان گئے کہ یہ ابوقاسم کے جوتے ہیں۔
اس دفعہ ابوقاسم کو ایک مہینہ جیل میں رہنا پڑا اور دس ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا پڑا۔اس کے بعد اس نے سوچا جوتے جلا دیے جائیں لیکن جوتے گیلے تھے تو وہ انہیں سکھانے کے لیے چھت پہ لے جا رہا تھا اسکے ساتھ اسکا کتا بھی تھا۔نیچے بادشاہ سلامت کی سواری گزررہی تو کتے نے جوتے کو ٹھوکر مار کر نیچے گرادی ۔
جوتا بادشاہ سلامت کے سر پر جا لگاتوسپاہیوں نے اسے گرفتار کرلیا۔اس کو دو سال کی قید کی سزا ہوئی۔اور ساٹھ ہزار روپے جرمانہ۔اب ابوقاسم نے بادشاہ سلامت کو ساری کہانی سنا ڈالی اور سزاکم کرنے کی درخواست کی۔بادشاہ نے اسکی سزا معاف کردی ۔اب ابوقاسم با لکل کنگال ہو چکا تھا۔اس نے سوچا کہ پہلی فرصت میں ہی اسے نئے جوتے خریدنے ہیں۔کیونکہ اب وہ سمجھ دار ہو گیا تھا ۔
ختم شد

Your Thoughts and Comments