khas kam

Khas Kam

خاص کا م

ماہین دیر سے اپنے دونوں بھائیوں کا انتظار کررہی تھی ۔وہ اب تک گھر نہیں لوٹے تھے ۔جب اس کا انتظار طویل ہو گیا تو وہ اپنی امی کے پاس آئی اور بولی :”امی ! بھائی اب تک کیوں نہیں آئے؟“

غلام محی الدین ترک
ماہین دیر سے اپنے دونوں بھائیوں کا انتظار کررہی تھی ۔وہ اب تک گھر نہیں لوٹے تھے ۔جب اس کا انتظار طویل ہو گیا تو وہ اپنی امی کے پاس آئی اور بولی :”امی ! بھائی اب تک کیوں نہیں آئے؟“
”بیٹا ! انھیں ایک خاص کام مکمل کرنا ہے ،بس کچھ ہی دیر میں آنے والے ہوں گے ۔

“امی نے اسے پیار کرتے ہوئے جواب دیا۔
ماہین کی نظریں دروازے پرہی لگی ہوئی تھیں ۔اسے نیند آنے لگی اور آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں بند ہو گئیں ۔
یہ ایک چھوٹا سا گھرانہ تھا ،جہاں ماہین اپنی امی اور دوبھائیوں راشد اور عمران کے ساتھ رہتی تھی ۔
ان کے ابو کا انتقال ہو چکا تھا ،اس لیے گھر کی ذمے داری دونوں بھائیوں پر آن پڑی تھی ۔دونوں بھائی بہت محنتی تھے اور گھر بھر کا بوجھ انھوں نے اپنے کندھوں پر اُٹھا رکھا تھا ۔

(جاری ہے)

دونوں جب کام پر سے واپس آتے تو ماہین کو سیر کرانے ایک قریبی پارک لے جاتے ،جہاں کئی جھولے بھی لگے ہوئے تھے ۔

ماہین ان جھولوں پر جھولا کرتی ۔جب اس کا دل بھرجاتا تو وہ گھر کی راہ لیتے ۔
راشد اور عمران جب گھر میں داخل ہوئے تو ماہین سو چکی تھی ۔ان کے پاؤں مٹی سے اَٹے ہوئے تھے ۔چہروں سے بھی تھکاوٹ ظاہر ہورہی تھی۔انھوں نے ماہین کو سوتے ہوئے پایا تو اُداس ہو گئے ۔

”آج ہم اسے پارک میں نہیں لے جا سکے ۔“راشد کے لہجے میں افسر دگی تھی ۔
”آج ہم اتنی دیرسے جو آئے ہیں ۔“عمران نے کہا تو راشد نے سر ہلادیا ۔
اگلی صبح ماہین کی آنکھ کھلی تودونوں بھائی اسے نظر نہ آئے۔وہ امی کے پاس آئی ۔

”امی ! بھائی کہاں ہیں ؟“اس نے رونی صورت بنا کر پوچھا ۔
”بیٹا ! وہ تو صبح سویرے ہی کام پر جا چکے ہیں ۔“امی نے جواب دیا۔
”مگر اتنی جلدی ،وہ تو دیر سے کام پر جاتے ہیں نا؟“ماہین نے معصومیت سے سوال کیا۔

”بیٹا ! میں نے کل کہا تھا نا،انھیں ایک خاص کام مکمل کرنا ہے ،شاید اسی لیے وہ جلد چلے گئے ہیں ۔“امی نے جواب دیا۔
امی کا جواب سن کر وہ افسردہ ہو گئی ۔اس نے ٹھیک طرح سے ناشتہ نہیں کیا ۔اسکول میں وقفے کے دوران بھی اسے بھائیوں کا خیال آتا رہا ۔
اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ دوڑ کر اس جگہ پہنچ جائے ،جہاں اس کے بھائی کام کرتے تھے ،مگر یہ اس کے لیے ممکن نہیں تھا۔اب اسے شدت سے شام کا انتظار تھا ۔بھائیوں کا انتظار کرتے کرتے دو پہر سے شام اور پھر رات ہونے لگی ،وہ اب تک نہیں لوٹے تھے ۔
انتظار کرتے کرتے وہ آج بھی نیند کی وادیوں میں کھو گئی ۔اب تو روز یہی ہونے لگا ۔دونوں بھائی اس کے اُٹھنے سے پہلے کا م پر روانہ ہو جاتے اور جب گھر واپس آتے ماہین انتظار کرکے سو چکی ہوتی ۔
ایک دن جب ماہین اسکول جانے لگی تو جاتے ہوئے بولی :”امی ! کیا بھائی مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں ،کئی دنوں سے مجھے پارک بھی نہیں لے گئے۔

امی نے اس کی آنکھوں میں نمی تیرتے دیکھی تو ان کا دل تڑپ کررہ گیا۔
”بیٹا ! ایسی بات نہیں ،چند دنوں کی بات ہے ،یہ دن تو جلدی ہی گزر جائیں گے ۔“امی نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔ان کی بات سن کر ماہین کے دل کو تسلی ہوئی ۔

کل اتوار تھا ،ماہین اسکول سے واپس آئی تو کھانا کھا کر رات تک سوتی رہی ۔رات میں وہ جاگ رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔ماہین نے بھاگ کر دروازہ کھولا۔دونوں بھائیوں نے اسے حیرت سے دیکھا ۔اچانک ہی اس کی نظر یں دونوں کے پیروں پر پڑیں ۔
ان کے پاؤں اور چپل گرد آلود ہو چکے تھے ۔
اس نے سوچا :”بھائی تو صاف ستھرے رہتے ہیں ،پھر ان کے پاؤں اور چپلوں پر مٹی کیسی ؟“
”ماہین ! یہاں آؤ۔“امی نے اسے آواز دی اوروہ دوڑی چلی آئی ۔
”کل ہم پارک جائیں گے ،ابھی تم سو جاؤ ۔
“امی نے اسے زبردستی سلادیا۔
ماہین سو کر اُٹھی تو دونوں بھائی موجود نہیں تھے ۔وہ جلدی سے امی کے پاس آئی وہ اسے دیکھتے ہی بولیں :”بیٹا ! تمھارے بھائیوں کا وہ خاص کام مکمل ہونے ہی والا ہے ، اس لیے وہ آج بھی کام پرگئے ہیں ۔

یہ سن کر ما ہین اُداس ہو گئی ۔امی نے اس کی اُداسی دیکھی تو اسے پارک لے گئیں ۔کئی دنوں بعد اسے جھولنے سے اس کی طبیعت بہل گئی ۔صبح جب وہ اسکول گئی تو استانی نے بتایا کہ کل ہم سب چڑیا گھر کی سیر کرنے جارہے ہیں ،اس لیے آپ سب اپنے امی ابو کو بتادیں کہ کل واپسی دیر سے ہو گی ۔
ماہین چڑیا گھر کی سیر کی سن کر بڑی خوشی ہوئی ۔اسی خوشی میں وہ جلد ہی سو گئی ۔اگلے دن اسکول اسمبلی کے بعد سب بچوں کو چڑیا گھر لے جایا گیا ۔
شام تک چڑیا گھر میں سیروتفریح کے بعد جب بچوں کا جی بھر گیا تو استانیوں نے انھیں وین میں بیٹھنے کی ہدایت کی ۔
ان کے بیٹھنے کے بعد وین روانہ ہوئی ۔گاڑیوں کے ہجوم کی وجہ سے آہستہ آہستہ چل رہی تھی ۔شام سے اب رات ہو چکی تھی ۔کئی بچے وین میں ہی سو چکے تھے ۔ماہین کو بھی نیند آرہی تھی کہ اچانک ہی اسے دونوں بھائی نظر آئے ۔وہ دونوں پیدل تھے ،شاید سستانے کے لیے رک گئے تھے ۔

اچانک اس کے کان میں آواز آئی:”اگر ہم ایک ماہ سے پیدل چلنے کے عادی نہ ہوتے تو دوسروں کی طرح ٹریفک میں پھنسے ہوتے ۔“یہ اس کے بھائی عمران کی آواز تھی ۔
”ہاں بھائی ! ہم نے پیدل چل کر کافی پیسے بچالیے ہیں اور ہمیں چھٹی والے دن کام کرنے کے پیسے بھی مل جائیں گے ۔
اس طرح ہم اپنی پیاری بہن ماہین کی سال گرہ پر اس کی پسند کا تحفہ ضرور خرید سکیں گے ۔“راشد نے کہا اور اپنے قدم تیزی سے آگے بڑھائے۔
ماہین نے جب ان کی باتیں سنیں تو اس کی نیند غائب ہو گئی ۔اسے یاد آیا کہ ایک ماہ پہلے اس نے دونوں سے ایک منہگے تحفہ کی فرمایش کی تھی ۔

”اُف ،میری فرمائیش پوری کرنے کے لیے بھائیوں نے اتنی تکلیف اُٹھائی ۔تو یہی وہ خاص کا م تھا ،جس کے بارے میں امی نے بتایا تھا ۔“
اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے ۔اسے بھائیوں کی قربانی کا اندازہ ہو چکا تھا ۔اسے اپنے بھائیوں پر فخر تھا ۔اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ بھائیوں سے کوئی فرمائیش نہیں کرے گی ۔

Your Thoughts and Comments