Khoda Pahar Nikla Chooha

Khoda Pahar Nikla Chooha

کھودا پہاڑ نکلا چوہا

رات بھر وہ خوف سے کپکپاتارہا

عفیفہ عمران:
فاران کو جاسوسی کرنے کا بے حد شوق تھا وہ اپنے آپ کو جاسوسی فلموں کا ہیرو سمجھتا تھا۔اس کے گھر والے اس عادت سے بہت تنگ تھے۔ فاران پر اگر اسی طرح جاسوسی کابھوت سواررہا تو کسی دن یہ ہم سب کے لیے کوئی بڑی مصیبت نہ کھڑی کردے۔
انہی باتوں کی وجہ سے اس کاپڑھائی میں بھی دل نہیں لگتا۔ آخر اس کا ہوگا کیا“ امی نے متفکر ہوکر ابو سے کہا: اسے سمجھا سمجھا کرتھک گئے ہیں لیکن اس کے کانوں پر جیسے جوں ہی نہیں رینگتی۔ آئے دن محلے سے شکایتیں آتی رہتی ہیں۔
بس اب میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اسے بورڈنگ میں داخل کرا دوں گا، وہاں پابندرہے گا تو جاسوسی کاشوق ختم ہوجائے گا۔ ابو غصے سے بولتے چلے گئے۔ بالآخر فاران کو بورڈنگ ہاؤس میں داخل کروایا گیا۔

(جاری ہے)

یہاں صبح کے ناشتے کے لیے رات میں ہی ہر بچے کا بن ڈبل روٹی منگوالیا جاتا تھا کیونکہ بیکری صبح جلدی نہیں کھلتی تھی۔

دو چار دن سے بورڈنگ ہاؤس میں عجیب بات محسوس کی گئی کہ روزانہ ایک بچے کا بن غائب ہوجاتا۔فاران کی جس جاسوسی اس موقع پر بھڑک اٹھی۔ رات کو جب سب سوگئے تو وہ اپنے بستر پر بیٹھے کمرے میں چاروں طرف نظریں دواڑنے لگا۔ اچانک اس نے ایسی عجیب بات دیکھی کہ بے اختیار لیٹ کر چادر سر تک تان لی اور کانپنے لگا۔
رات بھر وہ خوف سے کپکپاتا رہا۔ صبح پھر اسکول سراسیمگی کاعالم میں تھا کیونکہ ایک اور بن غائب تھا۔ کسی کو معلوم ہویا نہ ہو مگر فاران کو معلوم تھا کہ چور کون ہے؟ اس نے ایک بچے سے کہا مجھے معلوم ہے کہ چور کون ہے؟ کون اور تمہیں کیسے معلوم“ بچے نے پوچھا “ جن ․․․․․․․نن! اس نے نون پر زور دے کر کہا:
جن․․․․․․؟ کیا مطلب․․․․․․․ وہ بچہ اور حیران ہوگیا۔
فاران نے چہر خوفناک بناتے ہوئے کہا ” ہاں حسن،
مگر وہ بجائے فاران سے متاثر ہوتا، اس کامذاق اڑانے لگا۔ اگلی رات جب سب سوگئے تو وہ پھر جاسوسی میں لگ گیا۔ ابھی وہ سوچ رہا تھا کہ اچانک اسے اپنے قریب کچھ آہٹ سنائی دی۔
اس نے ایک جھٹکے سے آہٹ کی جانب دیکھا تو اسے اپنے نیچے سے بستر نکلتا محسوس ہوا۔ ایک اور بچے کابن خود بخود کھسک رہاتھا۔ وہ آنکھیں پھاڑے اسے کھسکتا دیکھ رہاتھا۔اتنا بڑا گول بن زمین پر کھسک نہیں رہاتھا۔ بلکہ تھوڑا سا اوپر کو اٹھ کرفضا میں اڑرہا تھا۔
وہ تھر تھر کانپنے لگے اور پھر اس نے ذرا غور سے دیکھا تو اسے بن کے نیچے ایک کالے رنگ کی چیز نظر آئی۔اس نے کاپنتے ہوئے تھوڑا جھک کر غورسے دیکھا تو اس کی بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی۔ اس کی ہنسی سن کر باقی بچے بھی گھبرا کر اٹھ بیٹھے۔
کیا ہوا؟ ایک نے پوچھا، ارے کیوں ہنس رہے ہو اتنی رات کو ؟ ایک اور بولا۔ فاران سب باتوں سے بے نیاز، بس اس بن کو دیکھے جا رہاتھا جواب کافی دور نکل چکا تھا۔ پھر باقی بچوں کی نگاہیں بھی اس کی نگاہوں کی سیدھ میں گئیں۔سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔
اتنے بڑے بن کے نیچے چھوٹی سے چوہیا ایسی لگ رہی تھی جیسے کوئی پستہ قدمزدور فوم کا گدا اٹھائے چلاجارہا ہو۔ اچھا تو یہ ہے بن چور، دھت تیرے کی۔ کئی بچوں کے منہ سے نکلا اور کمرا قہقہوں سے گونج اٹھا ۔ چوہیا ان کے قہقہوں سے خوفزدہ ہوکربن چھوڑ کر سرپٹ بھاگ گئی۔ فاران نے بے اختیار کہا” یہ وہی مثال ہوگئی، کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔

Your Thoughts and Comments