Khud Aitmad - Article No. 1579

خود اعتماد

گاؤں کا رہنے والا سیدھا سادا شخص جس کا نام ٹیپو تھا،اس کی ایک عادت بہت اچھی تھی کہ وہ خود پر یقین رکھتاتھا اور ہر مشکل کام میں اپنی اس خوبی کی وجہ سے کامیاب ہو جاتا تھا۔

منگل نومبر

Khud Aitmad

محمد جنید راؤ سر فراز علی،کراچی
گاؤں کا رہنے والا سیدھا سادا شخص جس کا نام ٹیپو تھا،اس کی ایک عادت بہت اچھی تھی کہ وہ خود پر یقین رکھتاتھا اور ہر مشکل کام میں اپنی اس خوبی کی وجہ سے کامیاب ہو جاتا تھا۔ایک روز وہ یہ سوچ کر شہر میں اپنی روزی تلاش کرنے کے لیے آیا تھا کہ اگر شہر میں کوئی اچھی نوکری مل گئی تو اپنے گھر والوں کو بھی شہر بلا لوں گا۔

ٹیپو ایک محنتی لڑکا تھا اسے شہر میں رہتے ہوئے چار روز ہو گئے تھے۔پانچویں روز جب وہ ٹوٹی سڑک سے جارہا تھا تو اچانک کسی نے پیچھے سے آواز دی:”میاں !تھوڑا سا دھکا لگا دو گے۔“
ٹیپو نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک سفید داڑھی والے صاحب اپنی گاڑی کے پاس پریشان کھڑے تھے۔
انھوں نے ہی ٹیپو کو آواز دی تھی۔

(جاری ہے)

ٹیپو نے دھکا لگا کر ان کی مدد کر دی۔انھوں نے ٹیپو کا شکریہ ادا کیا اور پوچھا:”میاں کہاں سے آئے ہو شہر کے تو نہیں لگتے۔“
ٹیپو نے جواب دیا:”بڑے صاحب!میں احمد پور گاؤں سے شہر میں نوکری کی تلاش میں آیا ہوں۔

“بڑے صاحب نے پوچھا:”میاں !تم کتنا پڑھے ہو؟“ٹیپو نے کہا:”میں میٹر ک پاس ہوں۔“
انھوں نے اسے گاڑی میں بیٹھایا اور کہا کہ میرا ڈرائیور بہت زیادہ بوڑھا ہو گیا ہے اور اس کی نظر بھی کمزور ہو گئی ہے۔تم گاڑی چلا سکتے ہوتو کل سے میرے پاس آجاؤ۔

ٹیپو نے بتایا کہ مجھے گاڑی چلانا تو نہیں آتی پر آپ موقع دیں تو جلدی سیکھ جاؤں گا۔“
انھوں نے کہا:”ٹھیک ہے۔“وہ ٹیپو کو اپنے گھر لے گئے اور اپنی گاڑی کی چابی اپنے نوکر کودی اور کہا کہ ٹیپو کو گاڑی چلانا سیکھا دو۔

وہ ان کا ڈرائیور تھا،مگر عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے بڑے صاحب نے اسے گھر کے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے رکھ لیا تھا۔اب نوکر ٹیپو کو گاڑی سیکھانے کے لیے روز لے کر جاتا تو تھا،لیکن بجائے اسے گاڑی سیکھانے کہ باتوں میں اُلجھائے رکھتا ،کیوں کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی جگہ کوئی اور لے۔
اسی وجہ سے وہ ٹیپو کو دھیرے دھیرے ڈرانے بھی لگا کہ بہت مشکل کام ہے اگر کچھ خراب ہو گیا تو گاڑی خراب ہو جاتی ہے اور تنخواہ سے پیسے کاٹ لیے جاتے ہیں اور کام سے بھی نکال دیتے ہیں۔ ٹیپوکواپنے آپ پر بھروسا تھا اور وہ ڈرنے والوں میں سے نہیں تھا۔
ٹیپو جب بھی اس کے ساتھ گاڑی میں جاتا تو اسے خاموشی سے دیکھتا رہتا کہ گاڑی کیسے چلا تاہے۔ابھی دس روز گزرے ہی تھے کہ نوکر چھٹی لے کر گاؤں چلا گیا۔اب ٹیپو کچھ گھبرا رہا تھاکہ اکیلے گاڑی کیسے لے کر باہر جائے۔اسے ڈر بھی تھا کہ کہیں کچھ ہو گیا تو نوکری بھی نہیں ملے گی۔
ٹیپو ابھی گاڑی میں بیٹھا ہی تھا کہ بڑے صاحب نے اسے آواز دی اور ایک ضروری کام سے پاس والی مارکیٹ میں چلنے کو کہا،پھر پوچھا:”میاں !تم گاڑی چلا لوں گے؟“
ٹیپو نے ہچکچاتے ہوئے جی جی کہا اور تھوڑی ہمت پیدا کی اور دھیرے دھیرے چلنا شروع کیا۔
بڑے صاحب چپکے چپکے مسکرارہے تھے ،کیونکہ وہ کوئی ضروری کام سے مارکیٹ نہیں جارہے تھے،بلکہ وہ صرف ٹیپو کا حوصلہ بڑھانا چاہتے تھے ۔ٹیپو دھیرے دھیرے انھیں واپس گھر بھی لے آیا۔بڑے صاحب بہت خوش ہوئے اور ٹیپو کی حوصلہ افزائی کی اور اسے بخشش بھی دی۔ٹیپو کو اپنے آپ پر یقین تھا کہ وہ یہ کام کر لے گا اور اس نے کر دکھایا۔اسی وجہ سے نوکری بھی مل گئی اور وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ شہر میں ہی بس گیا۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Qissa Aik Bheriye Ka

قصہ ایک بھیڑیے کا

Qissa Aik Bheriye Ka

Dost Banay Dushman

دوست بنے دشمن

Dost Banay Dushman

Bojh Utar Gaya

بوجھ اتر گیا

Bojh Utar Gaya

Main Kaghaz HooN

میں کاغذ ہوں

Main Kaghaz HooN

Jhot Ki Saza

جھوٹ کی سزا

Jhot Ki Saza

Masheeni Khawab

مشینی خواب

Masheeni Khawab

Parindon Ka Badshah

پرندوں کا بادشاہ

Parindon Ka Badshah

Jo Huwa Acha Huwa

جوہوا اچھا ہوا

Jo Huwa Acha Huwa

Mehnat Karen Kamyabi Payen

محنت کریں کامیابی پائیں

Mehnat Karen Kamyabi Payen

Gehre Samundar K Heeran Kun Haqaiq

گہرے سمندر کے حیران کن حقائق

Gehre Samundar K Heeran Kun Haqaiq

Khwahish

خواہش

Khwahish

حوصلہ

Hosila

Your Thoughts and Comments