khwahish

Khwahish

خواہش

آٹھ سالہ سیف کی خواہش تھی کہ ،اُسے کہیں سے ایسی طاقت مل جائے کہ وہ جوخواہش کرے ،فوراً پوری ہو جائے، لیکن اُس کی یہ خواہش کسی طرح پوری ہوتی نظر نہیں آرہی تھی

احمد عدنان طارق
آٹھ سالہ سیف کی خواہش تھی کہ ،اُسے کہیں سے ایسی طاقت مل جائے کہ وہ جوخواہش کرے ،فوراً پوری ہو جائے، لیکن اُس کی یہ خواہش کسی طرح پوری ہوتی نظر نہیں آرہی تھی۔اُس نے بڑے طریقے آزمائے اور اُس کے بعد بھی جو خواہش کی ،وہ پوری نہیں ہوئی۔


ایک دن وہ جنگل کی طرف جارہا تھاتو اُسے راستے میں ایک بونا ملا جس کا نام عنیق تھا۔وہ بھی ایک پگڈ نڈی پر چلتا ہوا جنگل میں جارہا تھا۔سیف کی نظر اُس پر پڑی تو وہ حیران ہو کر کھڑا ہو گیا اور اُسے دیکھنے لگا ۔اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ایک جیتا جا گتا بونا دیکھ رہا ہے ۔

اِس سے پہلے اُس نے بونے صرف کتابوں میں ہی دیکھے تھے۔
سیف نے چلا کر اسے پکارا:”السلام علیکم ! شاید آپ اسی جنگل میں کہیں رہتے ہیں؟“
عنیق نے جواب دیا:”بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو تم۔

(جاری ہے)

کیا میں تمھاری کوئی مدد کر سکتا ہوں؟“
سیف فوراً بولا:”جی ضرور،مجھے ایسی طاقت چاہیے،جس سے میری ہر خواہش پوری ہو جائے۔

کیا اس سلسلے میں آپ میری کوئی مدد کر سکتے ہیں؟“
عنیق بولا:”نہیں میں ایسا نہیں کر سکتا ،لیکن میں تمہیں ایسی جگہ بتا سکتا ہوں ،جہاں پر تمھارا یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔تمہیں اس کے لئے جنگل کے بالکل درمیان میں جانا ہو گا ،جہاں ایک چٹان پر چھوٹا سا تالاب ہے ،جو سر گوشیاں بھی کرتا ہے ۔

اگر تم سُن سکو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور تم اُسے دل کی بات بتاؤ تو تمہیں ایسی طاقت مل جائے گی۔“
سیف بولا:” یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟مہربانی فر ما کر مجھے جلدی بتادیں۔“
عنیق نے اُسے بتایا:”تمھیں وہی کرنا ہے ،جوتالاب سرگوشی میں تمہیں بتائے گا اور پھر آخر میں اُس تالاب میں سے ہاتھ ڈال کر کچھ پانی تم پیو گے۔

پانی پینے کے بعد تم جو بھی خواہش کروگے ،وہ پوری ہو جائے گی۔مجھے کئی مرتبہ وہاں سے خواہش پوری کرنے کا موقع ملا ہے۔ا ب وہ دیکھو،وہ ہے راستہ۔
سیدھے چلے جاؤ،آگے شاہ بلوط کے تین درخت آئیں گے ،وہاں سے داہنے ہاتھ مڑ جانا،آگے جاؤ گے تو نیلے گلابوں کی کیاری آئے گی۔
جب وہ ختم ہو گی تو تم سرگوشیوں والے تالاب کے پاس پہنچ چکے ہوگے۔“
سیف تو فوراً جوش میں آگیا ۔وہ تیزی سے وہاں سے روانہ ہو گیا۔جوش سے اُس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں ۔وہ شاہ بلوط کے درختوں کے قریب سے داہنے مڑا تو آگے جا کر نیلے گلابوں کی کیاری تھی ۔
وہ سیدھا چلتا رہا اور آخر وہاں پہنچ گیا،جہاں سرگوشیوں والا تالاب تھا۔وہ بڑی عجیب سی جگہ تھی اور ایک چٹان پر چھوٹا ساتالاب بنا ہوا تھا اور اُس کا پانی مسلسل کھول رہا تھا۔
سیف نے سوچا،واقعی یہ تو سچ مچ جادو کاہی لگ رہا ہے ۔

اُس نے آگے بڑھ کر چھوٹے سے تالاب میں جھانک کر غور سے دیکھا تو اسے اپنا چہرہ نظر آیا جو ہلتے ہوئے پانی سے تھر تھرا رہا تھا۔اس نے اپنا کان کھولت ہوئے پانی کے قریب کرکے سننے کی کوشش کی تو اُسے سر گوشی سنائی دی ،جیسے کوئی کہہ رہا ہو:”مجھے اتنی مرتبہ ہلاؤ ،جتنے ایک دن اور ایک رات میں گھنٹے ہوتے ہیں۔

ہلاؤ؟؟؟ہلاؤ۔
سیف نے ایک لکڑی لی اور پانی میں ڈال کر اُسے چوبیس مرتبہ ہلایا۔پانی مزید کھولنا شروع ہو گیااور بلبلے مکئی کے دانوں کی طرح پانی کی سطح پر پھٹنے لگے اور بھورے رنگ کے پانی میں سے سبز رنگ کا دھواں پانی کی سطح پر چھانے لگا۔

سیف سوچ رہا تھا کہ یہ واقعی جادو ہے ۔پتا نہیں اب اُسے آگے کیا کرنا چاہیے۔تبھی پانی سے ایسے آواز آئی ،جیسے کوئی سر گوشی کرتے ہوئے حکم دے رہا ہو :”مجھ پر جھکو اور کڑکتی ہوئی بجلی کے ہجے کرو۔“سیف حکم سن کر حیران ہو گیا ،پھر سوچنے لگا کہ کڑکتی ہوئی بجلی کے ہجے کیسے کرتے ہیں۔

پھر اُسے یاد آگیا اور اس نے پانی پرپھونک ماری اور انگلی سے اُس پر ”کڑکتی ہوئی بجلی “لکھا ۔اس پر پانی میں جیسے بھونچال آگیا ہو۔
پھر واقعی کڑکتی ہوئی بجلی کی سی آواز آئی، لیکن پھر پانی کی سطح پر سکون ہو گئی اور سیف نے اُس میں جھانکا تو ایک مرتبہ پھر و ہ پانی میں اپنا چہرہ دیکھ سکتا تھا۔

سیف نے پانی سے پوچھا:”اب میں کیا کروں! مجھے بتاؤ؟“
تالاب نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا:”اب شاہ بلوط کے درخت کے پاس جاؤ اور اُس پر اُگا ہوا پھل لے کر آؤ اور اُسے میرے اوپر ڈال کر ہلاؤ ،یہاں تک کہ وہ مجھ میں حل ہو جائے۔

سیف سوچنے لگا ،شاہ بلوط پر کون سا پھل اُگتا ہے ۔
پھر وہ دوڑ کر درخت کے پاس گیا اور اُس کا جائزہ لینے لگا۔سردی کا موسم تھا اور درخت پر کچھ بھی اُگا ہوا نہیں تھا۔صرف بٹنوں جیسی چیزیں تنے کے ساتھ لگی ہوئی تھیں ۔
سیف نے سوچا ،شاہ بلوط کے سیب! اُس نے ایک بٹن اور سیب نماچیز درخت سے توڑی اور بھاگتا ہواتالاب کے نزدیک پہنچ گیا۔
اُسے یاد آیا کہ اُس نے کہیں پڑھا تھا کہ سیب نمایہ چیز دراصل شاہ بلوط پر اُگنے والے پھل نہیں ،بلکہ یہ ایک بُوٹی ہوتی ہے ،جسے ”تکا“کہتے ہیں ،جو شاہ بلوط پر اُگتی ہے ۔
وہ دوڑتا ہوا واپس شاہ بلوط کے پاس پہنچا اور اُس کے نیچے دیکھنے لگا تو اُسے درخت سے گرا ہوا ایک تکا نظر آگیا۔
وہ بہت خوش ہوا۔اُس نے تکا اُٹھا یا اور بھاگم بھاگ تالاب کے پاس آیا۔اُس نے اُس کو پانی میں گرایا اور بھورے رنگ کے پانی کو لکڑی سے ہلانے لگا۔
جلدی ہی وہ پانی میں حل ہو گیا۔وہ بڑ بڑا یا:”مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ پانی میں حل بھی ہو سکتا ہے ۔
واقعی یہ جادو کا تالاب ہے ۔“
پانی کا رنگ ایک دم سبز ہو گیا اور چمکنے لگا ۔تبھی تالاب میں سے ایسے آواز آئی جیسے درختوں کے پتوں سے تیز ہوا گزری ہو۔

”اب سات کو سات سے ضرب دو اور جو جواب آئے ،اتنی بار میرے اردگرد چکر لگاؤ!“
سیف نے ہدایت سنی تو فوراً چکر لگانے لگا لیکن پھر اُس نے سوچا کہ سات کو سات ضرب دیں تو کتنی بار گھومنا پڑے گا؟اُسے احساس ہوا کہ اُس نے کبھی اچھے طریقے سے پہاڑے یا دہی نہیں کئے تھے۔
سات ضرب سات؟؟؟وہ ہاں ،یہ ضرور باون ہوں گے۔
اپنی طرف سے صحیح گن کر چکر لگاتے ہوئے سیف نے تالاب کے گرد باون چکر کاٹے ،حالانکہ اُسے انچاس چکر لگانے چاہیے تھے۔جب سات چکر پورے ہوئے تو پانی کا رنگ نیلا ہو گیا۔چودھویں چکر پر یہ پیلا ہو گیا۔

اکیسویں چکر پر اُس کا رنگ سرخ ہو گیا،اَٹھائیسویں پر جامنی ،پینتیسویں پر سنہری اور بیالیسویں پر پانی کسی ہیرے کی طرح چمکنے لگا اور انچا سویں پر چاندی جیسے رنگ کے بلبلے پانی میں بننے لگے۔
لیکن جب سیف انچا سویں چکر کے بعد بھی چکر لگا تا رہا تو پانی کا رنگ دو بارہ بھورا ہو گیا اور اُس کی سطح پر سکون ہو گئی۔

سیف نے تب چلو بھر پانی تالاب سے لے کر پیا۔وہ بہت بد ذائقہ تھا اور پھر اُس نے اپنی من پسند خواہش کی اور پھر انتظار کرنے کے بعد اُس نے پسند کی خواہشیں بتانی شروع کردیں ۔اُس نے خواہش کی کہ وہ گھر جانا چاہتا ہے ،لیکن کچھ نہیں ہوا۔

وہ بہت مایوس ہوا۔اُس نے کئی مرتبہ کوشش کی ،لیکن اُس کی کوئی خواہش پوری نہیں ہوئی۔
آخر وہ خود ہی گھر کی طرف چل دیا۔راستے میں اُسے دوبارہ عنیق ملا، جس کے پوچھنے پر اُس نے سارا قصہ سنایا تو وہ ہنسے لگا:”اگر ایک آٹھ سال کے بچے کو سات سے سات کی ضرب دینا نہیں آتا تو اُس کی کوئی خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔

اب دوبارہ تم اُس تالاب تک کبھی نہیں پہنچ سکتے ۔“
سیف بولا:”میں ہمیشہ اُسے ڈھونڈتا رہوں گا اور ایک دن تالاب تک دوبارہ پہنچ جاؤں گا۔تب تک مجھے پہاڑے بھی یاد ہو جائیں گے ۔“
لیکن سیف کو دوبارہ وہ تالاب کبھی نہیں مل سکا۔
سبھی کہتے ہیں کہ وہ تالاب صرف ایک مرتبہ ہی نظر آتا ہے ۔بچو! اگر اتفاق سے تم کبھی ایسے تالاب تک پہنچ جاؤ تو خیال رکھنا ،تمھیں پہاڑے یاد ہونے چاہییں۔ابھی سے تیاری کرلو۔بھلاسات کو سات سے ضرب دیں تو جواب کیا ہو گا؟

Your Thoughts and Comments