Kunween Ke Maindak - Article No. 1756

کنویں کے مینڈک

اس کنویں کے اندر کئی چھوٹے بڑے مینڈک بہت دنوں سے رہتے تھے۔

ہفتہ جون

Kunween ke maindak
اُمرائی انوری
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ بڑی سخت گرمی پڑی اور برسات کا موسم بھی صاف نکل گیا۔تالاب اور جھیلیں خشک ہونے لگیں۔جھیلوں میں مچھلیاں تڑپ تڑپ کر مرنے لگیں۔بگلوں نے اب دریا کا رخ کیا جہاں بے شمار مچھلیاں رہتی تھیں۔
ایک بگلے نے ایک موٹی تازی مچھلی پکڑی اور چونچ میں دبا کر لے اڑاکہ کسی درخت پر بیٹھ کر مزے سے کھاؤں گا،مگر مچھلی بھی طاقتور تھی ،زور سے پھڑ پھڑائی اور یوں بگلے کی چونچ سے آزاد ہو کر نیچے گری۔اتفاق سے بگلا اس وقت ایک کنویں کے اوپر سے گزر رہا تھا۔
مچھلی آزاد ہو کر گری تو کنویں میں آن پڑی۔
اس کنویں کے اندر کئی چھوٹے بڑے مینڈک بہت دنوں سے رہتے تھے۔مچھلی کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔انہوں نے ایسی چیز کبھی نہیں دیکھی تھی۔

(جاری ہے)

ایک بڑا سا مینڈک ہمت کرکے آیا اور مچھلی سے پوچھنے لگا،”تم کون ہو؟کہاں سے آئی ہو؟“
مچھلی نے اسے بتایا،”میں پانی کی مخلوق ہوں۔

مجھے مچھلی کہتے ہیں۔میں دریا میں رہتی تھی اور دریا ہی میرا گھر ہے۔“
مینڈک نے حیرانی سے پوچھا”دریا کیا ہوتا ہے؟“
مچھلی نے بتایا،”دریا بہت لمبا چوڑا ہوتا ہے۔اس میں گہرا پانی ہوتا ہے جو بہتا رہتا ہے ۔بہت لمبا چوڑا۔
جب پانی بہتا ہے تو لہریں اٹھتی ہیں اور ہمیں جھولا جھلاتی ہیں۔“
مینڈک اچھل کر کنویں کے ایک کنارے پر پہنچا اور وہاں سے تیرتا ہوا آیا اور مچھلی سے پوچھا،”کیا دریا اتنا چوڑا ہوتا ہے؟“
مچھلی نے کہا،”نہیں بھائی مینڈک!یہ فاصلہ تو کچھ بھی نہیں۔
دریا تو کہیں زیادہ چوڑا ہوتاہے۔“
مینڈک پھر اچھلا اور اچھل کر کنویں کے دوسرے کنارے پر گیا۔پھر وہاں سے تیرتا ہوا آیا اور مچھلی سے پوچھنے لگا،”دریا کیا اتنا لمبا ہوتاہے؟“
مچھلی کو ہنسی آگئی اور وہ کہنے لگی،”نہیں نہیں میاں مینڈک!یہ فاصلہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔
دریا تو میلوں لمبا ہوتا ہے۔“
مینڈک بڑی بڑی آنکھیں نکال کر مچھلی کو دیکھنے لگا اور بولا،”تم ضرور مجھ سے مذاق کر رہی ہو۔بھلا کوئی دریا ہمارے کنویں سے بھی بڑا ہو سکتا ہے۔تم یا تو میرا مذاق اڑا رہی ہو یا تم نے ضرور کوئی خواب دیکھا ہے۔
بھلا سوچنے کی بات ہے کہاں یہ لمبا چوڑا کنواں اور کہاں تمہارا دریا!“
مچھلی بے چاری کیا جواب دیتی۔خاموش ہو گئی اور آہستہ سے مینڈک سے کہنے لگی،”بھائی مینڈک!بات دراصل یہ ہے کہ جب تک تم نے کنویں سے نکل کر باہر کی دنیا نہیں دیکھو گے،تمہیں کسی بات کا یقین نہیں آئے گا۔
دنیا دیکھنی ہے اور نئی نئی چیزیں دیکھنی ہیں تو کنویں سے نکلو،مگر مشکل یہ ہے کہ تمہارا کنواں سچ مچ بہت گہرا ہے۔میں سوچتی ہوں کہ بگلے کی چونچ سے تو نکل آئی،مگر اس کنویں سے کس طرح نکلوں گی۔“
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کچھ بچے پانی کی تلاش میں اس طرف آنکلے۔
ان کے ہاتھ میں ڈول اور لمبی سی رسی تھی۔ایک لڑکے نے ڈول کو رسی سے باندھ کر کنویں میں ڈالا۔ڈول میں پانی کے ساتھ مچھلی اور مینڈک بھی آگئے۔
ایک لڑکا خوشی سے چلا اٹھا،”دوستو!ڈول تو ہم نے پانی نکالنے کے لئے ڈالا تھا۔یہ مچھلی اور مینڈک کہاں سے آگئے۔

دوسرا لڑکا بولا،”یہ بے چاری مچھلی اس کنویں میں کہاں سے آگئی۔چلو اسے دریا میں چھوڑ آئیں۔ہمیں تو پانی چاہیے۔“
بڑے رحمدل بچے تھے کہ انہیں مچھلی کے حال پر ترس آگیا۔دوڑتے ہوئے دریا پر گئے اور مچھلی اور مینڈک کو دریا میں چھوڑ آئے۔
اگر دریا کا پانی بھی کنویں کے پانی کی طرح شفاف ہوتا تو دریا میں سے پانی لے جایا کرتے۔
مینڈک نے جب دریا دیکھا تو حیران رہ گیا۔اب اسے مچھلی کی باتوں پر یقین آنے لگا اور سوچنے لگا کہ اب میں واپس کنویں میں جاکر دوسرے مینڈکوں کو بتاؤں گا کہ مچھلی جو کچھ کہہ رہی تھی وہ سچ تھا۔میں وہ سب دیکھ کر آرہا ہوں!

مزید اخلاقی کہانیاں

Dolat Aur Zindagi

دولت اور زندگی

Dolat Aur Zindagi

BarooN Ki Naseehat

بڑوں کی نصیحت

BarooN Ki Naseehat

Zameer Ki Adalat

ضمیر کی عدالت

Zameer Ki Adalat

Izafi Paisay

اضافی پیسے

Izafi Paisay

Watan Ki Khatir

وطن کی خاطر

Watan Ki Khatir

Anokha Karnama

انوکھا کارنامہ

Anokha Karnama

Saat Larkiyan Aur Jadu Gar Reech

سات لڑکیاں اور جادو گر ریچھ

Saat Larkiyan Aur Jadu Gar Reech

Bezubanoon Per Zulm

بے زبانوں پر ظلم

Bezubanoon Per Zulm

Salgrah

سالگرہ

Salgrah

Aitmad

اعتماد

Aitmad

Youm Al Arz Or Hamari Greeta

یوم الارض اور ہماری گریٹا

Youm Al Arz Or Hamari Greeta

Bhooka Bheriya

بھوکا بھیڑیا

Bhooka Bheriya

Your Thoughts and Comments