Larai Ka Badla - Article No. 1372

لڑائی کا بدلہ

راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تْو تکار ہوگئی۔ تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گی

پیر اپریل

larai ka badla

راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تْو تکار ہوگئی۔ تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا، بوڑھے آدمی کا غصہ اب بھی اپنی جگہ قائم تھا۔ وہ کسی طرح اس سے اس لڑائی کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ جسمانی طور پہ کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان سے مار پیٹ تو نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نے اسکا ایک اور حل نکالا۔


بوڑھے نے نوجوان کے بارے میں “افواہ” پھیلانا شروع کردی کہ وہ “چور” ہے۔ وہ ہر راہ گزر سے یہی بات کرتا۔ کئی لوگ اسکی بات کو ان سنا کرتے لیکن چند لوگ یقین بھی کرلیتے تھے۔ کچھ دن گزرے تو پاس کے علاقے میں کسی کی چوری ہوگئی۔
لوگوں کے دلوں میں بوڑھے نے پہلے ہی نوجوان کے خلاف شک ڈال دیا تھا۔ چوری کے الزام میں نوجوان کو پکڑ لیا گیا لیکن چند ہی دنوں میں اصل چور کا پتا لگنے پہ اسے کو رہائی مل گئی۔

(جاری ہے)

رہا ہوتے ہی اس نے علاقے کے سردار سے بوڑھے آدمی کی شکایت کی جس کی بنا پہ بوڑھے کو پنچائیت میں بلایا گیا۔

بوڑھے نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صفائی پیش کی۔ سردار نے بوڑھے کو حکم دیا کہ اس نے جو جو افواہ نوجوان کے بارے میں پھیلائی ہے۔ وہ سب ایک کاغذ پہ لکھے اور پھر اس کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے چوراہے میں جا کے ہوا میں اڑا دے۔
اگلے دن بوڑھے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔ بوڑھا سردار کا حکم بجا لیا۔ کاغذ پہ سب کچھ لکھا اور اس کے ٹکڑے ہوا میں اڑا دیے۔ اگلے دن جب پنچائیت لگی ۔ سبھی لوگ جمع ہوئے۔ بوڑھے نے رحم کی استدعا کی۔ سردار نے کہا کہ اگر وہ سزا سے بچنا چاہتا ہے تو کاغذ کے وہ سارے ٹکڑے جمع کرکے لائے جو کل اس نے ہوا میں اڑا دیے تھے۔
بوڑھا پریشان ہو کے بولا کہ’ یہ تو ناممکن سی بات ہے’ سردار نے جواب دیا کہ تم نے نوجوان کے بارے میں اسی طرح ہوا میں “افواہ” پھیلائی۔ تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ تمہاری یہ “افواہ” کہاں کہاں تک پہنچی ہوگی۔

اگر تم کاغذ کے ٹکڑے واپس نہیں لا سکتے تو وہ “افواہ” کیسے واپس لاؤ گے جس کی وجہ سے نوجوان بدنام ہوا ہے ۔ بوڑھے نے ندامت سے سر جھکا لیا۔ کئی بار ہم بنا تصدیق کے لوگوں کے بارے میں “افواہیں” پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ ہماری بنا سوچے سمجھے کی گئی چھوٹی سے بات کسی اور کی زندگی پہ کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے اسکا شائد ہمیں اندازہ بھی نہیں ہے۔ اس لیے منہ کھولنے سے پہلے تصدیق بہت ضروری ہے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Bantne Ki Adat

بانٹنے کی عادت‎

Bantne Ki Adat

Do Paisay Ki Barket

دو پیسے کی برکت

Do Paisay Ki Barket

Jhoot Kay Pawo Nh Hoty

جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے

Jhoot Kay Pawo Nh Hoty

Bhayya Ka Roza

بھیا کا روزہ

Bhayya Ka Roza

Purane Khandar Ka Bhoot

پرانے کھنڈر کا بھوت

Purane Khandar Ka Bhoot

Pencil Ki Chori

پینسل کی چوری

Pencil Ki Chori

Kitni Chali Cycle

کتنی چلی سائیکل

Kitni Chali Cycle

Aik Plate

ایک پلیٹ

Aik Plate

Sultan Mehmmod Ghaznawi

ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻏﺰﻧﻮﯼ

Sultan Mehmmod Ghaznawi

Safeed Kabootri

سفید کبوتری

Safeed Kabootri

Anaaj Or Dolaat

اناج اور دولت

Anaaj Or Dolaat

Buray Amaal Ki Saza

برے اعما ل کی سزا

Buray Amaal Ki Saza

Your Thoughts and Comments