Larai Ka Badla - Article No. 1372

لڑائی کا بدلہ

راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تْو تکار ہوگئی۔ تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گی

پیر 15 اپریل 2019

larai ka badla

راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تْو تکار ہوگئی۔ تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا، بوڑھے آدمی کا غصہ اب بھی اپنی جگہ قائم تھا۔ وہ کسی طرح اس سے اس لڑائی کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ جسمانی طور پہ کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان سے مار پیٹ تو نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نے اسکا ایک اور حل نکالا۔


بوڑھے نے نوجوان کے بارے میں “افواہ” پھیلانا شروع کردی کہ وہ “چور” ہے۔ وہ ہر راہ گزر سے یہی بات کرتا۔ کئی لوگ اسکی بات کو ان سنا کرتے لیکن چند لوگ یقین بھی کرلیتے تھے۔ کچھ دن گزرے تو پاس کے علاقے میں کسی کی چوری ہوگئی۔
لوگوں کے دلوں میں بوڑھے نے پہلے ہی نوجوان کے خلاف شک ڈال دیا تھا۔ چوری کے الزام میں نوجوان کو پکڑ لیا گیا لیکن چند ہی دنوں میں اصل چور کا پتا لگنے پہ اسے کو رہائی مل گئی۔

(جاری ہے)

رہا ہوتے ہی اس نے علاقے کے سردار سے بوڑھے آدمی کی شکایت کی جس کی بنا پہ بوڑھے کو پنچائیت میں بلایا گیا۔

بوڑھے نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صفائی پیش کی۔ سردار نے بوڑھے کو حکم دیا کہ اس نے جو جو افواہ نوجوان کے بارے میں پھیلائی ہے۔ وہ سب ایک کاغذ پہ لکھے اور پھر اس کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے چوراہے میں جا کے ہوا میں اڑا دے۔
اگلے دن بوڑھے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔ بوڑھا سردار کا حکم بجا لیا۔ کاغذ پہ سب کچھ لکھا اور اس کے ٹکڑے ہوا میں اڑا دیے۔ اگلے دن جب پنچائیت لگی ۔ سبھی لوگ جمع ہوئے۔ بوڑھے نے رحم کی استدعا کی۔ سردار نے کہا کہ اگر وہ سزا سے بچنا چاہتا ہے تو کاغذ کے وہ سارے ٹکڑے جمع کرکے لائے جو کل اس نے ہوا میں اڑا دیے تھے۔
بوڑھا پریشان ہو کے بولا کہ’ یہ تو ناممکن سی بات ہے’ سردار نے جواب دیا کہ تم نے نوجوان کے بارے میں اسی طرح ہوا میں “افواہ” پھیلائی۔ تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ تمہاری یہ “افواہ” کہاں کہاں تک پہنچی ہوگی۔

اگر تم کاغذ کے ٹکڑے واپس نہیں لا سکتے تو وہ “افواہ” کیسے واپس لاؤ گے جس کی وجہ سے نوجوان بدنام ہوا ہے ۔ بوڑھے نے ندامت سے سر جھکا لیا۔ کئی بار ہم بنا تصدیق کے لوگوں کے بارے میں “افواہیں” پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ ہماری بنا سوچے سمجھے کی گئی چھوٹی سے بات کسی اور کی زندگی پہ کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے اسکا شائد ہمیں اندازہ بھی نہیں ہے۔ اس لیے منہ کھولنے سے پہلے تصدیق بہت ضروری ہے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Phans Giya Kanjoos

پھنس گیا کنجوس

Phans Giya Kanjoos

Jhoot Sach Adha Adha

جھوٹ سچ آدھا آدھا

Jhoot Sach Adha Adha

Saba Ka Masla

صبا کا مسئلہ

Saba Ka Masla

Bhukay Tommy Ki Tauba

بھوکے ٹومی کی توبہ

Bhukay Tommy Ki Tauba

Ladli Shehzadi

لاڈلی شہزادی

Ladli Shehzadi

Inaam

انعام

Inaam

Siyah Phool

سیاہ پھول

Siyah Phool

PhalooN Ki Dukan

پھلوں کی دکان

PhalooN Ki Dukan

Baghban Ka Raaz

باغبان کا راز

Baghban Ka Raaz

Jadui Qalam

جادوئی قلم

Jadui Qalam

Sultan Ka Adal

سلطان کا عدل

Sultan Ka Adal

Badil Ki Naseehat

بادل کی نصیحت

Badil Ki Naseehat

Your Thoughts and Comments