Larai Ka Badla

لڑائی کا بدلہ

راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تْو تکار ہوگئی۔ تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گی

پیر اپریل

larai ka badla

راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تْو تکار ہوگئی۔ تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا، بوڑھے آدمی کا غصہ اب بھی اپنی جگہ قائم تھا۔ وہ کسی طرح اس سے اس لڑائی کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ جسمانی طور پہ کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان سے مار پیٹ تو نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نے اسکا ایک اور حل نکالا۔


بوڑھے نے نوجوان کے بارے میں “افواہ” پھیلانا شروع کردی کہ وہ “چور” ہے۔ وہ ہر راہ گزر سے یہی بات کرتا۔ کئی لوگ اسکی بات کو ان سنا کرتے لیکن چند لوگ یقین بھی کرلیتے تھے۔ کچھ دن گزرے تو پاس کے علاقے میں کسی کی چوری ہوگئی۔
لوگوں کے دلوں میں بوڑھے نے پہلے ہی نوجوان کے خلاف شک ڈال دیا تھا۔ چوری کے الزام میں نوجوان کو پکڑ لیا گیا لیکن چند ہی دنوں میں اصل چور کا پتا لگنے پہ اسے کو رہائی مل گئی۔

(جاری ہے)

رہا ہوتے ہی اس نے علاقے کے سردار سے بوڑھے آدمی کی شکایت کی جس کی بنا پہ بوڑھے کو پنچائیت میں بلایا گیا۔

بوڑھے نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صفائی پیش کی۔ سردار نے بوڑھے کو حکم دیا کہ اس نے جو جو افواہ نوجوان کے بارے میں پھیلائی ہے۔ وہ سب ایک کاغذ پہ لکھے اور پھر اس کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے چوراہے میں جا کے ہوا میں اڑا دے۔
اگلے دن بوڑھے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔ بوڑھا سردار کا حکم بجا لیا۔ کاغذ پہ سب کچھ لکھا اور اس کے ٹکڑے ہوا میں اڑا دیے۔ اگلے دن جب پنچائیت لگی ۔ سبھی لوگ جمع ہوئے۔ بوڑھے نے رحم کی استدعا کی۔ سردار نے کہا کہ اگر وہ سزا سے بچنا چاہتا ہے تو کاغذ کے وہ سارے ٹکڑے جمع کرکے لائے جو کل اس نے ہوا میں اڑا دیے تھے۔
بوڑھا پریشان ہو کے بولا کہ’ یہ تو ناممکن سی بات ہے’ سردار نے جواب دیا کہ تم نے نوجوان کے بارے میں اسی طرح ہوا میں “افواہ” پھیلائی۔ تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ تمہاری یہ “افواہ” کہاں کہاں تک پہنچی ہوگی۔

اگر تم کاغذ کے ٹکڑے واپس نہیں لا سکتے تو وہ “افواہ” کیسے واپس لاؤ گے جس کی وجہ سے نوجوان بدنام ہوا ہے ۔ بوڑھے نے ندامت سے سر جھکا لیا۔ کئی بار ہم بنا تصدیق کے لوگوں کے بارے میں “افواہیں” پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ ہماری بنا سوچے سمجھے کی گئی چھوٹی سے بات کسی اور کی زندگی پہ کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے اسکا شائد ہمیں اندازہ بھی نہیں ہے۔ اس لیے منہ کھولنے سے پہلے تصدیق بہت ضروری ہے۔

Your Thoughts and Comments