Magar Mach

مگر مچھ

دنیا بھر میں چھپکلیاں ہر جگہ پھیلی ہوئی ملتی ہیں اور ان میں سب سے بڑی قسم مگر مچھ ہے جو تقریباً تمام استوائی دریاؤں میں مختلف ناموں سے پایا جاتا ہے ۔

ہفتہ اگست

magar mach

ممالیہ جانوروں میں خزندے کا تذکرہ کچھ عجیب سا لگتا ہے مگر اس کی آماج گاہ دریائی گھوڑے والی ہی ہوتی ہے اور اسی کی طرح پانی اور خشکی پررہ سکتا ہے،سومیں نے اسے بڑے جانوروں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
دنیا بھر میں چھپکلیاں ہر جگہ پھیلی ہوئی ملتی ہیں اور ان میں سب سے بڑی قسم مگر مچھ ہے جو تقریباً تمام استوائی دریاؤں میں مختلف ناموں سے پایا جاتا ہے ۔

امریکہ میں اسے ایلیگیٹرکے نام سے پکارتے ہیں مگر میرے نزدیک مگر مچھ اور ایلیگیٹر میں ویسا ہی فرق ہے جیسا لیپرڈ اور پینتھر میں ،یعنی محض نام کا فرق ہوتاہے۔
جیسا کہ ہم نے بلی کے خاندان کے کئی اراکین کو پینتھر کے نام سے دیکھا ہے، اسی طرح اس کی تمام اقسام کو بھی مگر مچھ کے نام سے جاننا چاہیے۔
دریائے گنگا ،برہم پتر اور دیگر ہندوستانی دریاؤں میں ایک قسم رہتی ہے جو باقی تمام مگر مچھوں سے فرق ہوتی ہے اور اسے گھڑیال کہا جاتا ہے ۔

(جاری ہے)

اس کا منہ لمبا اور چونچ نما ہوتا ہے اور ناک کے سرے پر ایک ابھار پایا جاتا ہے ۔گھڑیال کی لمبائی بسا اوقات بیس فٹ سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے مگر وزن اتنا نہیں ہوتا اور نہ ہی اُتنا خطر ناک ۔


یہ جانور مچھلیوں پر گزاراکرتا ہے اور شاید ہی انسان یا دیگر جانوروں پر حملہ کرتا ہو۔عام مگر مچھ کی نسبت اس کا سر دیگر تمام سے کہیں لمبا ہوتا ہے اور اسے ہم الگ قسم مان سکتے ہیں اور مگرمچھ اور گھڑیال کی درمیانی قسم کا کوئی جانور آج تک نہیں ملا۔
باقی ہر اعتبار سے مگر مچھ اور گھڑیال ایک جیسے ہوتے ہیں ۔دونوں کی مادائیں دریا کے کنارے ریت پر پچاس سے ساٹھ انڈے دیتی ہیں اور جب انڈے دھوپ سے پک جاتے ہیں تو بچے نکل کر دریا میں گھس جاتے ہیں۔
کم ہی لوگوں نے مگرمچھ کو شکار پر حملہ آور ہوتے دیکھا ہے کہ اس کی رفتار کتنی تیز ہوتی ہے ۔
تاہم مگرمچھ کی خوراک کا بڑا حصہ مچھلیوں پر مشتمل ہوتا ہے ،سواس کی تیزی کا اندازہ بخوبی لگا یا جا سکتا ہے کہ یہ تیز ترین تیراک جانور سے بھی تیز ہوتا ہو گا۔
دریائے نیل کے مگرمچھ بھی سائیلون اور ہندوستانی مگرمچھوں سے مماثل ہوتے ہیں۔
ہندوستان میں اسے”مگر “کہا جاتا ہے مگرجسامت میں یہ سائیلوں اور افریقہ کے مگر مچھوں سے عموماً چھوٹاہوتا ہے ۔اس کے دانت عموماً پکڑنے کے لیے ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ بند ہو جاتے ہیں ۔نچلے جبڑے کے دوسب سے بڑے دانت بالائی جبڑے سے باہر نکلے دکھائی دیتے ہیں ۔
اس کے بالائی جبڑ ے میں 43دانت ہوتے ہیں اور نچلے جبڑے میں بھی 43 ہی ہوتے ہیں ۔یہ دانت کھوکھلے ہوتے ہیں اور مسلسل اگتے رہتے ہیں۔
یعنی جب دانت نکلتا ہے تو اوپر کو نکال پھینکتا ہے اور خود بھی چند سال بعد اسی طرح نکل جاتا ہے ۔
یہ خوبی مگرمچھوں کو تمام جانوروں سے ممتاز کرتی ہے ۔چند مشرقی ممالک میں کچھوے کو اور باقی ہر جگہ مگرمچھ کو طویل عمری کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔کولمبو کے نزدیک متول باغ میں ایک کھچوا ہے جو ڈیڑھ سو سال سے انسانی قید میں ہے ۔
تاہم ایک ولندیزی نے پکڑا تھا اور بعد میں اسے برطانویوں نے اپنے قبضے میں لے لیا۔جب اسے پکڑ ا گیا ہو گا تو اس وقت اس کی کیا عمر ہو گی ،یہ بات معمہ ہے۔مگرمچھ کے اگلے پنجے کسی حد تک انسانی ہاتھ سے مشابہہ ہوتے ہیں اور ان میں پانچ ناخن ہوتے ہیں جو بعض اوقات چار انچ لمبے ہو جاتے ہیں ۔
پچھلے پنجوں کے ناخن چھوٹے ہوتے ہیں اور تعداد میں چار۔یہ غلط فہمی عام ہے کہ مگر مچھ اپنے شکار کو پکڑتے ہی ہڑپ کرجاتا ہے ۔اگر کسی جانور کا بچہ پکڑے تو اسے بے شک فوراً کھا جاتا ہے ۔مگر کتایا بڑا جانور ہوتو اسے پانی کے نیچے لے جا کر اس کو ڈبو تا ہے اور پھر کسی تنہا مقام پر جا کر آرام سے پیٹ بھرتاہے۔

عرب مگرمچھ کا شکار ہارپون کی مدد سے کرتے ہیں جیسے وہ دریائی گھوڑے کا کرتے ہیں ۔فرق یہ ہوتا ہے کہ دریا میں تیرتے ہوئے حملہ کرنے کی بجائے شکاری ریتلے کنارے پر سوئے ہوئے مگر مچھ کے قریب تیرتے ہوئے پہنچ جاتے ہیں اور پھر ہارپون مارتے ہیں۔
زخمی ہوتے ہی مگر مچھ فوراً پانی میں کود جاتا ہے اور شکاری فوراً کنارے پر نکل آتا ہے۔سوڈان میں بہت سی جگہوں پر شکاریوں کے پاس رائفلیں بھی ہیں مگر ماہر شکاری کے ہاتھ میں ہارپون مہلک ہتھیار بن جاتا ہے اور مگر مچھ شاید ہی کبھی بچ پاتا ہو۔
بہت سے مگر مچھوں پر گولی چلائی جاتی ہے مگر اصل میں بہت کم ہی ہاتھ لگتے ہیں کیونکہ مرتے ہی ان کی لاشیں پانی میں ڈوب جاتی ہیں اور کئی دن بعد ابھرتی ہیں۔
تب تک لاش سڑنا شروع ہو جاتی ہے اور جسم کے اندر گیس بھر چکی ہوتی ہے۔
پچھلے چند برسوں سے مگر مچھ کی کھال سے سفری بیگ اور دیگرچیزیں بنائی جانے لگی ہیں۔امید ہے کہ بڑھتی ہوئی طلب سے ان کی تعداد میں کمی واقع ہو گی کہ ہر ملک میں ان کے وجود سے نقصان پہنچتا ہے ۔اصولی طور پر مگر مچھ والے پانی میں تیرنے سے مجھے سخت نفرت ہے۔
تاہم یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ مقامی عرب کسی فقیریا اپنے ملا کے دیے ہوئے تعویز پر بھروسہ کرتے ہوئے دریا بے خطر عبور کرتے ہیں۔اگر کسی آدمی کو دریا میں مگرمچھ دبوچ لے تو اس کا بچنا ممکن نہیں رہتا۔ہاں مگرمچھ بہت چھوٹی جسامت کا ہوتو اور بات ہے ۔
بڑے مگرمچھ کے جبڑے اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ انسانی ہڈیاں توڑ سکتے ہیں۔
تیز اور نوکیلے 86دانت جب کسی کو دبوچتے ہوں گے تو بچنے کا کوئی امکان نہ رہتا ہوتا۔مگر مچھ کا گلانہ صرف بڑا ہے بلکہ کافی حد تک پھیل بھی سکتا ہے۔عام طور پر مگرمچھ اپنے شکار کوکسی ایسی جگہ رکھتا ہے جہاں وہ آرام سے اسے کھا سکے مگر بعض اوقات بہت بڑی لاش کو سالم بھی نگل سکتا ہے۔

Your Thoughts and Comments