Maila Aur Bail

Maila Aur Bail

میلا اور بیل

ایک دن دوست سہراب بابومجھ سے کہنے لگے کہ ان کے ساتھ نواب صاحب کی ریاست چلوں ۔ ریاست میں ہرسال بسنت بہارکامیلا لگتا ہے ۔ میں نے مصروفیت کا بہانا کیا، توخفاہو کربولے : میاں ! تم جوجنگلوں میں جانوروں کے پیچھے مارے مارے پھرتے ہو، کبھی انسانوں کے ساتھ بھی وقت گزارلیا کرو۔

جاوید اقبال :
ایک دن دوست سہراب بابومجھ سے کہنے لگے کہ ان کے ساتھ نواب صاحب کی ریاست چلوں ۔ ریاست میں ہرسال بسنت بہارکامیلا لگتا ہے ۔ میں نے مصروفیت کا بہانا کیا، توخفاہو کربولے : میاں ! تم جوجنگلوں میں جانوروں کے پیچھے مارے مارے پھرتے ہو، کبھی انسانوں کے ساتھ بھی وقت گزارلیا کرو۔

پھر میلے کی دل چسپیوں اور رنگینیوں کی ایسی تصویر کھینچی کہ مجھے ہاں کرتے ہی بنی ۔ ہم ان کی موٹر گاڑی میں بیٹھ کر نواب صاحب کی ریاست جاپہنچے ۔
نواب صاحب کی حویلی میں زور وشور سے میلے کی تیاری ہورہی تھی ۔ پکوان بن رہے تھے ۔
مٹھائیاں تیار ہورہی تھیں ۔ کپڑے سل رہے تھے ۔ ایک دن اور رات ان تیاریوں میں ہی گزرگئے ۔ دوسری صبح سب لوگ سج دھج کرمیلے کے میدان کی طرف روانہ ہوئے ۔

(جاری ہے)


نواب صاحب اور ان کے مصاحب موٹر گاڑیوں اور ملازمین وغیرہ بیل گاڑیوں اور یکوں پرسوار تھے ۔

دوپہر کو یہ قافلہ ایک بڑے میدان میں جاپہنچا، جہاں خوب چہل پہل اور رونق تھی ۔ رنگ برنگے کپڑے پہنے بچے چہکتے پھر رہے تھے ، کہیں ڈھول کی تھاپ پر گھوڑے ناچ رہے تھے ۔ جوان اوربوڑھے ان تماشوں سے لطف اندوز ہورہے تھے ۔ ادھر اُدھر حلوائی مٹھائیاں کی دکانیں سجائے بیٹھے تھے ، گرم گرم جلیبیاں کڑھائی سے نکلتے ہی بک جاتیں۔
پکوڑے اور نمکو بھی ہاتھوں ہاتھ خریدے جارہے تھے ۔ ایک طرف کھلونے والے کھلونوں کی دکانیں سجائے بیٹھے تھے ۔ بچے شوق سے کھلونے خریدرہے تھے ۔ ایک پنڈال میں سرکس لگاتھا، جہاں باز گراپنے کرتب دکھارہے تھے ۔
ایک بڑے میدان کے درمیان میں ایک اونچے چبوترے پر نشستیں لگی تھیں ۔
جہاں نواب صاحب اپنے مصاحبین کے ساتھ بیٹھ گئے۔ یہاں بیلوں کی دوڑشروع نہ ہوئی تو سہراب بابو بولے : دوڑ نہ جانے کب شروع ہو، آؤ اتنی دیر میں سرکس دیکھ لیتے ہیں ۔
ہم چبوترے سے اُتر کر سرکس والے میدان میں پہنچ گئے ۔ یہاں لوگ ایک بڑے سے دائرے کی صورت میں کھڑے تھے ۔
دائرے کے اندر بازی گراپنے کرتب دکھارہے تھے ۔ کچھ بازی گرلوہے کے ایک گول کڑے سے ، جس سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے ۔ دوسری طرف کودرہے تھے ۔ ایک طرف ایک طرف ایک گول مٹول مسخرہ مختلف کرتب دکھاکر لوگوں کو ہنسارہا تھا۔ ایک پہیے والی سائیکل پہ سوار بازی گرکود دیکھ کرلوگ تیالیاں بجا کرداد دے رہے تھے ۔

ہم سرکس کے تماشوں میں گم تھے کہ ایک دم شور مچ گیا ۔ لوگ افرتفری میں ادھر اُدھر بھاگنے لگے ۔ ہم پنڈال سے نکلے تو پتا چلا کہ دوڑ کے میدان سے ایک بیل بھاگ نکلا ہے ۔ اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ بپھرا ہوا بیل ادھر ہی بھاگا چلاآرہا ہے ۔
بھگدر کی وجہ سے کئی لوگ اس کے کھروں تلے کچلے گئے ۔ پلک جھپکتے ہی بیل ہمارے قریب آپہنچا۔ ہم نے اس سے بچنے کے لیے ادھر اُدھر چھلانگیں لگادیں۔ بیل کے گلے میں بندھی رسی اُڑتی ہوئی میرے ہاتھ سے لپیٹ گئی اور گرہ سی پڑگئی ۔ مجھے زور کا جھٹکا لگااور میں بیل کے ساتھ کھنچتا چلا گیا۔
بیل مجھے کھینچے لیے جارہا تھا اور میں زور لگا کر اسے روک رہا تھا۔ اتنے میں سامنے ایک درخت آگیا ۔ میں بھاگتے بھاگتے تھوڑا بائیں طرف ہوا تودرخت ہم دونوں کے درمیان آگیا اور رسہ درخت کے تنے سے لپٹ گیا۔ یوں بیل رک گیا ۔ پیچھے بیل کامالک بھی بھاگاآرہا تھا۔
اس نے بیل پر قابو پالیا۔ لوگوں کو جھمگٹا وہاں لگ گیا ۔ اتنے میں نواب صاحب بھی اپنے مصاحبوں کے ساتھ وہاں آگئے۔ بیل کو قابو میں کرنے کاسن کر بہت خوش ہوئے ۔ گلے میں قیمتی ہار اور ہاتھوں سے ہیرے کی انگوٹھیاں اُتار کر بطور انعام مجھے دنیا چاہیں ، میں شرمندہ ساہوگیا۔
سچ تو یہ ہے کہ رسی اتفاقاََ میرے ہاتھ سے لپٹ گئی تھی ۔ اس میں میری کوئی بہادری نہ تھی ۔ میں نے کچھ کہنے کے لیے منھ کھولا، مگر سہراب بابو نے میرا ہاتھ دبا کرمجھے چپ کرادیا۔ بولے : انعام لینے سے انکار نہیں کرتے ، ورنہ نواب صاحب ناراض ہوجائیں گے ۔
پھرخود ہی آگے بڑھ کر ہار اور انگوٹھیاں نواب صاحب سے لیں ۔ ہار تو میرے گلے میں ڈال دیااور انگوٹھیاں اپنی جیب میں رکھ لیں۔ ہم میل سے واپس آگئے ۔ دو دن بعد ہماری واپسی ہوئی ۔ انگوٹھیوں کے بارے میں نہ میں نے کچھ پوچھا، نہ سہراب بابو نے کچھ کہا ۔
سنا ہے وہ انگوٹھیاں بیچ کر انھوں نے نئی موٹر کار خریدلی ہے ۔ واللہ علم ! میری تو اس واقعے کے بعد ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔

Your Thoughts and Comments