Mazloom Bhoot - Article No. 1783

مظلوم بھوت

کبھی کبھارقلعے کی چمنیوں سے آگ کے شعلے نکلتے اور یہ شعلے کسی آگ کے بھوت کی تصویر بناتے اور یہ تصویریں فضا میں بلند ہوتی ہوئی سیاہ آسمان میں گم ہو جاتی

جمعہ اگست

mazloom bhoot
احمد عدنان طارق
قصبے کے باہر ایک وسیع و عریض میدان کے بیچوں بیچ سر مئی رنگ کا عظیم الشان قلعہ تھا۔کسی کو قلعے کے اندر جانے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ سب کو معلوم تھا کہ قلعہ آسیب زدہ ہے۔اگر چہ سب جانتے تھے کہ قلعے کی دیواروں کے اندر کوئی نہیں رہتا۔
راتوں میں قلعے کے بڑے بڑے سنسان کمروں سے ایک کمزور سہمی ہوئی سی آوازے سنائی دیتی ۔کبھی کبھارقلعے کی چمنیوں سے آگ کے شعلے نکلتے اور یہ شعلے کسی آگ کے بھوت کی تصویر بناتے اور یہ تصویریں فضا میں بلند ہوتی ہوئی سیاہ آسمان میں گم ہو جاتیں۔

بہت سے دلیر اور مہم لوگوں نے اس بھوت پر قابو پانے کی بہت کوشش بھی کی،لیکن صبح کے اُجالے میں قلعے کے سب سے بڑے کمرے میں مردہ حالت میں بیٹھے ملتے تھے۔

(جاری ہے)

اُن کی کرسی ہمیشہ آتش دان کے سامنے ہوتی ،جس میں ہمیشہ آگ کی بجائے بجھی ہوئی راکھ ہوتی۔

سردیوں کے آغاز میں ایک دن قلعے کے قریبی قصبے میں ایک پھیری والا آیا جو بڑا ہنس مکھ تھا۔اس کا نام ایستبان تھا اور وہ بہت نڈر نوجوان تھا۔وہ قصبے کے بازار میں ایک جگہ رک کر اپنے برتن اور دوسری چیزیں بیچ رہا تھا کہ ایسے میں اس سے چیزیں خریدنے والی خواتین نے قلعے کے متعلق کہانیوں کا ذکر کیا۔

انہوں نے ایستبان کو بتایا کہ ایسی ہی راتوں میں قلعے کی چمنیوں سے بھوت کی شکل والا دھواں اور آگ کے شعلے نکلتے ہیں۔اگر کوئی ہمت کرکے قلعے کے نزدیک جائے تو ماتم کرتی ظلوم آواز بھی سن سکتا ہے۔ایستبان نے حیران ہو کر اُن سے پوچھا:”معزز خواتین!مجھے ایستبان بہادر کے نام سے جاناجاتا ہے۔
میں کسی انسان سے ڈرتا ہوں اور نہ کسی بھوت سے۔میں صرف خدا کی ذات سے ڈرتا ہوں۔ مجھے تو خوشی ہو گی اگر میں قلعے میں آج کی رات گزاروں اور اس مظلوم روح کو دلاسا دے سکوں۔“
خواتین حیرت زدہ نظروں سے اُسے گھورنے لگیں۔پھر انہوں نے ایستبان کو بتایا:”کیا تم جانتے ہو کہ اگر کوئی قلعے سے چمٹے ہوئے بھوت کو بھگا دے تو قلعے کا مالک اسے انعام میں ایک ہزار سونے کی اشرفیاں بھی دے گا۔

یہ بات سن کر خوشی سے ایستبان کی ہنسی نکل گئی۔اس نے دل میں تہیہ کر لیا کہ اگر یہ بات سچی ہے تو وہ ہر صورت آج رات قلعے میں ہی گزارے گا اور قلعے کو اس میں بسنے والے آسیب سے چھٹکارا دلوائے گا۔ایستبان کھانے کا بہت شوقین تھا۔
اس نے خواتین سے کہا کہ وہ اپنے شوہروں سے کہہ کر رات گزارنے کے لئے اسے لکڑی کے بڑے بڑے ٹکڑے لا کر دیں تاکہ وہ قلعے میں ساری رات آگ جلا سکے۔ اسے مصالحہ لگے ہوئے گوشت کے پارچے،ایک بڑی صراحی میں پانی،بارہ انڈے اور ایک توا لا کر دیں۔

قصبے کے لوگوں نے خوشی خوشی اس کی فرمائش پوری کردی۔سورج غروب ہوا تو ایستبان نے یہ ساری چیزیں اپنے گدھے پر لا دیں اور اسے ہنکاتا ہوا قلعے کی طرف روانہ ہو گیا۔لوگ ایستبان بہادر کو چھوڑنے گئے،لیکن زیادہ دور تک نہیں۔
سورج ڈوب چکا تھا اور سرد ہوا چیختی ہوئی آوازیں نکال رہی تھی۔
ہوا میں خنکی بھی تھی اور بارش کی بوندھیں بھی۔ایستبان نے گدھے کو قلعے کے دروازے کے پاس باغیچے میں گھاس چَرنے کے لئے چھوڑ دیا۔پھر اس نے لکڑی کے ٹکڑے اور کھانے کی چیزیں قلعے کے بڑے کمرے میں پہنچائیں۔کمرے میں اندھیرا تھا۔
چمگادڑوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ اسے کمرے کی چھت کے قریب سنائی دے رہی تھی۔اس نے آتش دان میں لکڑی کے بڑے بڑے سوکھے ہوئے ٹکڑے ڈالے اور انھیں جلانے لگے۔سرخ اور سنہری شعلے لپک لپک کر چمنی میں بلند ہونے لگے۔ایستبان بیٹھ گیا اور آگ کی تمازت محسوس کرنے لگا۔
اس نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا:”آگ سے سردی بھی بھاگ جاتی ہے اور خوف بھی نزدیک نہیں آتا۔“
اس نے توا آگ پر رکھا اور احتیاط سے گوشت کے پارچے سینکنے لگا۔بہت سوندھی خوشبو آنے لگی۔پھر اس نے پانی اُنڈیلنے کے لئے ابھی صراحی کو اُٹھایا ہی تھا کہ چمنی سے وہی مری ہوئی کمزور آواز آئی:”اوہ میں مرا،اوہ میں مر گیا۔

ایستبان نے جلدی جلدی پانی کا گھونٹ حلق سے نیچے اُتارا اور پھر صراحی قریب ہی رکھ لی۔
وہ بولا:”اے میرے دوست !تم نے میرا استقبال خوشی سے نہیں کیا،لیکن کم از کم یہ میرے گدھے کی آواز سے بہت اچھی ہے جسے مجھے ہر وقت سننا پڑتا ہے۔
پھر بھی آخر یہ آواز انسانی ہے۔“یہ کہہ کر وہ گوشت کے پارچے توے پر پلٹنے لگا۔
دوبارہ آواز آئی:”اوہ میں مرا،اوہ میں مر گیا۔“
ایستبان نے پکے ہوئے گوشت کے ٹکڑے احتیاط سے رکابی میں رکھے۔پھر اس نے ایک انڈا توڑ کر توے پر ڈال دیا۔
وہ انڈے کو تل ہی رہا تھا آواز دوبارہ آئی۔اب آواز میں کپکپاہٹ اور خوف کی جھلک تھی۔کوئی بولا:”نیچے مجھے سنبھالنا۔میں گرنے والا ہوں۔“
ایستبان بولا:”ٹھیک ہے،لیکن میرے توے پر نہ گرنا۔“تبھی دھپ سے کوئی چیز گری۔
یہ انسانی ٹانگ تھی،جو چمنی کے باہر قریب ہی پڑی ہوئی تھی۔ٹانگ پائجامے میں ملفوف تھی۔ایستبان نے ایک گوشت کا پارچہ انڈے کے ساتھ کھایا اور پانی کے دو تین گھونٹ بھرے۔خنک ہوا قلعے کے اردگرد سیٹیاں بجاتی گزر رہی تھی اور تیز بارش پورے زور سے کھڑکیوں سے ٹکرا رہی تھی۔
تبھی وہی آواز جس میں بہت جلدی تھی،آئی:”نیچے دھیان رکھنا،میں گرنے والا ہوں۔“
پھر ایک اور دھپ کی آواز کے ساتھ کوئی چیز چمنی سے نیچے گری۔ایستبان نے قریب پڑی چیز کو دیکھا وہ دوسری انسانی ٹانگ تھی جیسی پہلی تھی۔
ایستبان آتش دان سے تھوڑا ہٹ کر لکڑی کے اور ٹکڑے لایا اور انھیں آگ میں جھونک دیا۔
پھر اس نے کچھ اور گوشت کے قتلے اور انڈا توے پر ڈالا۔تبھی چلاتی ہوئی آواز گونجی:”میں گرنے والا ہوں مجھے سنبھالنا۔“
ایستبان ہنستے ہوئے بولا:”آجاؤ بھئی آجاؤ،لیکن میرے انڈے کو بچانا۔“تب دھپ کی آواز آئی جو پہلی آوازوں سے کہیں زیادہ تھی۔
یہ انسانی جسم تھا جس نے نیلی قمیض اور بھوری جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔تب ایستبان تیسرا انڈا کھا رہا تھا اور گوشت کا ایک اور ٹکڑا۔تب پھر دو دفعہ آواز دوبارہ آئی اور دونوں دفعہ دو انسانی بازو گرے۔
اب ایک طرف تو ایستبان مزید گوشت کے ٹکڑے سینک رہا تھا تو دوسرے طرف سوچ رہا تھا کہ اب گرنے کے لئے سر ہی بچا ہے۔
مجھے بھی اشتیاق ہو رہا ہے کہ میں اس شخص کا چہرہ دیکھ سکوں تبھی آواز آئی:”دیکھو دیکھو میں گر رہ ہوں۔“
اور پھر وہی ہوا جس کے بارے میں ایستبان سوچ رہا تھا،یعنی سر بھی چمنی سے فرش پر آگرا۔اچھا بھلا سر تھا۔سیاہ لمبے بال تھے اور سیاہ آنکھیں بھی جو تھوڑی کھینچی اور مردہ سی لگ رہی تھیں۔
گوشت کے ٹکڑے ابھی آدھے باقی تھے۔بھوت کے جسم کے سارے حصے ایک دوسرے سے جڑ گئے۔اب وہ ایک پورا انسان تھا یا بھوت۔ایستبان بولا:”شب بخیر!کیا تم گوشت کا پارچہ اور انڈا کھانا پسند کرو گے؟“
بھوت نے جواب دیا:”نہیں مجھے اب خوراک کی ضرورت نہیں ہوتی،لیکن میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔
تم قلعے میں آنے والے پہلے شخص ہو جس نے میرے ٹکڑے جڑتے دیکھے پھر بھی نہیں ڈرے،ورنہ دوسرے لوگ تو ٹکڑے دیکھ کر ہی دہشت سے مر جاتے تھے۔“
ایستبان نے بڑی سنجیدگی سے کہا:”وہ شاید اپنے ساتھ کھانا اور آگ جلانے کے لئے لکڑی لے کر نہیں آئے ہوں گے۔
“ یہ کہہ کر وہ دوبارہ توے کی طرف متوجہ ہوا تو بھوت منت کرتے ہوئے بولا:”اگر تم میری مدد کردو تو تم میری روح کو قید سے آزاد کروا سکتے ہو اور میں پر سکون ہو سکتا ہوں۔یہاں صحن میں ایک برگد کا درخت ہے۔
جس کی جڑوں میں تین تھیلے دفن ہیں۔
ایک تھیلے میں تانبے کے سکے بھرے ہیں ۔دوسرے میں چاندی کے سکے اور تیسرے میں سونے کے سکے ہیں۔میں نے زندگی میں دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر لوٹے تھے۔میں انھیں چھپانے کے لئے قلعے میں لے کر آیا تھا ،لیکن جب میں انہیں دبا چکا تو میرے ساتھیوں نے مجھے پکڑ لیا اور قتل کرکے میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ،لیکن وہ سکے نہیں ڈھونڈ سکے۔
اب میرے ساتھ آؤ اور انہیں کھود کر نکالو۔تانبے کے سکے قصبے کی عبادت گاہ کو دے دو،چاندی کے سکے غریبوں میں بانٹ دو اور سونے کے سکے تم رکھ لو۔ممکن ہے اس طرح میرے گناہوں کی تلافی ہو جائے۔“
ایستبان صحن میں بھوت کے ساتھ گیا۔
گدھے کی نظر بھوت پر پڑی تو وہ رینک رینک کر ہلکان ہو گیا۔برگد کے قریب بھوت نے کہا:”کھودو ۔“
ایستبان نے بولا:”تم کھودو۔“لہٰذا بھوت کام میں جُٹ گیا۔کچھ ہی دیر میں تینوں تھیلے برآمد ہو گئے۔
بھوت بولا:”وعدہ کرو تم میرے کہے پر عمل کرو گے۔

ایستبان نے وعدہ کر لیا۔بھوت بولا:”یہ میرے جسم کے ساتھ لپٹے ہوئے کپڑے علیحدہ کردو۔“
ایستبان نے جیسے ہی ایسا کیا بھوت نظروں سے اوجھل ہو گیا۔اس کے کپڑے فرش پر یوں پڑے تھے جیسے وہ خود اُتار کر گیا ہو۔
ایستبان سکوں کو بھی بڑے کمرے میں لے گیا ایک اور انڈا تل کر کھایا اور پھر گھوڑے بیچ کر سو گیا۔
اگلی صبح قصبے کے لوگ اس کی لاش اُٹھانے قلعے میں آئے،لیکن انہوں نے دیکھا کہ وہ تو خوش باش بیٹھا انڈے تل رہا ہے۔وہ ہکلاتے ہوئے بولے:’تم زندہ ہو؟“
ایستبان نے جواب دیا:”کیوں نہیں بھائی!آپ کے انڈے اور گوشت نے رات بھر میرا بڑا ساتھ دیا ہے۔
اب میں ذرا قلعے کے مالک سے مل کر اپنی ایک ہزار اشرفیاں حاصل کرتا ہوں۔قلعے کا بھوت ہمیشہ کے لئے چلا گیا ہے۔تم اس کے کپڑے ثبوت کے طور پر صحن میں دیکھ سکتے ہو۔“
لوگ ابھی حیرت سے اس کا منہ ہی تک رہے تھے کہ اس نے تینوں تھیلے گدھے پر لادے اور وہاں سے روانہ ہو گیا۔

پہلے اس نے اشرفیاں حاصل کیں۔پھر وہ قصبے میں لوٹا اور عبادت گاہ کے منتظم کو تانبے کے سکے دیے۔پھر غریبوں میں چاندی کے سکے بانٹے اور سونے کے سکوں اور اشرفیوں سے قصبے کے بچوں کونڈر اور باشعور بنانے کے لئے ایک سکول قائم کر دیا۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Shehzade Ki Behen - Last Episode

شہزادے کی بہن (آخری قسط)

Shehzade Ki Behen - Last Episode

Azeem Quaid

عظیم قائد

Azeem Quaid

Biryani Nahi Bki Hai Bhai

بریانی نہیں پکی ہے بھائی۔۔تحریر:مختار احمد

Biryani Nahi Bki Hai Bhai

Kahil Sher

کاہل شیر

Kahil Sher

Ehssas Hu Gya

احساس ہوگیا

Ehssas Hu Gya

Ek Wafadar Nevla

ایک وفادار نیولا

Ek Wafadar Nevla

کچے سوت کی انٹی

Kachay Sot Ki Anti

Hathi Ki Cycle

ہاتھی کی سائیکل

Hathi Ki Cycle

Meri Kahaani

میری کہانی

Meri Kahaani

Lalchi Dost (last Episode)

لالچی دوست (آخری قسط)

Lalchi Dost (last Episode)

Naseehat Ka Assar

نصیحت کا اثر

Naseehat Ka Assar

Anokha Enaam

انوکھا انعام

Anokha Enaam

Your Thoughts and Comments