Mehnat Rang Laayi - Article No. 1917

محنت رنگ لائی

اس کی محنت رنگ لائی اور اس بستی سے اکثر لوگ علم و شعور کے پیکر بن کر نکلنے لگے

بدھ مارچ

Mehnat Rang Laayi
ایم رضوان ملغانی
وہ ایک چھوٹی سی بستی تھی،جہاں کے مکینوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی تھا۔گھروں کی عورتیں بھی اپنے گھروں کا چولہا جلانے کے لئے مردوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو کر کام کرتی تھیں اور دال روٹی سے گزر بسر ہو جاتی تھی۔
شادُو کسان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی وہ دس سال سے اولاد کی آس لگائے ہوئے تھا۔اس کی مراد بر آئی تو اس نے اپنے کچے کمرے میں رکھی صندوق سے اپنی ساری جمع پونجی نکال کر بستی والوں پہ لٹا دی۔مٹھائیاں تقسیم کی گئیں،آس پڑوس کے بستی والوں کو بھی یاد رکھا گیا۔

گاؤں والوں نے تو اس کا نام جمعہ خان رکھ چھوڑا تھا،کیونکہ وہ جمعے کے دن پیدا ہوا تھا۔شادُو نے بیٹے کا نام جمال رکھا تھا۔جب وہ بڑا ہوا تو ضد پر اَڑ گیا کہ اسے اسکول داخل ہونا ہے۔

(جاری ہے)

ان کی بستی میں اسکول کا نام بھی کسی نے نہ سنا تھا اور وہاں کسی بچے کا اسکول میں داخلہ لینے کی تکرار حیرانی کی بات تھی۔

بستی کے ہر ہر فرد نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا کہ جمال عرف جمعہ خان کو اس کے عزائم سے ہٹایا جائے،لیکن سب ناکام رہے۔
آخر وہ دن بھی آیا کہ جب اس کا داخلہ دوسری بستی کے اسکول میں کروا دیا گیا۔وہ بستی سے تانگے میں بیٹھتا۔تانگے والا اسے پکی سڑک پہ اُتارتا وہ بس میں سوار ہو کر دوسری بستی پہنچتا اور وہاں ماسٹر کریم داد،اسے سارے مضمون پڑھاتے تھے۔
مڈل تک اسی اسکول میں پڑھنے کے بعد اس نے ہائی اسکول میں داخلہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا تو سب بستی والے غصے سے لال پیلے ہو گئے۔سب نے کہا:”کسان بن کچھ اور بننے کے خواب نہ دیکھ۔“
لیکن جمال پہ تو ایک دُھن سوار ہو گئی تھی۔
شہر میں اس نے ہائی اسکول میں داخلہ بھی لے لیا۔میٹرک میں صوبے بھر میں اس کی تیسری پوزیشن بنی تو وہ اور زیادہ پڑھائی کے معاملے میں سنجیدہ ہو گیا۔اس کی اَن تھک محنت اور دل لگا کر پڑھنے کا جنون اسے کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک لے گیا۔
اتنا پڑھ لکھ جانے کے بعد اسے چھوٹی موٹی ملازمت گوارہ نہ تھی اور اونچی پوسٹ اور عہدے کے لئے تگڑی سفارش کا ہونا بھی ضروری تھی۔اس نے بہت کوشش کی،لیکن بے سود۔وہ بستی میں واپس آیا تو سب نے کہا:”کھیتی باڑی شروع کر دے۔“لیکن وہ آمادہ نہ ہوا اور بستی میں ہی اپنی مدد آپ کے تحت پرچون کی دکان کھول کر اسے بڑھاتا رہا۔
دیکھتے ہی دیکھتے دکان ایک بڑے جنرل اسٹور کی شکل اختیار کر گئی۔بستی والے اس پر رشک کرتے جمال خود بھی سیٹھ بن جانے اور کہلائے جانے پر اِتراتا پھرتا۔انھوں نے اپنا کچا گھروندہ گرا دیا۔دو کمرے پکے بنا لیے جس کے آگے برآمدہ اور تین چار درخت بھی تھے،جن کی چھاؤں میں بیٹھ کر جمال کی ماں خوشی سے پھولے نہ سماتی۔

ادھر شادُو روز کلف لگے کپڑے پہنتا،لنگی کی جگہ شلوار نے لے لی اور پگڑی بھی باندھتا تھا۔
بستی میں جمال کا اکلوتا اسٹور تھا۔آس پڑوس کے بستی والے بھی وہیں سے آکر سودا سلف لے جاتے تھے۔زندگی اچھی گزر رہی تھی کہ اسے ایسا لگا جیسے گاؤں کا ماحول بدل گیا ہو۔
روزمرہ کے معاملات میں فرق آگیا۔اب وہ نوجوان جو اپنے بڑوں کے ساتھ مل کر کھیتی باڑی کرتے تھے،اپنا سارا قیمتی وقت موبائل فون پر ضائع کرنے لگے۔بعض لڑکے چوریاں کرتے اور ان پیسوں سے موبائل خرید لیتے،پھر ہر وقت اسی میں لگے رہتے۔

اس کی دکان پر آنے والے اکثر لوگ شکایتی لہجے میں کہتے کہ ہمارا لڑکا کام نہیں کرتا،اسے سمجھاؤ۔جمال سر پکڑ کر بیٹھ جاتا۔لڑکے اس کی دکان پر بیٹھ کر فضول باتیں کرتے،وہ انھیں سمجھا کر تھک جاتا،لیکن کوئی بھی اس کی باتوں پہ کان نہیں دھرتا تھا۔

جمال عرصے سے اپنی ڈگری بھلائے بیٹھا تھا۔وہ اسے یاد آنے لگی۔دن رات وہ ندامت کے آنسو بہاتا کہ اگر وہ اپنی تعلیم اور شعور کو بستی کے ہر ہر فرد کے ذہنوں میں منتقل کرتا تو آج جو صورت حال ہے اس سے ان کی بستی دوچار نہ ہوتی۔

کئی سوال تھے جو اسے تنگ کرتے تھے اور شرمندہ کرتے تھے۔وہ اپنے علم کی بنیاد پہ بہت کچھ کر سکتا تھا۔اس نے ایسا کیوں نہیں کیا!یہی ندامت اسے کھل رہی تھی۔آخر اس نے ایک فیصلہ کیا اور اس بارے میں والدہ کو آگاہ کر دیا کہ اب دکان ان کے حوالے کرکے بستی کے مستقبل کے معماروں کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہے۔

یہ سن کر اس کے والد بہت ناراض ہوئے اور ماں کی بھی یہی کیفیت تھی،لیکن جمال نے انھیں قائل کر لیا۔
گاؤں میں اسکول کھل گیا۔وہ بچے جو بھٹک کر بے راہ راوی کا شکار ہو گئے تھے،راہ راست پہ آنے لگے تھے۔علم کی روشنی جسے اس نے اپنے دماغ میں محفوظ کی تھی،نوجوانوں میں منتقل کرنے لگا۔
اس کی محنت رنگ لائی اور اس بستی سے اکثر لوگ علم و شعور کے پیکر بن کر نکلنے لگے۔ اگر اسے درست وقت پر اپنی غلطی کا احساس نہ ہوتا تو شاید آج بھی وہ بستی بے نام رہتی۔
جب کہ آج وہ بستی”جمال والاں“ بستی کے نام سے جانی جاتی ہے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Ahmad Ka Ghora

احمد کا گھوڑا

Ahmad Ka Ghora

Machli Sab Ko Mili

مچھلی سب کو ملی

Machli Sab Ko Mili

Gumshuda Sherwani

گم شدہ شیروانی

Gumshuda Sherwani

Shurkiya

شکریہ

Shurkiya

Sahhi Chor

شاہی چور

Sahhi Chor

Ehsas

احساس

Ehsas

Parda Uth-ta Hai

پردہ اُٹھتا ہے

Parda Uth-ta Hai

Jhooti Izzat

جھوٹی عزت

Jhooti Izzat

Noni Ka Karnama

نونی کا کارنامہ

Noni Ka Karnama

دیانت داری

Dianat Daari

Waqt Ka Tohfa

وقت کا تحفہ

Waqt Ka Tohfa

Burai Ka Jawab

برائی کا جواب

Burai Ka Jawab

Your Thoughts and Comments