Meri Kitab - Article No. 1221

میری کتاب

سورج کی پہلی کرن کمرے میں داخل ہوئی تو علی کی آنکھ کھل گئی اور وہ بستر سے چھلانگ لگا کر اُٹھا ،کیوں کہ آج اسکول کی چھٹی تھی

پیر 5 نومبر 2018

meri kitab

غزالہ احمد امام
سورج کی پہلی کرن کمرے میں داخل ہوئی تو علی کی آنکھ کھل گئی اور وہ بستر سے چھلانگ لگا کر اُٹھا ،کیوں کہ آج اسکول کی چھٹی تھی۔سوچا،گھر بیٹھے کیا کیا جائے۔ناشتے کے بعد باہر کھیل کود کا پروگرام بنالیا۔

ٹوپی اُٹھائی اور بَلاّ ہاتھ میں لے کر کھیلنے کے لیے باہر جانے کی تیاری کی ۔ابھی ٹوپی سر پر رکھنے ہی والا تھا کہ پاس ہی سے کسی کے کھانسنے کی آواز آئی۔اِدھر اُدھر دیکھا کوئی نظر نہ آیا ،لیکن آواز برابر آتی رہی ۔اچانک کتابوں کے شیلف(SHELF)پر سے ایک بوسیدہ کتاب گری۔
علی نے حیرت سے دیکھا تو کتاب نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا:”میاں ! دیکھتے کیا ہو ،ہاتھ پکڑ کر سہارا دو۔“
علی حیران رہ گیا اور ہاتھ بڑھا کر کتاب اُٹھائی ۔پرانی کتاب نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا:”میاں ! میری زندگی کے چند روز باقی ہیں ۔

(جاری ہے)

اس کے بعد مجھے ردی میں بیچ دیا جائے گا اور نہ جانے میرا وہاں کیا حال ہو گا۔میں نے بہت سے لوگوں کو علم کی روشنی سے منور کیا ہے ،لیکن افسوس کہ آج میری بوسیدہ حالت کوکوئی سہارا دینے والا نہیں ۔دیکھا جائے تو مجھ میں کیا نہیں ہے ۔
انسائیکلو پیڈیا نام ہے میرا ،لیکن پرانی ہونے کی وجہ سے میری کوئی قدر نہیں ہے ۔میاں ! اب تو کمپیوٹر اور ٹی وی نے بچوں کا دھیان بالکل ہم پر سے ہٹا دیا ہے ۔“یہ کہہ کر کتاب زاروقطار رونے لگی۔
علی کو بہت افسوس ہوااس نے سوچا کہ اگر ہم اپنی پر انی کتابوں کو درست حالت میں رکھیں تو ہمارے بعد اور بھی لوگ انھیں ضرورت کے وقت پڑھ سکتے ہیں ۔
علی نے فوراً کتاب اُٹھائی اور جلد ساز کے پاس پہنچا۔جلد ساز کے پاس اور بھی بوسیدہ کتابیں اپنی باری کا انتظار کررہی تھیں ۔جلد ساز نے علی کو دودن کے بعد آنے کو کہا۔دودن گزر گئے علی جلد ساز کے پاس گیا اور دیکھا کہ دکان پر کئی نئی کتابیں رکھی ہیں ۔

ان ہی کتابوں میں سے سیٹی کی آواز آئی اور ایک نئی کتاب نے علی کو اشارہ کیا:”پہچانا اے دوست ! میں وہی انسائیکلو پیڈیا ہوں ،جسے تم پرانی حالت میں چھوڑ گئے تھے ۔تمھارے توجہ اور جلد ساز کی محنت سے آج مجھے نئی زندگی ملی ہے ۔
اب میں نئی صورت میں ہوں اور میری چمک دمک واپس آگئی ہے ۔مجھے خوشی ہے کہ اب میں کار گر ہو گئی ہوں ،مزید علم بانٹ سکتی ہوں ۔“
علی یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا اور جھٹ سے کتاب کو سینے سے لگا لیا۔جلد ساز کا شکریہ ادا کیا اور اس کی اُجر ت ادا کی۔اب علی کے پاس ہر کتاب نئی تھی ،کیوں کہ وہ کتابوں کی حفاظت اور ان سے محبت کرنا سیکھ گیا تھا۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Bakri Or Mein Mein

بکری اور میں میں

Bakri Or Mein Mein

Naik Nabina

نیک نابینا

Naik Nabina

Qoul O Feal

قول و فعل

Qoul O Feal

Chamaktay Sitary

چمکتے ستارے

Chamaktay Sitary

Aqal Mand Shahzadi

عقل مند شہزادی۔۔۔تحریر: مختار احمد

Aqal Mand Shahzadi

Be Gharz Naiki

بے غرض نیکی

Be Gharz Naiki

Hasad Ki Saza

حسد کی سزا

Hasad Ki Saza

Kaale Hath

کالے ہاتھ

Kaale Hath

Hamari Zehanat

ہماری ذہانت

Hamari Zehanat

Naik Dil Parosan

نیک دل پڑوسن

Naik Dil Parosan

Burhapay Ka Sahara

بڑھاپے کا سہارا

Burhapay Ka Sahara

Malomat

معلومات

Malomat

Your Thoughts and Comments