Mohammad SAW Hamare Bari Shaan Wale

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارے بڑی شان والے

اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید میں ایسی بہت سی آیتیں ہیں،جن سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان ظاہر ہوتی ہے۔

بدھ نومبر

Mohammad SAW Hamare Bari Shaan Wale

سید نظر زیدی
اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید میں ایسی بہت سی آیتیں ہیں،جن سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان ظاہر ہوتی ہے۔ان مقدس آیتوں اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مبارک زندگی کے واقعات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس دنیا اور اُس دنیا کے علاوہ اگر اور دنیائیں بھی ہیں تو ان سب میں بسنے والی مخلوق میں اللہ کے بعد ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کارتبہ سب سے زیادہ ہے۔

عام انسانوں کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام نبیوں کے سردار ہیں۔اللہ پاک نے اپنی ساری مخلوق میں انسان کو سب کا سردار بنایا ہے اور انسانوں میں سب کے سردار اور سب کے رہنما آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں۔آپ پر نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا سلسلہ ختم ہو گیا۔

(جاری ہے)

اب قیامت تک وہ تمام انسان آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلیں گے جو نیکی اور شرافت کے ساتھ زندگی گزارنے کی تمنا کرتے ہوں گے۔انسانی زندگی میں کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں ،جس میں ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی سب سے زیادہ اچھے اور سب سے زیادہ بڑے نہ ہوں۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سب سے زیادہ عبادت کرنے والے تھے۔سب سے زیادہ شریف اور نیک تھے۔سب سے زیادہ سخی،سب سے زیادہ بہادر ،سب سے زیادہ طاقتور ،سب سے زیادہ دوسروں کا بھلا چاہنے والے،سب سے زیادہ رحم دل اور سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔
سب اچھائیاں اور بزرگیاں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ختم تھیں۔حضور پُرنُور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مبارک زندگی کے چند واقعات یہاں درج کیے جاتے ہیں۔
اللہ پاک کی عبادت
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں۔
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اتنی لمبی نفلیں پڑھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیروں پر ورم آگیا تھا۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس قدر تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں۔
اللہ پاک نے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پہلے اور پچھلے سب گناہ بخش دیے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔کیا میں اپنے رب کاشکر گزار بندہ نہ بنوں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔جب نماز کا وقت آتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ حال ہو جاتا کہ جیسے کسی کو جانتے ہی نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس وقت تک اللہ پاک کے سواسب کو بھول جاتے تھے۔روزہ بھی فرض عبادت ہے۔رمضان کے روزے سب ہی مسلمان رکھتے ہیں،لیکن ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک مہینے کے ان روزوں کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی روزے رکھتے تھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کبھی کبھی اس طرح متواتر (ناغہ کے بغیر)روزے رکھتے تھے کہ ہمارا خیال ہوتا اس ماہ افطار ہی نہ فرمائیں گے اور کبھی مسلسل افطار فرماتے کہ ہمارا خیال ہوتا اس ماہ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کئی اور صحابیوں نے یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہر مہینے تین روزے رکھتے تھے۔نماز اور روزے کی طرح جہاد ،یعنی کافروں سے جنگ کرنا بھی فرض عبادت ہے۔ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک روایت کے مطابق25اور دوسری روایت کے مطاق27جنگوں میں حصہ لیا۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جن لڑائیوں میں خود حصہ لیا انھیں غزوات کہتے ہیں۔
بہادری
ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی کے بہت سے واقعات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ بہت بہادر اور شجاع تھے۔سنہ 3ہجری کا واقعہ ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو معلوم ہواکہ ایک قبیلے کا سردار وعشوربن الحارث محاربی مدینہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے اور اس کے ساتھ ساڑھے چار سو آدمی ہیں۔یہ خبر سن کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجاہدوں کا لشکر لے کر اس کا حملہ روکنے کے لیے روانہ ہوئے،لیکن لڑائی کی نوبت نہ آئی۔
وعشور نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آنے کی خبر سنی تو بھاگ گیا۔
واپسی کے وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کچھ دیر آرام کرنے کے لیے ایک درخت کے سائے میں لیٹ گئے اور اپنی تلوار اور درخت کی شاخ سے لٹکادی۔وعشور قریب ہی چھپا ہوا تھا۔
اس نے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو درخت کے سائے میں تنہا لیٹے ہوئے دیکھا تو چپکے چپکے آکر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تلوار اتارلی اور کہنے لگا۔”اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم !بتاؤ اب تمھیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتاہے؟“
یہ بڑا نازک وقت تھا۔
دشمن ننگی تلوار ہاتھ میں لیے سر پر کھڑا تھا،لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ذرا نہ گھبرائے،آسمان کی طرف انگلی سے اشارہ کرکے اطمینان بھری آواز میں فرمایا۔”میراا للہ مجھے بچائے گا۔“
بیان کیا جاتا ہے یہ جواب سن کر وعشور ایسا گھبرا یا کہ اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تلوار اٹھالی اور فرمایا۔”بتا اب تجھے میرے ہاتھ سے کون بچا ئے گا۔؟“
وعشور کیا جواب دیتا،کہنے لگا۔”مجھے تو آپ ہی بچا سکتے ہیں۔“حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس کی بے بسی پر رحم آگیا۔
فرمایا کہ جا،تو آزاد ہے۔”اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس رحم دلی کا وعشور پر ایسا اثر ہوا کہ وہ اسی وقت مسلمان ہو گیا۔
غصے پر قابوپانا
#حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ایک صحابی حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔
میں مدینہ کے ان یہودیوں میں سے تھا جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اچھی باتیں سن کر یہ خیال کرنے لگے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم واقعی اللہ کے رسول ہیں،لیکن مسلمان ہونے سے پہلے پوری طرح اطمینان کرنا چاہتاتھاکہ میرا اندازہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں۔

ایک بار ایسا ہواکہ مسلمان ہو جانے والے ایک غریب بدوکی مدد کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے قرض لیا اور فرمایا۔فلاں وقت تک کھجوروں کی شکل میں یہ رقم لوٹادی جائے گی۔جو وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مقررکیا تھا،میں اس سے کچھ پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس گیا اور قرض ادا کرنے کا تقاضا کیا۔
غصہ دلانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی چادر کا کونہ پکڑ کر زور سے گھسیٹا اور کہا:”تم میرا قرض کیوں ادانہیں کرتے۔خدا گوا ہ ہے عبدالمطلب کی اولاد بڑی ہی نادہندہ ہے۔“
اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بیٹھے تھے۔
میری یہ بات سنی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ غصے سے بے قابو ہوکر میری طرف بڑھے،لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انھیں روک دیا اور مسکراتے ہوئے فرمایا!”عمر رضی اللہ عنہ تمھیں چاہیے تھا کہ مجھے قرض ادا کرنے کے لیے کہتے اور زید کو نرمی سے تقاضا کرنے کی تاکید کرتے۔
خیر اب جاؤ ان کا قرض ادا کردو۔انھیں بیس صاع کھجوریں زیادہ دینا۔“حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم واقعی اللہ کے رسول ہیں۔

Your Thoughts and Comments