Muqadar Ka Likha

مقدر کا لکھا

بوڑھے نے پوچھا:”بیٹی! تمھارا نام کیا ہے اور تمھارے ماں باپ کہاں ہیں ؟“ ”بابا ! میرا نام عارفہ ہے ۔میرے والدین فوت ہو چکے ہیں ۔میں یتیم ہوں۔“لڑکی نے جواب دیا۔

جمعہ جنوری

muqadar ka likha

راؤجی
بوڑھے نے پوچھا:”بیٹی! تمھارا نام کیا ہے اور تمھارے ماں باپ کہاں ہیں ؟“
”بابا ! میرا نام عارفہ ہے ۔میرے والدین فوت ہو چکے ہیں ۔میں یتیم ہوں۔“لڑکی نے جواب دیا۔
بوڑھا بولا:”اوہ․․․․․اللہ رحم کرے۔

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ یتیموں سے پیارومحبت سے پیش آؤ،ان سے ہمدردی کرو۔دیکھو،میری ایک بیٹی ہے ،میری دوسری بیٹی بن کر تم اس کے ساتھ رہ سکتی ہو۔“
لڑکی بولی:”بابا! یہ تو میرے لیے بڑی عزت کی بات ہو گی ،میں تیار ہوں ۔

”تو پھر بسم اللہ ،چلو میر ے ساتھ۔“یہ کہہ کر بوڑھے نے اپنا سامان سمیٹا اور لڑکی کو ساتھ لیے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا۔راستے میں ایک مچھلی والا آواز لگا رہا تھا :”تازہ مچھلی سستے داموں لے لو۔

(جاری ہے)


بوڑھے نے سن کر کہا:”میری بیٹی رضیہ روزانہ مچھلی کی فرمایش کرتی ہے۔

اتنے پیسے ہی نہیں ہوتے جو میں لوں !“
لڑکی بولی:”بابا! دیکھ لیتے ہیں ،شاید کوئی سستی مچھلی مل جائے۔“
وہ دونوں مچھلی کے ٹھیلے پر پہنچے تو لڑکی کی نظر ایک سرخ مچھلی پر پڑی ۔اس نے مچھلی والے سے پوچھا:”یہ مچھلی کتنے کی ہے؟“
”یہ آٹھ پیسے کی ہے۔

”بھئی ،ہمارے پاس صر ف چار پیسے ہیں ،چار پیسوں میں دے دو!“
مچھلی والے نے لڑکی کی طرف دیکھا ،جس کی آنکھوں میں بے بسی ،التجا تھی ۔اس نے کہا:”اتنی بڑی مچھلی اور چار پیسے۔“پھر کچھ سوچ کر بولا:”اچھا چلو ،لے جاؤ !“
لڑکی نے فوراً اپنے پلو سے چار پیسے کھولے اور مچھلی والے کو دے کر مچھلی اُٹھالی۔
بوڑھا خوش ہو گیا اور لڑکی سے کہنے لگا:”آج تمھاری بہن رضیہ کی خواہش پوری ہو جائے گی ،بہت دنوں سے مچھلی پکانا چاہ رہی تھی ۔“
گھر پہنچ کر بوڑھے نے عارفہ کو اپنی بیٹی رضیہ سے ملوایا اور کہا:”یہ بھی تمھاری طرح میری بیٹی ہے ۔
اب میری ایک نہیں دو بیٹیاں ہیں ۔“
عارفہ نے رضیہ کو مچھلی دکھاتے ہوئے کہا:”دیکھو! آج ہم نے تمھاری خواہش پوری کردی۔“
عارفہ نے جیسے ہی سرخ مچھلی کا پیٹ چاک کیا اور آلایش صاف کرنے لگی ،اس میں سے بڑے انگور کی مانند ایک چمکتا ہوا پتھر نکلا۔
اس پتھر کی چمک آنکھوں کو خیرہ کیے دے رہی تھی ۔عارفہ نے اسے بوڑھے کو دیتے ہوئے کہا:”بابا! یہ ہیرا ہے۔“
بوڑھے نے پوچھا:”تم کیسے جانتی ہو ؟یہ عام پتھر بھی تو ہو سکتا ہے ۔“
”بابا! میں جانتی ہوں ،میری بات کا یقین کریں ،یہ بہت مہنگا بکے گا۔
اسے سنبھال کر رکھیں اور دس ہزار روپے سے کم قیمت پر ہر گز فروخت نہ کیجیے گا۔“عارفہ نے بوڑھے کو یقین دلاتے ہوئے کہا۔وہ بوڑھے کو یہ نہیں بتانا چاہتی تھی کہ وہ محل میں کنیزرہ چکی تھی اور اسے ہیروں کی خوب پہچان ہے ۔
بوڑھا بولا:”بیٹی ! میری بات کا کون یقین کرے گا؟“
”یہ ہیرا خود ایک یقین ہے ۔
جب سنار ا ور جوہری آپ کو یہ رقم دینے کے لیے تیار ہوں گے تو آپ کو خود یقین آجائے گا۔وہ کم میں لینا چاہیں گے ،لیکن آپ دس ہزار سے ایک پیسہ کم نہ کیجیے گا۔وہ اتنے پیسے خوشی سے دیں گے ،کیوں کہ اس کی اصل قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے ۔
“عارفہ نے بوڑھے کو یقین دلایا۔
اگلے دن بوڑھا ،عارفہ کی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے گھر سے نکلا اور صرافہ بازار پہنچ گیا۔ہر جوہری کی آنکھیں ہیرے کو دیکھ کر چمک اُٹھیں اور وہ یہی سوال کرتا تھا کہ یہ تمھیں کہاں سے ملا؟پھر وہ مصنوعی سی لاپرواہی دکھا کر کم دام لگاتا،لیکن بوڑھا عارفہ کی ہدایت کے مطابق یہی جملہ دہراتا:”میں دس ہزار روپے سے ایک پیسہ کم نہ لوں گا۔

بوڑھے کے ہیرے کی خبر پورے صرافہ بازار میں پھیل گئی۔ہر جوہری اسے کم داموں خریدنا چاہتا تھا۔
آخر ایک بڑے صراف نے پانچ ہزار روپے لگا ئے ،جس کے پاس کئی صراف جمع تھے ۔بوڑھے نے وہی جملہ دہرادیا۔ایک طرف سے آواز آئی :”دے دو میاں جی ! جو یہ مانگ رہا ہے ،ورنہ سوداہاتھ سے نکل جائے گا۔
لگتا ہے کسی نے اسے سکھا پڑھا کر بھیجا ہے ۔“
یہ سن کر بڑے صراف نے تجوری میں سے دس ہزار روپے نکالے اور بوڑھے کو دے کر ہیرا اس سے لے لیا۔
دس ہزار روپے لے کر جب بوڑھا گھر پہنچا تو خوشی سے نہال ہورہا تھا۔اس نے عارفہ سے کہا:”بیٹی! تُو اچھی قسمت والی ہے ،تیری شکل میں خوش نصیبی میرے گھر میں آئی ہے ۔

”نہیں بابا! اللہ نے آپ کی سن لی ہے ۔آپ نے ایک بے سہارا لڑکی کو سہارا دیا ،اللہ کو آپ کی یہ بات پسند آئی اور اس نے آپ کو اپنے فضل وکرم سے نواز دیا۔“عارفہ نے جواب دیا۔
”آج اچھا سا کھانا پکاؤ ،گوشت پکاؤ ،مدت ہوئی گھر میں گوشت نہیں پکا۔
“بوڑھا بچوں کی طرح خوش ہو کر بولا۔
اس رقم سے بوڑھے نے اچھے علاقے میں کشادہ سڑک کے کنارے ایک بڑا سا دومنزلا مکان خریدا ۔اوپر کی منزل میں رہایش اختیار کی اور نیچے ایک بہت بڑی دکان کھول لی،جس میں ہر قسم کا سامان رکھا۔

دیکھتے ہی دیکھتے بوڑھے کی دکان چمک گئی اور ”عارفہ کی دکان “کے نام سے پورے شہر میں مشہور ہو گئی۔بوڑھے نے اپنی دکان کا نام اپنی دوسری بیٹی عارفہ کے نام پر رکھا تھا ،جسے وہ بہت نصیبوں والی سمجھتا تھا ۔دکان خوب چلنے لگی تو بوڑھے نے بہت سارے ملازم رکھ لیے اور وہ خود سیٹھ بن کر گاہکوں سے پیسے وصول کرتا رہتا ۔
بوڑھے اور اس کی دو نوں بیٹیوں کی زندگی عیش سے گزرنے لگی۔
کچھ عرصے کے بعد وہ دونوں وزیر زادے جنگل میں شکار کھیلنے آئے تو انھیں بوڑھے کا خیال آیا اور وہ بوڑھے کا حال معلوم کرنے کے لیے اس کے ٹھکانے پر پہنچے ۔وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں ایک جوان آدمی بیٹھا رسیاں بُن رہا ہے ۔
انھوں نے اس سے پوچھا کہ یہاں ایک بزرگ ریساں بُنتے تھے ،وہ کہاں ہیں ؟
”ارے جناب ! وہ تو اب بڑے بیو پاری ہو گئے ہیں ۔شہر میں سب سے بڑی دکان ان ہی کی ہے ۔“
جو ان رسی بان نے جواب دیا۔
رسی بان سے بوڑھے کا پتا لے کر جب وہ ذرا آگے بڑھے تو ایک وزیر زادے نے دوسرے سے کہا:
”لگتا ہے تمھارے دیے ہوئے پانچ سوسکے کام کرگئے۔

دونوں وزیر زاد ے بوڑھے رسی بان کی دکان پر پہنچ گئے اور سیٹھ کی گدی پر بیٹھے ہوئے دیکھ کر حیرت ومسرت میں ڈوب گئے ۔بوڑھے نے انھیں پہچان لیا ۔فوراً گدی سے نیچے اُتر کر ان کی قدم بوسی کی اور دکان میں لے گیا۔
”بڑے صاحب ! یہ سب کیسے ہوا؟کیا میرے دیے ہوئے پانچ سو سکے کام کر گئے ؟“بوڑھے کی مدد کرنے والے وزیرزادے نے سوال کیا۔

جواب میں بوڑھے نے تمام داستان سنائی اور کہا:”اللہ نے اس لڑکی کو میرے گھر میں رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔میں نے اسے اپنی بیٹی بنا لیا ہے ۔یہ دکان بھی اسی کے نام پر ہے ۔“
”پھر تم ہم آپ کی اس بیٹی سے ضرور ملنا چاہیں گے ۔
“دونوں وزیرزادے یک زبان ہو کر بولے۔
”ضرور ،ضرور ملواؤں گا اور میں آپ کو کھانا کھائے بغیر واپس نہیں جانے دوں گا،مجھے بھی خدمت کا موقع دیجیے۔“بوڑھے نے ہاتھ جوڑکرکہا۔
عارفہ کو دیکھ کر دونوں وزیرزادے حیران رہ گئے۔
وہ انھیں بہت اچھی لگی۔رحم دل وزیرزادے ،جس نے دو مرتبہ بوڑھے کی مدد کی تھی ،اس نے بوڑھے سے اپنی پسند کا اظہار کردیا۔
بوڑھا،وزیر زادے کے احسان تلے دبا ہوا تھا ،اس لیے وہ کچھ نہ کہہ سکا ،البتہ عارفہ سے اس کی مرضی ضرور معلوم کی۔
اسے راضی پاکر بوڑھا بہت خوش ہوا اور وزیرزادے کو خوش خبری سنائی اور کہا:”اپنے والد سے کہیے کہ وہ باقاعدہ رشتہ لے کر آئیں ،تاکہ شایان شان طریقے سے تمام کام انجام دیے جا سکیں ۔“
کچھ دن بعد وزیر زادے کے والد،جو بادشاہ کے وزیر خاص تھے ،اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر بوڑھے کے گھر پر پہنچ گئے۔
وزیر موصوف اور ان کے لاؤ لشکر کو دیکھ کر بوڑھے کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔پورے محلے میں شور مچ گیا کہ بوڑھے کی بیٹی عارفہ کا شاہی محل سے رشتہ آیا ہے ۔
طے شدہ تاریخ اور دن پر ہاتھیوں پر سوار عارفہ کی بارات آگئی۔بارات کے آگے نقارچی ،سازندے اور شہنائی نواز تھے ،جو آمدِ بارات کا پتا دے رہے تھے ۔
وزیر زادہ ایک سجے ہوئے ہاتھی پر سوار تھا ۔اس کے پیچھے وزیرخاص اپنے خاص ہاتھی پر سوارتھے ۔ان کے پیچھے ہاتھیوں کی ایک قطار تھی ،جن پر دیگر معزز مہانوں کے علاوہ قیمتی اور نایاب تحفے بھی تھے ،جو ہودوں پر لدے ہوئے تھے ۔ہر ہودے میں ایک کنیز زیورات اور قیمتی ملبوسات سنبھالے بیٹھی تھی ۔
ہاتھیوں کے پیچھے پالکیوں کی قطار تھی ،جن میں شہزادیاں ،وزیرزادیاں اور بیگمات جلوہ افروز تھیں ۔بارات کے دونوں جانب چاق چو بند خدام چل رہے تھے ،
بارات کے پیچھے مستعد گھڑ سواروں کا محافظ فوجی دستہ تھا۔
ایسی شان دار بارات تو محلے والوں نے کیا پورے شہر والوں نے نہیں دیکھی تھی۔

بارات دیکھنے کے لیے پورا شہر اُمنڈآیا۔بوڑھے نے بھی بارات کے استقبال ،گھر کی سجاوٹ ،خوب صورت شامیانے لگانے اور قالینوں کے فرش بچانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔اس نے اپنی تجوری کا منھ کھول دیا اور بارات کی ضیافت پر بے دریغ خرچ کیا اور پُر وقار مہمانوں کے شیایان شان ایسا انتظار کیا کہ سب اَش اَش کر اُٹھے ۔
بوڑھا سب سے کہتا تھا کہ یہ سب کچھ مجھے میری بیٹی عارفہ کے نصیب سے ملا ہے ،میں اس کی شادی میں کوئی کمی نہیں چھوڑوں گا۔
عارفہ کہتی تھی :”نہیں بابا! اللہ کو آپ کی کوئی بات ،کوئی نیکی بہت پسند آئی اور اس نے آپ پر اپنا فضل وکرم کردیا۔

مگر بوڑھا یہی کہتا تھا :”بیٹی! یہ سب تمھارا مقدر ہے۔“
عارفہ کی شادی وزیر زادے سے بخیر وخوبی انجام پاگئی اور وہ پُر نم آنکھوں سے رخصت ہو کر وزیر کے محل پہنچ گئی ۔بوڑھا عارفہ کو رخصت کرتے ہوئے ایک باپ کی طرح بہت افسردہ تھا،آنسوؤں سے اس کی داڑھی بھیگ گئی تھی۔

وزیر خاص ،جس کی حیثیت وزیر اعظم جیسی تھی ،اس کا محل روشنیوں سے جگمگارہا تھا ۔آج وزیر زادے اور عارفہ کی تقریب ولیمہ تھی ۔عارفہ قیمتی لباس میں اپنے شوہر کے پا س بیٹھی تھی ۔اس کی نشست کو خصوصی طور پر سجایا گیا تھا ،جس پر بیٹھی وہ کوئی پری لگ رہی تھی ۔
رزق برق لباس زیبِ تن کیے تقریباً تمام مہمان آچکے تھے ۔ہر طرف رنگ وبُو کا ایک طوفان تھا ۔صرف بادشاہ سلامت اور ان کی ملکہ کا انتظار تھا ،جو آنے والے تھے۔
اچانک محل میں ”با ادب ،باملا حظہ “کا شور اُٹھا اور بادشاہ سلامت اپنی ملکہ اور وزیر خاص کے ساتھ تقریب میں تشریف لے آئے۔
ان کے استقبال کے لیے وزیر زادہ،عارفہ اور تمام مہمان کھڑے ہوگئے اور آداب بجا لائے ۔وزیر خاص نے دلھن سے بادشاہ سلامت کا تعارف کرایا۔عارفہ کو دیکھ کر بادشاہ چونک گیا اور پھر اسے پہچاننے کی کوشش کرتے ہوئے بولا:”تم شاید عارفہ ہو؟“
”جی ہاں بادشاہ سلامت ! میں عارفہ ہی ہوں ۔
آپ کو یاد ہے کہ میری ایک بات سے ناراض ہو کر آپ نے مجھے محل سے نکال دیا تھا ،لیکن دیکھیے ،بادشاہ سلامت! میرے مقدر میں محل تھا ،محل مجھے پھر مل گیا۔“
”ہاں ،مجھے یاد ہے ،تم نے کہا تھا کہ میں اپنے مقدر کی وجہ سے محل میں ہوں ۔

عارفہ نے پوچھا:”بادشاہ سلامت ! کیا میری یہ بات غلط تھی ؟“
بادشاہ نے کہا:”تمھارے موجودہ حالات اور مقام ومرتبہ دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ تمھاری بات درست تھی ۔واقعی یہ ٹھیک ہے کہ انسان کا مقدر اس کے ساتھ ہے ،لیکن اسے تدبیر ،عقل اور جدوجہد سے بھی کام لینا چاہیے۔“

Your Thoughts and Comments