Na Shukrii

Na Shukrii

نا شُکری

اُف امی کتنی گرمی ہے ،نماز پڑھنی مشکل ہوگئی ہے ۔ اوپر سے یہ لوڈ شیڈنگ کا سانپ ڈسنے سے باز ہی نہیں آرہا

نا شُکری
ثروت یعقوب
اُف امی کتنی گرمی ہے ،نماز پڑھنی مشکل ہوگئی ہے ۔ اوپر سے یہ لوڈ شیڈنگ کا سانپ ڈسنے سے باز ہی نہیں آرہا۔ شازیہ نے اپنا پسنہ صاف کرتے ہوئے کہا۔ ہاں شازیہ! تم ٹھیک کہتی ہو ،دیکھو تو سہی یہ لمبے لمبے درخت کیسے خاموش کھڑے ہیں۔
ذرایہ اپنے پرہلائیں تو ہوا چلے او ر سکون ملے امی جان نے شازیہ کی تائید کی۔ اور امی یہ گرمیوں کا موسم گزارنا کتنا مشکل ہے اس گرمی میں انسان ڈھنگ سے کوئی کام ہی نہیں کرسکتا۔ کھانا پکانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ میں نے تو سوچا تھا کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں کوئی کورس وغیرہ کروں گی مگر ہائے رے گرمی! یہ تو گھر سے باہر ہی نہیں نکلنے دیتی۔
شازیہ اپنا غصہ نکال رہی تھی۔ ہاں شازیہ اس آگ برساتے سورج نے ہر ایک کو تنگ کررکھا ہے ۔

(جاری ہے)

نہ جانے کتنے کام ہیں جو اس گرمی کی وجہ سے رہ جاتے ہیں، امی جان نے کہا۔ سردی کا موسم کتنا اچھا ہوتا ہے، آرام سے رضائی اوڑھ کر میٹھی نیند کے مزے لو اور دوپہر کو نرم نرم سی دھوپ سے اپنے جسم کو گرم کرو۔

جہاں چاہے چلے جاؤ کوئی مشکل نہیں اور جو چاہو نی نئی نئی ڈش بنا کر مزے مزے سے کھاؤ،سچ امی مجھے تو سردیوں کے دن یاد آرہے ہیں۔ اللہ کرے جلدی سے سردیاں آجائیں۔ شازیہ نے ہاتھ پھیلا کر دعا کی۔ شازیہ! یہ لکھ رہی ہو؟ تھوڑی دیر بعد جب امی کمرے میں آئیں تو شازیہ ادریس احمد کو کچھ لکھتے پایا امی! میں گرمی کی تباہ کاریوں اور سردی کی خوشگواریوں پر ایک مضمون لکھ رہی ہوں۔
شازیہ جلدی سے جاکر وضو کر آؤ اور میرے ساتھ نماز پڑھو امی جان نے جائے نماز پر کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔ امی تنی سردی ہے اس سردی کے موسم میں باہر نکلنا کتنا مشکل ہے۔ باہر تو بڑی سردی ہے اور پانی بھی بہت ٹھنڈا ہے، اگر میں باہر نکلی تو میری قلفی جم جائے گی۔
پلیز امی! پانی گرم کرکے دے دیں شازیہ نے منہ بسورتے ہوئے التجا ئیہ لہجے میں امی سے کہا۔ شازیہ !ہمت کرکے وضو کرآؤ۔ گیس بھی نہیں آرہی کہ میں تمہیں پانی گرم کرکے دوں۔ جاؤ شاباش! امی نے اُ سے زبردستی وضو کرنے بھیجا۔ شازیہ کمرے سے باہر نکلی تو یخ بستہ ٹھنڈی ہوا نے اُسکا زبردست استقبال کیا۔
اُسے لگا کہ اِس سرد موسم میں اُسکا خون منجمد ہو جائے گا، وضو کرکے وہ کمرے میں آئی تو امی تسبیح پڑھ رہی تھی۔ امی ! کتنی ٹھنڈ ہے باہر ، اس سردی نے تو سارے کام ہی روکے ہوئے ہیں۔ میں نے تو سوچا تھا کہ آج کپڑے دھوؤں گی مگر سورج ہے کہ اُس نے اپنا چہرہ ہی چھپا رکھا ہے اور ایک ہفتے سے بادلوں کا نقاب اوڑھ رکھا ہے ۔
شازیہ بولی۔ ہاں، شازیہ! مجھے بھی چادر دھونی ہے لیکن دھوپ ہی نہیں نکل رہی ،امی نے شازیہ کی تائیدکی۔ امی! مجھے تو گرمیوں کے خوبصورت دن یاد آ رہے ہیں، لمبے لمبے دنوں میں جو چاہے کرو سردیوں میں تو دن ہی اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ بہت سے کام رہ جاتے ہیں۔
شازیہ نے کہا اور نماز پڑھنے کیلئے جائے نماز بچھانے لگی۔ شازیہ ! کیا لکھ رہی ہو، امی نے شازیہ کو کچھ لکھتے دیکھا تو پوچھا ، امی! میں ایک مضمون لکھ رہی ہوں موسم سرماکے بارے میں شازیہ نے کہا۔ اچھا اچھا تم ضرور سردیوں کی تباہ کاریوں اور گرمی کی خوشگواریوں پر کچھ لکھ رہی ہوگی۔
پچھلے سال بھی تم نے کچھ ایسا ہی مضمون لکھا تھا۔ امی جان نے کہا تو شازیہ نے نفی میں سرہلایا۔ نہیں امی۔ مضمون ضرور موسم سے متعلق ہے لیکن عنوان یہ نہیں ہے” انسان کی ناشکریاں“ امی !ہم بہت ناشکرے ہیں ، ایک چیز ملتی ہے تو بجائے شکر کرنے کے اُس میں خامیاں ڈھونڈنے لگتے ہیں، مگر بھول جاتے ہیں کہ ہر چیز کا اپنا مزہ،اپنا رنگ اور اپنے ہی جلوے ہیں۔
گرمیاں آتے ہی تو گرمی کارونالے کر بیٹھ جاتے ہیں، مگر بھول جاتے ہیں کہ اناج کو پکنے کے لئے گرمی کی ضرورت ہوتی ہے سردیاں آتی ہیں تو سردی کو کوسنے لگ جاتے ہیں مگر اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ سارا سال ایک ہی موسم ایک ہی رنگ ہو تو منظر کتنا خوفناک ہوگا؟ امی ! چاروں موسم بہت اچھے ہیں، مگر ہم لوگ ہی ناشکرے ہیں۔ ہاں امی بہت ناشکرے ہیں۔

Your Thoughts and Comments