Nadan Sanjhey Dar - Article No. 1971

نادان ساجھے دار

جلد بازی اور لڑنے کی وجہ سے تینوں اپنے مقصد میں ناکام ہوئے

بدھ 19 مئی 2021

Nadan Sanjhey Dar
جاوید بسام
کوا ایک درخت پر بیٹھا تھا کہ اس نے نیچے سے لومڑی کو گزرتے دیکھا۔اس کے بڑے بڑے کان سیدھے کھڑے تھے اور بالوں بھری دُم لہرا رہی تھی۔کوے کو غصہ آگیا۔اُسے یاد آیا کہ کس چالاکی سے لومڑی نے اس سے پنیر کا ٹکڑا ہتھیا لیا تھا۔
جب لومڑی دور چلی گئی تو اُس نے کائیں کائیں کرکے آسمان سر پر اُٹھانے کی کوشش کی،مگر دوسرے کوؤں نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔
کچھ دیر بعد کوے نے ایک بکری کو آتے دیکھا۔وہ لنگڑا کر چل رہی تھی۔کوا اُڑ کر نیچے آگیا اور بولا:”بی بکری!تم اس طرح کیوں چل رہی ہو؟“
بکری نے سر اُٹھا کر دیکھا،آہ بھری اور بولی:”لومڑی نے مجھے کنویں میں گرا دیا تھا۔
میری قسمت اچھی تھی کہ وہاں ایک آدمی آگیا۔اس نے مجھے نکالا،مگر میری ٹانگ ٹوٹ گئی۔

(جاری ہے)


”اوہ․․․․․تم وہی بکری ہو؟“
”ہاں بھائی!میں وہی بدنصیب ہوں۔“بکری ممیا کر بولی۔
”مجھ سے ایک دفعہ لومڑی نے پنیر کا ٹکڑا چھین لیا تھا۔

“کوا بولا۔
”اچھا،پھر تو ہم میں دوستی ہو سکتی ہے،کیونکہ ہمارا دشمن ایک ہی ہے۔“
”ہاں،بلکہ ہمیں ان سب جانوروں کو تلاش کرنا چاہیے،جنھیں لومڑی سے تکلیف پہنچی تھی۔“کوے نے کہا۔
بکری نے گردن ہلائی اور بولی:”ایک دفعہ ایک مرغا بھی اس کا شکار بن گیا تھا۔
لومڑی نے اُس کی اتنی چاپلوسی کی کہ وہ بے چارہ باتوں میں آگیا اور اپنی جان سے گیا۔“
”کیا تم اس کے کسی رشتے دار کو جانتی ہو؟“کوے نے پوچھا۔
”نہیں،مگر مجھے معلوم ہے مرغوں کی بستی کدھر ہے۔آؤ،وہاں چلتے ہیں۔
“یہ کہہ کر بکری چل دی۔کوا اس کے سر پر اُڑنے لگا۔
بہت دور چلنے کے بعد وہ مرغوں کی بستی میں پہنچے۔مرغوں کی بستی ان کی بانگوں سے گونج رہی تھی۔سارے مرغے ککڑوں کوں․․․․․ککڑوں کوں کر رہے تھے۔کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔
دونوں بستی میں گھومتے رہے۔آخر انھیں ایک کمزور سا مرغا نظر آیا،جس کے پَر نُچے ہوئے تھے۔اس کے گلے میں پٹی بندھی تھی اور وہ بانگ نہیں دے رہا تھا۔
بکری نے اس سے بات کی۔وہ ان کے ساتھ بستی سے باہر آگیا۔کچھ دور آکر کوے نے کہا کہ ہم لومڑی کے ستائے ہوئے لوگ ہیں اور اس مرغے کے رشتے داروں کی تلاش میں ہیں جسے لومڑی نے کھا لیا تھا۔
مرغے کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔وہ اپنی کمزور آواز میں بولا:”وہ بدنصیب مرغا میں ہی ہوں۔“
”لیکن ہم نے تو سنا تھا کہ لومڑی اُسے کھا گئی تھی؟“دونوں حیرت سے بولے۔
”نہیں نہیں،میں اتفاق سے بچ گیا تھا،مگر اس حادثے کے بعد سے بیمار چلا آرہا ہوں۔
“مرغا بولا۔
”اچھا ہوا تم مل گئے۔ہم لومڑی سے بدلہ لینے نکلے ہیں۔“کوے نے کہا۔
”میں تمہارے ساتھ ہوں۔“مرغا خوش ہو کر بولا۔
”چلو ایسی جگہ چلتے ہیں جہاں ہماری باتیں کوئی اور نہ سن سکے۔“بکری بولی۔

تینوں چل دیے۔چلتے چلتے وہ انگوروں کے باغ میں پہنچے اور ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔اچانک آواز آئی۔کوئی کہہ رہا تھا:”لومڑی کے ستائے ہوئے صرف تم نہیں ہو،میں بھی ہوں۔“
انھوں نے اِدھر اُدھر دیکھا،مگر کوئی نظر نہیں آیا۔
وہ خوف زدہ ہو گئے۔
آواز پھر آئی:”ڈرو مت،میں وہ انگور کا گچھا ہوں جس کے بارے میں لومڑی کا خیال تھا کہ وہ کٹھے ہیں۔“
یہ کہہ کر انگوروں کا ایک گچھا کود کر نیچے آگیا۔تینوں اسے دیکھ کر خوشی سے کھل اُٹھے۔کوا بولا:”ہماری طاقت بڑھتی جا رہی ہے۔
اب لومڑی ہم سے نہیں بچ سکتی۔“چاروں نے مل کر نعرہ لگایا:”بی لومڑی!آگیاتمہارا بُرا وقت۔“
وہ دیر تک جوشیلے نعرے لگا کر اپنا لہو گرماتے رہے،پھر کوے نے تقریر کی:”میرے دوستو!لومڑی بہت طاقتور ہے۔ہمیں اس سے نمٹنے کے لئے اتحاد کرنا ہو گا۔
ہم مل کر اسے شکست دے سکتے ہیں۔جب سارے تنکے آپس میں ملتے ہیں تو مضبوط جھاڑو بن جاتی ہے۔ہم بھی مل کر لومڑی کا ستیاناس کر دیں گے۔“
سب نے تائید کی،پھر کوا سرگوشی میں بولا:”اچھا اب آپ لوگ میرا منصوبہ سنیں۔پہلے ہم لومڑی کی نگرانی کریں گے،تاکہ پتا چل سکے کہ وہ کس وقت اپنے ٹھکانے سے باہر آتی ہے؟دن بھر کس کس سے ملتی ہے اور اسے کھانے میں کیا پسند ہے؟جب یہ معلوم ہو جائے گا تو ہم اپنا اگلا منصوبہ بنائیں گے اور لومڑی کو اس کے کیے کی سزا دیں گے۔

”مگر لومڑی کی نگرانی کون کرے گا؟“مرغے نے پوچھا۔
”پہلے بکری کو یہ خدمت انجام دینی ہو گی۔“کوا بولا۔
اگلے دن بکری جھاڑیوں میں چھپ کر لومڑی کی نگرانی کر رہی تھی۔شام کو جب وہ انگور کے باغ میں آئی تو بہت غصے میں تھی۔
وہ کوے سے لڑنے لگی:”تم عجیب احمق کوے ہو۔میرا سارا دن ضائع کر دیا۔بھلا بتاؤ یہ کوئی بات ہے کہ لومڑی کب باہر آتی ہے،کس سے ملتی ہے،کیا کھاتی ہے؟ارے بھائی وہ جانور ہے،کوئی انسان نہیں۔“
”تو کیا تم نے اس کی نگرانی نہیں کی؟“کوے نے پوچھا۔

”کی،ضرور کی،مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔“بکری چلائی۔
”فائدہ ہو گا۔جب ہمیں یہ معلومات ہو جائے گی تو ہم اسے کسی ایسی جگہ لے جا کر مار سکتے ہیں،جہاں کوئی گڑھا یا کنواں ہو۔اس کے کسی دوست کو اپنے ساتھ ملا کر اس کے کھانے کی پسندیدہ چیز میں زہر ملا سکتے ہیں۔
“کوا غصے سے بولا۔
”تو سنو عقل مند کوے!وہ کوئی خاص جگہ پر نہیں رہتی،بس خوراک کی تلاش میں اِدھر اُدھر گھومتی رہی،اس نے کسی سے ملاقات نہیں کی،کیونکہ اس کا کوئی بھی دوست نہیں،اسے جو کچھ کھانے کو ملا،اس نے کھا کر خدا کا شکر ادا کیا۔
اب بتاؤ تم کیا کرو گے؟“
کوے نے اپنا سر پیٹ لیا اور بولا:”تم بہت لڑاکا بکری ہو۔“
”کیوں نہ ہم مل کر نگرانی کریں۔“مرغے نے صلاح دی۔
انگوروں کے گچھے نے بھی اس بات کی تائید کی۔آکر فیصلہ ہوا کہ کل سب مل کر نگرانی کریں گے۔

اگلے دن چاروں لومڑی کے بھٹ کے قریب چھپے ہوئے تھے،مگر وہی ہوا۔وہ بار بار باہر آتی اور اِدھر اُدھر منہ اُٹھا کر چل دیتی۔کچھ جانوروں سے وہ لڑی،کچھ سے جان بچا کر بھاگنا پڑا۔
شام ہوئی تو وہ تھکے ہارے انگور کے باغ میں پہنچے۔
سب بھوکے اور غصے میں تھے۔
بکری چلائی:”اب تمہیں یقین آیا کہ میری بات غلط نہیں تھی۔“
مرغا بولا:”تمہارا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے۔“
”تو تم کوئی ترکیب کر و۔“کوا جل کر بولا۔
”میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔
“بکری چیخی۔
”ہاں اور میں تو جیسے سارا دن دعوت اُڑاتا ہوں۔“کوا بولا۔
”بھوک سے میری آنتیں قلابازیاں کھا رہی ہیں۔“یہ کہہ کر مرغا اچانک انگور کے گچھے پر جھپٹا۔کوا بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔وہ بھی میدان میں کود پڑا۔
انگور کے گچھے نے بھاگنے کی کوشش کی،مگر بکری نے فوراً ہی منہ مارا۔غرض ذرا سی دیر میں انگور کا گچھا تینوں کے پیٹ میں پہنچ گیا۔
پھر بکری نے لنگڑاتے ہوئے اپنی راہ لی۔
کوا ہوا میں اُڑان بھر گیا۔
اور مرغے نے ککڑوں کوں کرنے کی کوشش کی،مگر ناکام ہوا تو سر جھکا کر چل دیا۔
یوں جلد بازی اور لڑنے کی وجہ سے تینوں اپنے مقصد میں ناکام ہوئے۔اسی لئے کہتے ہیں لڑنا اچھی بات نہیں ہے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Haal Mein Maazi

حال میں ماضی(دوسرا حصہ)

Haal Mein Maazi

Hisab E Dostaan

حسابِ دوستاں

Hisab E Dostaan

Makkar Pari

مکّار پری (آخری قسط)تحریر: مختار احمد

Makkar Pari

Badshah Ka Anokha Libas

بادشاہ کاانوکھالباس

Badshah Ka Anokha Libas

Maloomat

معلومات

Maloomat

Ehssas Hu Gya

احساس ہوگیا

Ehssas Hu Gya

Yaaddasht Ya Hafza

یادداشت یا حافظہ

Yaaddasht Ya Hafza

Mars K Musafir

مریخ کے مسافر

Mars K Musafir

Letter Box Ka Bhoot

لیٹر بکس کا بھوت

Letter Box Ka Bhoot

Haqeeqi Khushi

حقیقی خوشی

Haqeeqi Khushi

Azmaish

آزمائش

Azmaish

Darwaish Aur Is Ka Chaila

درویش اور اس کا چیلا

Darwaish Aur Is Ka Chaila

Your Thoughts and Comments