Naiki Ka Badla

نیکی کا بدلہ

کہتے ہیں کہ عرب کے کسی علاقے میں چوروں کے ایک گروہ نے کسی پہاڑی کی چوٹی پر قبضہ کر لیا ۔اُن چوروں سے اُس پہاڑی کا قبضہ چھڑانے کیلئے اُس وقت کے بادشاہ کا لشکر عاجز رہا ۔وہ چور ایک

جمعہ مارچ

naiki ka badla

علی گل چیچہ وطنی
کہتے ہیں کہ عرب کے کسی علاقے میں چوروں کے ایک گروہ نے کسی پہاڑی کی چوٹی پر قبضہ کر لیا ۔اُن چوروں سے اُس پہاڑی کا قبضہ چھڑانے کیلئے اُس وقت کے بادشاہ کا لشکر عاجز رہا ۔وہ چور ایک محفوظ ترین غار میں پناہ گزین تھے ،بادشاہ کو اُس کے مشیروں نے مشورہ دیا کہ اگر ان لوگوں کے شرپر قابو نہ پایا گیا تو اُن کا شراسی طرح بڑھتا جائے گا جو درخت ابھی جڑ پکڑ رہا ہے ،اُسے اُکھیڑ نا زیادہ آسنا ہے ،بہ نسبت اس کے کہ وہ جڑ پکڑ جائے ۔


وہ مکمل درخت بن گیا تو پھر جڑ سے اُکھیڑنا مشکل ہو گا چنانچہ بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ ان ڈاکوؤں کی جاسوسی کروائی جائے ۔جس وقت وہ ڈاکو لوٹ مار کرنے کیلئے چلے تو اُن کی قیام گاہ خالی ہو گئی۔بادشاہ نے تجربہ کار اور لڑائی کے ماہر سپاہیوں کو اُس غار کی ایک گھاٹی میں تعینات کر دیا۔

(جاری ہے)

رات گئے جب وہ ڈاکو لوٹ مار کے بعد واپس لوٹے تو تھکے مارے اُن چوروں نے اپنے ہتھیار اُتار ے اور لوٹا ہوا مال رکھا اور سوگئے ۔
رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد سپاہیوں نے اُن چوروں کو سوتے میں قابو کر لیا ۔اُن کے ہاتھ پاؤں باندھ دےئے ۔
صبح کے وقت بادشاہ کے دربار میں پیش کیا،عوام الناس جانتے تھے کہ ابھی ان سب کی گردنیں اُڑادی جائیں گی ۔اُن چوروں میں ایک خوبصورت جوان بھی تھا جس کی ابھی داڑھی نکل رہی تھی ۔ایک وزیر کو جوان پر ترس آگیا۔
اُس نے بادشاہ کے تخت کو بوسہ دیا اور جو ان کی سفارش کی کہ ابھی اس نے اپنی جوانی گزارنی ہے ۔
میں آپ کے عمدہ اخلاق سے اُمید کرتا ہوں کہ اس جوان کے حق میں میری سفارش کو قبول کیا جائے گا اور اُسے معاف کر دیا جائے ۔یہ آپ کا میرے اوپر احسا ن ہو گا۔بادشاہ نے جب وزیر کی بات سنی تو جلال میں آگیا جس کی حقیقت بری ہو وہ نیکیوں کے سایہ میں بھی صحیح نہیں رہ سکتا اور نااہل کی تربیت کرنا ایسا ہے جیسے گنبد پر اخروٹ رکھنا۔
وزیر نے جب بادشاہ کا موقف سنا تورضا مندی ظاہر کرتے ہوئے بادشاہ کی رائے کو سراہا اور عرض کیا بادشاہ کا فرمان اپنی جگہ درست ہے مگر ان کی صحبت میں رہ کر یہ جوان ضرور انہی کی مانند ہو جاتا ۔
الغرض بادشاہ کو وزیر کی بات اچھی لگی اور اُس جو ان کی تربیت نہایت نازونعم سے ہوئی۔
اسے پڑھایا لکھا یا گیا،بادشاہ کے حضور بیٹھنے کا سلیقہ سکھایا پھر اُس جوان کی ہر کوئی تعریف کرنے لگا لیکن بھیڑیے کا بچہ بھیڑیا ہی ہوتا ہے ،وہ جو ان دو سال کی تربیت اور محنت کے باوجود علاقہ کے بد معاش نوجوانوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگا اور ایک دن اُس نے دوستوں سے مل کر وزیر کے دو بیٹوں کو قتل کر دیا اور قتل کرنے کے بعد اُس کا مال لے کر بھاگ گیا۔
اس جوان نے اپنے ساتھیوں کی رہنمائی کرکے اُس پہاڑی کی جانب روانہ ہو گیا جب بادشاہ کو معلوم ہوا تو وہ افسوس سے کہنے لگا ۔اس میں کوئی شک نہیں ،باغ میں پھول اُگتے ہیں اور بنجر زمین میں کبھی پھول نہیں اُگتے۔

Your Thoughts and Comments