najumi wazeer

Najumi Wazeer

نجومی وزیر اعظم

بادشاہ سلامت درباریوں کے درمیان موجود تھے ۔درباریوں میں بادشاہ سلامت کو خوش خبریاں سنانے کا مقابلہ جاری تھا ۔بادشاہ سلامت بہت خوش تھے ۔ہر اچھی خبران کے کانوں میں رس گھول کاتی تھی ۔

ایس نیر
بادشاہ سلامت درباریوں کے درمیان موجود تھے ۔درباریوں میں بادشاہ سلامت کو خوش خبریاں سنانے کا مقابلہ جاری تھا ۔بادشاہ سلامت بہت خوش تھے ۔ہر اچھی خبران کے کانوں میں رس گھول کاتی تھی ۔انھیں یہ محسوس ہورہا تھا کہ وہ دنیا کے سب سے کا میاب حکمران ہیں ۔

ان کی حدودِ سلطنت میں شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پی رہے ہیں ۔رعایا اتنی خوش حال ہو چکی ہے کہ ملازمین ملنا دشوار ہو گئے ہیں ۔امن وامان کی حالت اتنی مثالی ہے کہ ہر شہر میں کو توالی کا عملہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے ۔
بازاروں میں چہل پہل ہے ۔تا جروں کے پاس اشیاء صرف کے انبار لگے ہوئے ہیں اور رعایا جھولی پھیلا پھیلا کر بادشاہ سلامت کی درازی عمر کے لیے دعائیں کرنے میں ہمہ وقت مشغول ہے ۔

(جاری ہے)

سلطنت اور رعا یا کے بارے میں ایسے تمام خوش گوار حالات کی خبروں کا واحد ذریعہ بادشاہ سلامت کے یہی درباری تھے ،جو بادشاہ سلامت سے اتنی محبت کرتے تھے کہ جہاں ان کا پسینا گرے ،دربار ی اس جگہ اپنا خون بہانے کے لیے تیار بیٹھے رہتے تھے اور یہ تو ظاہر ہے کہ تا ریخ کے ایسے نادر الوجود حکمران کی جان اتنی قیمتی تھی کہ مجال ہے ان درباریوں کا حلقہ توڑ کر کوئی پرندہ بھی پَر مار سکتا ۔

محل میں بھی ہر وقت خوشی ومسرت برستی رہتی تھی ،تا کہ بادشاہ سلامت کا دل بہلا رہے اور کوئی بھی دکھ یا بُری خبران کے پاس نہ پہنچ سکے ۔ہر مصاحب کی کوشش ہوتی کہ وہ عالم پناں کے سامنے تفریح کا نئے سے نیا طریقہ پیش کرے اور جہاں پناہ سے داد اور انعام وصو ل کرکے دیگر درباریوں کے مقابلے میں خود کو سرخ رُو ثابت کرسکے۔
اسی تفریحی پروگرام کے تحت آج ایک کاروباری نے جہاں پنا ہ کے سامنے ایک نجومی کو پیش کرنے کی اجازت طلب کی ،جو بخوشی عطا کردی گئی ۔نجومی دربار میں حاضر ہوا اور جھک کر آداب بجالایا ۔جہاں پناہ نے نجومی کو حکم دیا کہ وہ ان کے مستقبل کے بار ے میں زائچہ بنا کر انھیں بتا ئے کہ آنے والے دنوں میں بادشاہ سلامت کو کس قسم کے حالات درپیش ہوں گے ۔
نجومی نے جھک کر سر خم کیا اور دربار کے ایک کونے میں بیٹھ کر زائچہ تیار کرنے میں مشغول ہوگیا ۔جہاں پناہ اس دوران دوسری تفریحات سے اپنا دل بہلانے میں مصروف ہوگئے ۔تھوڑی دیر بعد نجومی زائچہ تیار کرکے فارغ ہوا اور جہاں پناہ سے جان کی امان طلب کرنے کے بعد چند پیشگو ئیاں کرنے کی اجازت چاہی ۔
جہاں پناہ نے فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان کی امان اور پیشگوئیاں کرنے کی اجازت نجومی کو عطا فرمادی ۔نجومی نے محتا ط انداز میں چاروں جانب نظریں دوڑا کر بادشاہ سلامت کی خدمت میں صرف ایک پیش گوئی عرض کی اور کہا :”عالم پناہ !اگر ملک کے حالات ایسے ہی خراب رہے تو چند ہی ہفتوں میں آپ کی رعایا آپ کے خلاف بہت بڑی بغاوت کرنے والی ہے ۔
“یہ پیش گوئی سن کر پورے دربار میں سناٹا چھا گیا ۔خودبادشاہ سلامت حیران رہ گئے ۔چند لمحوں کے سناٹے کے بعد اچانک چاروں جانب سے ایک شور بلند ہوا ۔درباری تلوار نکال کر نجومی کی جانب لپکے۔ چاروں طرف سے دوڑ و،پکڑ و کا ایک شور بلند ہو ،لیکن بادشاہ سلامت گرج دار آواز میں دہاڑتے ہوئے تخت سے اُٹھ کر مصا حبین پر برس پڑے اور حکم دیا کہ نجومی کو اپنی بات مکمل کرنے کا موقع دیاجائے ۔
تمام مصاحبین اپنا سامنھ لے کررہ گئے ۔جو درباری نجومی کو دربار میں لے کر آیاتھا ،اس کا بس نہیں چل رہا تھا ،ورنہ وہ نجومی کا گلا دبا دیتا ۔نجومی نے اسے کھلم کھلا دھوکا دیا تھا اور بجائے بادشاہ سلامت کو مستقبل کے سہانے خواب دکھانے کے انھیں حقیقت بتا نے پر تُل گیا تھا ۔
نجومی نے بادشاہ سلامت کی خدم میں عرض کیا :” حضور ِوالا ! آپ کی رعایا بھوکوں مررہی ہے ۔چوری ،ڈکیتی اور راہزنی عام ہے ۔آپ کے تمام وزرا اور مصاحبین نے آپ کی رعایا پر ظلم وستم کے وہ پہاڑ توڑ رکھے ہیں کہ رعایا کے لیے ایک ایک سانس لینا دشوار ہو رہا ہے ۔
بادشاہ سلامت سر جھکا کر یہ سوچنے لگے کہ آخری مرتبہ کب ان کی رعایا سے براہِ راست ملاقات ہوئی تھی ،لیکن انھیں یاد نہیں آرہا تھا ،کیوں کہ اس ملاقات کوبرسوگزرچکے تھے ۔ہاں یہ ضرورتھا کہ آخری ملاقات کے بعد ہی ان کے مصاحبین نے بادشاہ سلامت کی رعایا میں زبردست مقبولیت کے پیشِ نظر یہ مشورہ دیا تھا کہ ا ن کے مخالفین جہاں پناہ کی عوام میں اس مقبولیت کو برداشت نہیں کرسکیں گے اور وہ سازش کرکے جہاں پناہ کی زندگی کو ختم کرنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں ،اس لیے مصا حبین نے جہاں پناہ کے گرد محافظوں کا پہرہ سخت کرکے انھیں رعایا سے الگ تھلگ کردیاتھا ۔
وہ دن تھا اور آج کا دن ،جہاں پناہ نے اپنی رعایا کا حال اُ ن کے اپنے انہی مخلص مصاحبین کی زبانی معلوم ہوتا رہتا تھا اور جہاں پناہ مطمئن تھے کہ ان کی سلطنت میں دودھ وشہد کی نہریں بہ رہی ہیں ،لیکن آج اس نجومی نے گویا اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بادشاہ سلامت کی آنکھیں کھول دی تھیں بادشاہ نے فوری فیصلہ کرکے اس پر عمل درآمد بھی کردیا ۔
جس کے نتیجے میں چند ہی مہینوں کے اندر بادشاہ کو رعایا میں کھوئی ہوئی مقبولیت بھی دوبارہ حاصل ہوگئی ۔ملک میں امن وامان بھی ہوگیا اور رعایا بھی خوش حال ہوگئی ۔بادشاہ نے یہ کیا کہ نجومی کو فوری طور پر اس نے وزارتِ عظمیٰ کا عہد ہ سونپ کر تمام مصا حبین کو فی الفور بر طرف کرنے کا حکم جاری کردیا ،کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ جو شخص بھرے دربار میں اپنی جان کا خطرہ مول لے کر اسے حقائق سے آگاہ کرسکتا ہے تو وہ شخص یقینا اپنے ملک، ملک کے عوام اور خودبادشاہ کا کتنا بڑا خیر خواہ ثابت ہو سکتا ہے اور نیا وزیر اعظم ایسا ہی ثابت ہوا ۔

Your Thoughts and Comments