Nanha Madadgar - Article No. 2017

ننھا مددگار

آخر آج میں نے ایک اچھا کام کر ہی لیا

جمعرات 15 جولائی 2021

Nanha Madadgar
”کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟“ننھے بریمل نے اپنی امی سے پوچھا،جو صبح کے ناشتے کی تیاری کر رہی تھیں۔”ہاں،کیوں نہیں۔“وہ خوش دلی سے بولیں۔
”ایسا کرو کہ آٹے کے تھیلے میں سے تھوڑا سا آٹا لے آؤ،پھر برتن دھو لینا۔

بریمل خوشی خوشی آٹے کے بڑے تھیلے کے پاس پہنچا،لیکن وہ اس کی سوچ سے بھی زیادہ وزنی تھا۔اس نے تھیلا اُٹھانا چاہا،مگر آٹے کا تھیلا گر گیا،جس کی وجہ سے آٹا ہر جگہ بکھر گیا،بالکل سفید بادلوں کی طرح۔بریمل بھی آٹے میں لت پت ہو گیا۔
اب وہ ایک سفید رنگ کا بھوت لگ رہا تھا۔
”مجھے معاف کر دیجیے۔میں تو صرف آپ کی مدد کرنا چاہ رہا تھا۔“اس نے اپنی امی کو دیکھ کر افسردگی سے کہا۔
”تم نے میرے لئے کام بڑھا دیا ہے۔اب مجھے سارے کچن کی صفائی کے ساتھ ساتھ تمہیں نہلانا بھی پڑے گا۔

(جاری ہے)

“بریمل کی امی نے غصے سے کہا۔
بریمل نے نہا کر دوسرے کپڑے پہنے۔اس کے بعد وہ باغ میں چلا گیا،جہاں اس کے ابو کیاریوں کی کھدائی کر رہے تھے۔
اس نے پوچھا:”کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟“
اس کے ابو نے کہا:”تم یہ جھاڑیاں صاف کر دو۔
“اس کے ابو کی سانس پھولی ہوئی تھی اور ان کی پیٹھ بریمل کی طرف تھی۔”تم جانتے ہو نا کہ جھاڑیاں کیا ہوتی ہیں؟“انھوں نے زور دے کر پوچھا۔
”جی ہاں۔“بریمل نے سر ہلا کر جواب دیا:”بس آپ یہ کام مجھ پر چھوڑ دیں۔

”بہت خوب،میں کافی پینے اندر جا رہا ہوں۔“وہ خوشی خوشی بولے۔
”اب میں ابو کو بتاؤں گا کہ میں ان کی کتنی مدد کر سکتا ہوں۔“وہ بے وقوفوں کی طرح ہنسا۔اس نے پھاؤڑا اُٹھایا اور کیاریوں کی کھدائی کرنے لگا۔
جلد ہی ٹرالی بھر گئی۔
”ابو!میں نے سارا کام کر دیا ہے۔“اس نے اونچی آواز سے اپنے ابو کو پکارا۔
”ٹھیک ہے۔میں آتا ہوں اور دیکھتا ہوں،تم نے کیا کیا ہے۔“
کافی پینے کے بعد وہ جیسے ہی باغ میں پہنچے،ان پر سکتہ طاری ہو گیا اور وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے کیاریوں کو دیکھنے لگے۔

”یہ کیا کیا؟تم نے میرے سارے پودے اُکھاڑ دیے۔ان میں ابھی پھول کھلنے والے تھے۔“بریمل کے ابو رنجیدہ ہوئے۔
تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد بریمل بولا:”لیکن میں سمجھا کہ یہ سب جھاڑیاں ہیں۔“بریمل کے ابو نے بیلچہ اُٹھایا اور ٹرالی سے دوبارہ پودے نکالنے لگے۔

”میں ان پودوں کو دوبارہ بوؤں گا۔“انھوں نے خفگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
بریمل ان کی ناراضگی دیکھ کر اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے بڑبڑایا:”میرا خیال ہے کہ میرا اس جگہ سے چلے جانا ہی بہتر ہے۔“
اپنے کمرے میں پہنچ کر وہ چاروں طرف دیکھنے لگا۔
اسے یاد آیا کہ اس کی امی اکثر اس سے کہتی تھیں:”بریمل!تمہارا کمرا اتنا بے ترتیب اور بکھرا ہوا ہوتا ہے،جیسے کہ جنگ کا میدان ہو۔“
”میں جانتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔“وہ خوشی سے چیخا:”اگر میں اپنا کمرا صاف کر لوں گا تو امی بہت خوش ہوں گی۔

سب سے پہلے اس نے اپنے کپڑے سمیٹے اور الماری میں رکھے۔کمبل تہ کیا۔پھر اس نے جلدی جلدی لکڑی کے صندوق میں کھلونے رکھے ۔اب صرف کتابیں رہ گئی ہیں۔اس نے سوچا۔پلنگ کے اردگرد ڈھیر ساری کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔بریمل نے انھیں جمع کرکے اُٹھایا، تاکہ وہ انھیں کتابوں کی الماری میں رکھ سکے،مگر کتابیں زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھ سے پھسل گئیں اور وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور اپنے پلنگ پر گر گیا۔
کتابیں اُچھل کر اس پر بارش کی طرح برسنے لگیں۔ایک زور دار دھماکا ہوا اور کمزور پلنگ ٹوٹ گیا،مگر بریمل کو کوئی چوٹ نہیں لگی تھی۔آواز سنتے ہی اس کے امی اور ابو تیزی سے بھاگتے ہوئے کمرے میں آئے۔
”مجھے معلوم ہے،تم ایک بار پھر ہماری مدد کرنا چاہ رہے تھے۔
“اس کی امی نے بُرا سا منہ بنایا۔
”اور اب مجھے اس پلنگ کی مرمت کرنی پڑے گی۔“اس کے ابو نے غصے سے کہا۔
اب بریمل فیصلہ کر چکا تھا کہ وہ واقعی میں ایک اچھا مددگار بنے گا اور باہر سیر کرنے کے لئے پارک گیا۔ابھی وہ زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ اس نے دو بچے دیکھے،جو ایک درخت کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔

”ہماری پتنگ اس شاخ پر اٹک گئی ہے۔“انھوں نے بریمل سے کہا۔
”کوئی بات نہیں،میں ابھی اوپر چڑھ کر پتنگ شاخ میں سے نکالتا ہوں۔“اس نے بغیر سوچے سمجھے بے صبرے پن سے کہا۔
وہ دھیان سے اوپر چڑھا اور پتنگ والی شاخ کے قریب پہنچ گیا اور آہستہ آہستہ سرکنے لگا۔
پھر وہ پتنگ والی شاخ کے قریب پہنچ گیا۔نچلی شاخ کے سب سے آخری حصے پر پتنگ اٹکی ہوئی تھی۔میں اس شاخ کے قریب پہنچ سکتا۔اس نے سوچا۔مگر جب اس نے شاخ کو ہلایا تو پتنگ نیچے گر گئی۔
”شکریہ۔شکریہ۔“بچے خوش ہو گئے۔
”مجھے بھی خوشی ہے کہ میں نے تمہاری مدد کی۔

بریمل نے کہا:”آخر آج میں نے ایک اچھا کام کر ہی لیا۔“وہ خوشی خوشی بول رہا تھا۔دونوں بچوں نے اپنی پتنگ کو ڈور سے باندھا اور جانے لگے۔
”بس تھوڑی دیر بعد ہی میں اپنے امی اور ابو کو بتاؤں گا کہ میں کتنا مددگار ثابت ہو سکتا ہوں۔
“اس نے خوشی خوشی خود سے کہا۔
پھر اس نے نیچے اُترنا شروع کیا،لیکن وہ دوسری طرف نہیں مڑ سکا۔
”میں اُتر نہیں سکتا۔“وہ رنجیدہ ہو گیا۔
اس نے دونوں بچوں کو آواز دے کر بلایا اور کہا کہ وہ اس کے گھر جائیں اور اس کے ابو سے کہیں کہ سیڑھی لے کر یہاں آجائیں۔اپنے آپ کو ایک اچھا مددگار ثابت کرنے والا وہ بریمل شاخ پر بیٹھ کر یہ سوچنے لگا کہ میں ان میں سے ایک ہوں،جسے مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Nafarman Chun Mun

نافرمان چُن مُن

Nafarman Chun Mun

Taharat Nisf Imaan

طہارت نصف ایمان

Taharat Nisf Imaan

Qabil E Maffi

قابلِ معافی

Qabil E Maffi

Aayeen Garmiyon Ki Chuttiyaan Thandi Or Purfiza Maqamat Per Guzarain

آئیں گرمیوں کی چھٹیاں ٹھنڈی اور پر فضا مقامات پر گزاریں

Aayeen Garmiyon Ki Chuttiyaan Thandi Or Purfiza Maqamat Per Guzarain

Aik Shakal K 2 Shehzade

ایک شکل کے دو شہزادے۔ تحریر:مختار احمد

Aik Shakal K 2 Shehzade

Teesra Kamra

تیسرا کمرہ ۔ تحریر: مختار احمد

Teesra Kamra

Aqalmand Kisaan

عقلمند کسان

Aqalmand Kisaan

Harkat Main Barkat

حرکت میں برکت

Harkat Main Barkat

Aik Tofani Raat

ایک طوفانی رات

Aik Tofani Raat

Doctor Saib

ڈاکٹر سیب

Doctor Saib

Ghora Gadha Barabar

گھوڑا گدھا برابر

Ghora Gadha Barabar

Aqalmand Gadha

عقل مند گدھا

Aqalmand Gadha

Your Thoughts and Comments