MENU Open Sub Menu

Nanha Sahara

Nanha Sahara

ننھا سہارا

اس دن میں نے خود کو بہت کمزور محسوس کیا جب تنگ دستی کے باوجود میرے بیٹے نے مجھ سے اپنے ہفتہ وار جیب خرچ کا تقاضا کیا۔ پچھلا ہفتہ بہت خراب گزرا تھا

جدون ادیب:
اس دن میں نے خود وک بہت کم زور محسوس کیا جب تنگ دستی کے باوجود میرے بیٹے نے مجھ سے اپنے ہفتہ وار جیب خرچ کا تقاضا کیا۔ پچھلا ہفتہ بہت خراب گزرا تھا۔ کارخانوں میں گیس کی بندش کی وجہ سے کام بندتھا۔ میرا کام بھی ٹھیکے کا تھا یعنی جتنا کام کرلیتا اتنی اُجرت مل جاتی۔
کوئی تنخواہ یا لگی بندھی آمدنی نہ تھی۔ اگر کام مستقل چل رہا ہو تو خرچ کے علاوہ بچت بھی ہو جاتی تھی۔ میرا چھوٹا بیٹا تین سال کا تھا۔ ظاہر ہے وہ ان معاملات کو نہیں سمجھ سکتا مگر بڑا بیٹا پارس چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا اور دوسرے بچوں کے مقابلے میں ذہین اور سمجھ دار تھا۔
گھر کے حالات اس کے سامنے تھے۔ اس دن جب اس نے معمول کے مطابق اپنا ہفتہ وار خرچ مانگا تو مجھے حیرت ہوئی بلکہ دکھ ہوا کہ میرا سمجھ دار بیٹا گھر کے خراب حالات کو محسوس نہیں کر رہا۔ میں جو یہ سوچا کرتا تھا کہ پارس بڑا ہو کر میرا دست وبازو بنے گا مگر سچی بات ہے اس دن مجھے لگا کہ میں اکیلا ہوں اور مرتے دم تک مجھے روزگار کے لئے جدوجہد کرنا پڑے گی۔
میں نے ٹھیکیدار سے دو دن پہلے ہزار روپے ایڈوانس لیے تھے۔ میں نے جیب سے سو کا نوٹ نکال کر پارس کی طرف بڑھایا تو اس نے ایک دم سے نوٹ لے لیا۔ اس کی آنکھیں چمکنے لگیں اوروہ بولا:” پپا! زندہ باد۔ مجھے پتا ہے آپ کے پاس پیسے کم ہیں لیکن جب بالکل نہیں ہوں گے تو میں آپ سے پیسے کبھی نہیں مانگوں گا۔

”جب تک ہیں لے لیا کرو۔“ میں نے بے دلی سے کہا۔
اگلے دن اور مشکل میں گزرے ۔ٹھیکیدار خود مالی مشکلات کا شکار تھا اس لئے ایک دن وہ چپکے سے غائب ہو گیا۔ اس نے اپنا موبائل فون بھی بند کر دیا۔ میرے گھر میں نوبت فاقوں تک آن پہنچی۔

میں اکیلا اس مشکل میں نہیں گھرا ہوتا تھا۔ مجھ جیسے ہزاروں لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہو چکے تھے جو فیکٹریوں میں کام کر رہے تھے۔ سردیوں کا موسم تھا۔ گیس کا پریشر ہو چکا تھا۔ مزدور طبقہ سڑکوں پرنکل آیا۔ میں بھی اس احتجاج کا حصہ تھا۔
ہم اپنے حق کے لئے مظاہرے کرنے لگے۔ پھر ان مظاہروں میں تشدد ہوا پولیس نے جلوس کو روکنے کی کوشش کی۔ مظاہرین مشتعل ہوئے تو پولیس ان پر ٹوٹ پڑی۔ مجھے اس کے بعد صرف اتنا یاد ہے کہ میرے سر پر ایک ڈنڈا پڑا ہے اور میں بے ہوش ہو کرسٹرک پر گر پڑا۔

جب مجھے ہوش آیا تو میں اسپتال میں تھا۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں ایک مزدور اتحاد وجود میں آیا تھا۔ وہی لوگ میرا علاج کرو ا رہے تھے۔ میرے سر کا زخم بہت گہرا تھا۔ مجھے ہفتوں اسپتال میں رہنا تھا۔
میں سوچتا تھا کہ گھر کے اخراجات کس طرح پورے ہو رہے ہوں گے۔
ڈاکٹروں نے زیادہ ملاقاتوں اور با چیت پر پابندی لگا رکھی تھی اور گھر والوں کو منع کیا تھا کہ مجھے پریشان نہ کریں۔ شاید اسی لئے میری بیوی اپنی پریشانیوں کا ذکر مجھ سے نہیں کرتی تھی۔ جب تین مہینے بعد مجھے اسپتال سے فارغ کیا گیا تو میں ایک دوست کے ساتھ گھر آگیا۔
اپنے بیوی بچوں کو میں حیران کرنا چاہتا تھا۔
جب میں گھر میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ میری بیوی گھر کے صحن میں سلائی مشین پر کام کر رہی ہے۔ مجھے بہت حیرت ہوئی ۔ وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ مجھے ایک سلائی مشین دلوادیں میں بچوں کے کپڑے سی کر کچھ پسے کمالوں گی۔
مگر میں ہمیشہ منع کر دیتا تھا۔ کہ ایک تو اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ مشین خرید سکیں اور دوسرے یہ کہ مجھے یہ بات پسند نہ تھی۔ اب جب کہ ایک بات ہو چکی تھی تو مجھے اتنی محسوس نہ ہوئی مگر یہ ہوا کیسے ؟ یہ جانا ضروری تھا۔ میر اچانک آمد اور مکمل صحت یابی میرے گھر والوں کے لیے بہت خوشی کی خبر تھی۔
باتیں اتنی تھیں کہ ختم ہی نہیں ہو پارہی تھیں۔ ایک دفعہ میں بیوی سے پوچھا بھی کہ یہ سلائی مشین کب اور کیسے لی مگر وہ ٹال گئی۔ را ت کو کھانے کے بعد میرا بیٹا پار س بے فکر نیند میں سو رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ سی تھی۔
میں نے سوالیہ انداز میں بیوی کی طرف دیکھا۔ وہ بولی:” آپ دیکھ رہے ہیں میرے بچے کو۔۔۔“
”ہاں۔۔۔“ میں نے آہستگی سے کہا:” مجھے افسوس ہے کہ میں اپنی اولاد کی توقعات پوری نہ کر سکا۔ یہ اپنے ہفتہ وار خرچے کے لئے تو تمہیں بہت تنگ کرتا ہوگا !“
”نہیں!“ میری بیوی نے فخریہ لہجے میں کہا:”آپ کے زخمی ہو جانے کے بعد اس نے مجھے بالکل تنگ نہیں کیا بلکہ یہ اپنی عمر سے بڑا اور سمجھ دار نظر آنے لگا۔
آپ پوچھ رہے تھے نا کہ میں نے سلائی مشین کیسے لی! پیسے پارس نے دیے تھے۔“
”پارس نے ؟“ میرے لہجے میں حیرت تھی۔
”ہاں۔۔ آپ اسے جو جیب خرچ دیتے تھے وہ بالکل خرچ نہیں کرتا تھا اس نے دوسال تک ایک رپیہ خرچ نہیں کیا۔
عیدی کے پیسے بھی جمع کرتا رہا۔ آخر ایک دن اس نے جمع پونجی میرے سامنے ڈھیر کر دی۔ تب مجھے پتا چلا کہ ہمارا بچہ کتنا سمجھ دار ہے۔ وہ گھر کے حالات سے باخبر تھا اور چپکے چپکے کسی بُرے وقت کے لئے پیسے جمع کر رہا تھا۔“
میر بیوی تفصیل سے بتائے جا رہی تھی اور میں ایک عجیب سی کیفیت کا شکار تھا۔
میں سمجھتا تھا کہ پارس کو میرے حالات کا اندازہ نہیں ہے جب کہ درحقیقت وہ میرا دست وبازو بننا چاہتا تھا اور آخر اس نے اپنی عمر سے بڑھ کر اس بات کو ثابت کر دیا تھا۔
بیوی نے مزید بتایا:” اس نے پارس کی جمع پونجی سے مشین لے لی۔
بازار سے کپڑوں کے ٹکڑے مل گئے جن سے اس نے بچوں کے کپڑے تیار کر کے فروخت کرنے شروع کر دیے اور اس سے گھر کی گزربسر بھی ہونے لگی ہے ۔ اب میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے تیار کپڑوں کو ہفتہ وار بازار میں فروخت کیا کریں۔ مجھے اُمید ہے اللہ ہمیں اس کام میں بہت برکت دے گا۔“ میری بیوی نے فیصلہ سنا دیا۔
میری آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے۔ میں نے آہستگی سے اپنے بیٹے کے ماتھے پر پیار کیا۔ واقعی میرا بیٹا میرا سہارا بن چکا تھا۔

Your Thoughts and Comments