Nanhay Mian Ki Tobah

ننھے میاں کی توبہ

ننھے میاں یوں تو بڑے اچھے بچے تھے بڑوں کا کہنا بھی مانتے تھے، صاف ستھرے بھی رہتے تھے اور لکھنے پڑھنے میں بھی ہوشیار تھے ، مگر ان میں ایک عادت ایسی بُری تھی کہ اس نے ان کی ساری اچھائیوں پر پانی پھیردیا۔ ان کی توجہ کبھی ایک چیز پر نہ رہتی تھی ابھی ایک کام شروع کیا ہے کہ کچھ اور یاد آگیا۔ پہلا کام ادھورا چھوڑ کر دوسرے کام میں لگ گئے۔

پیر جون

Nanhay Mian Ki Tobah

محمد سلیم الرحمن:
ننھے میاں یوں تو بڑے اچھے بچے تھے بڑوں کا کہنا بھی مانتے تھے، صاف ستھرے بھی رہتے تھے اور لکھنے پڑھنے میں بھی ہوشیار تھے ، مگر ان میں ایک عادت ایسی بُری تھی کہ اس نے ان کی ساری اچھائیوں پر پانی پھیردیا۔

ان کی توجہ کبھی ایک چیز پر نہ رہتی تھی ابھی ایک کام شروع کیا ہے کہ کچھ اور یاد آگیا۔ پہلا کام ادھورا چھوڑ کر دوسرے کام میں لگ گئے۔ ابھی وہ کام بھی پورا نہ ہو ا تھا کہ کوئی نئی بات سوجھ گئی غرضیکہ ننھے میاں کے ذہن میں ہر وقت کھچڑی پکتی رہتی تھی۔
یہی وجہ تھی کہ ان کا کمرہ کمرہ نہ لگتاتھا بلکہ کباڑ خانہ معلوم ہوتا تھا اُسے دیکھ کر یہ خیال آتا تھا کہ شاید یہاں بہت سے لوگ بیٹھے طرح طرح کے کام کر رہے تھے اور یکایک کام چھوڑ کر کہیں بھاگ گئے ہیں کتنی ہی دفعہ ننھے میاں کی امی نے کمرہ صاف کرنے کے بعد سمجھایا کہ بیٹا اب کمرے کو صاف رکھنا اور چیزیں اس طرح نہ پھیلانا۔

(جاری ہے)

کتنی ہی دفعہ ننھے میاں نے وعدہ بھی کیا، مگر ہوتا یہ کہ ایک دود ن تو خیریت سے گزرتے اور ہفتے بھر بعد کمرہ اپنی پرانی حالت میں نظر آتا، وہی بے ترتیبی ، وہی گردہ غبار ، وہی چلغوزوں اور مونگ پھلی کے چھلکے ، وہی روشنائی کے دھبے:
ایک اتوار کیا ہوا، ننھے میاں کو صبح ہی صبح ناشتے کے بعد، یہ سو جھی کہ پڑھنے پڑھانے کے لیے تو سارا دن پڑا ہے، لاوٴ آج ذرا اپنے البم نکالوں اور جوٹکٹ اورتصویریں پچھلے دنوں نئی جمع کی ہیں، اُنہیں البموں میں لگالوں۔
سوچنے کی دیر تھی ،الماری میں اسے البم نکال لے دری بچھائی ، اس پر البم ایک طرف رکھے، تصویروں کا ڈھیر دوسری طرف لگایا، سامنے ٹکٹ رکھ لیے۔ اس کے بعد گونددانی اٹھائی ۔ اتنے میں خیال آیا کہ تصویریں لگانے کے لیے کونوں کی ضرورت ہو گئی اس لیے انہیں بھی نکال کر پاس ہی رکھ لینا چاہیے۔
میز پر نظر دوڑائی، دو ایک کتابیں اٹھا کر دیکھیں، مگر کونے کہیں نہ ملے۔ اب میزکی درازوں کی باری آئی ۔یکے بعد دیگرے انہیں کھول کھول کر دیکھنا شروع کیا۔ ایک دراز میں نیلا سا کونا نظر آیا تو ننھے میان نے اُسے کھینچ لیا۔ دیکھا تو ان کے دوست اسلم کا خط تھا۔
لفافہ کھول کر خط پڑھا، کئی بار مسکرائے اور فوراََ ہی جواب لکھنے کی ٹھان لی۔ کیونکہ اسلم نے چند ایسی باتیں لکھی تھیں جن کا جواب دنیا ضروری تھا۔ یہ خط دس پندرہ دن پہلے آیا تھامگر ننھے میاں اسے پڑھ پڑھا کر بھول بھی گئے تھے۔
خیر، پیڈاٹھاکر قلم نکالا اور خط کا جواب لکھنا شروع کیا۔اتنے میں کرنا خدا کا کیا ہو اکہ باہر برآمدے میں ننھے میاں نے جو لال پال رکھے تھے کسی نے ان کے پنجرے کا دروازہ کھول دیا۔ ادھر سے گزریں خالہ بلی، بس پھر تو قیامت آگئی۔
شور سن کر ننھے میاں خط چھوڑ چھاڑ کمرے سے نکلے، بلی کو بھگایا۔ پھر سوچا کہ دانہ پانی کیوں نہ ڈال دیا جائے۔ چنانچہ باورچی خانے سے دانہ لے کر آئے، پانی کی کٹوری بھری اور لالوں سے باتیں کرنے لگے۔
اب ذرا سنیے کہ انکے کمرے پر کیا گزری،یہ تو اُدھر بے خبر بیٹھے اپنے پالتو لالوں سے چھیڑ خانی میں مشغول تھے۔
ادھر منے میاں کہیں سے لڑھکتے ہوئے تشریف لے آئے اور پچھلے دروازے سے کمرے میں جاگھسے۔ پہلے ان کی نظر کھلونوں پر گئی انہیں الٹ پلٹ کر دیکھا۔ پھر زور سے گیند کوہاتھ مارا جو جاکونددانی سے ٹکرائی۔ گونددانی کے اُلٹ جانے سے منے میاں کی توجہ کا رُخ اب البم، تصویروں اور ٹکٹوں کی طرف ہو گیا۔
گوند کو انگلیوں سے چھوا تو خیال آیا کہ شاید کھانے کی کوئی چیز ہے۔ چکھ کر دیکھا تو مزا نہ آیا اس لیے منہ موڑ لیا اور تصویروں کی طرف متوجہ ہوئے۔ کبھی ٹکٹ دیکھئے ، کبھی تصویریں الٹ پلٹ کیں، کبھی البموں کی ورق گردانی کی ۔ غضب یہ کیا کہ جہاں دل کیا وہاں ہاتھوں ہی سے قینچی کا کام لیا۔
چونکہ ہاتھوں اور کپڑوں پر جگہ جگہ گوندلگی ہوتی تھی، اس لیے کئی ٹکٹ اور تصویریں خود ان پر چپک گئیں۔ ادھر ننھے میاں کو جب کچھ دیر بعد یاد آیا کہ ابھی خط بھی لکھنا ہے اور البم بھی مکمل کرنے ہیں تو انہوں نے کمرے کا رُخ کیا۔
سیٹی بجاتے جب کمرے میں داخل ہوئے تو قیامت کا سماں تھا۔ اوپر کا سانس اُوپر، نیچے کا نیچے رہ گیا۔ منے میاں کے ہاتھوں ہر چیز ناس ہو چکی تھی اور خود منے میاں کسی البم سے مشابہ تھے ننھے میاں بیچارے، سزادیں تو کسے اور شکایت کریں تو کس سے کہتے تو الٹی ڈانٹ پڑتی کہ منا تو نا سمجھ ہے، تم اپنی چیزیں چھوڑ کر کہاں چل دیے تھے۔
اخری منے میاں کو ہاتھ سے پکڑکر باہر نکالا اور ایک ہلکا سا چانٹا لگایا اور دل میں یہ عہدکیا کہ اب سے میری توبہ۔ اگر آج کے بعد کوئی کام اُدھورا چھوڑوں تو مجھ سے برا دنیا میں کوئی نہیں قصہ مختصر یہ کہ ننھے میاں کو ایسا سبق ملا کہ ان کی اصلاح ہو گئی۔

Your Thoughts and Comments