Nanhi Munni Chiryaan - Article No. 1593

ننھی منی چڑیاں

تم روز ہی آسمان کی گود میں اُڑتی ہوئی ننھی منی چڑیوں کو دیکھتے ہو گے۔یقینا تمھارے ننھے منے سے دلوں میں بھی یہ آرزو پیدا ہوتی ہو گی کہ تم ان پرندوں کی طرح آسمان کی وسعتوں میں اپنے بازو پھڑ پھڑا کر اُڑو۔

جمعہ دسمبر

Nanhi Munni Chiryaan

شیخ عبدالحمید عابد
تم روز ہی آسمان کی گود میں اُڑتی ہوئی ننھی منی چڑیوں کو دیکھتے ہو گے۔یقینا تمھارے ننھے منے سے دلوں میں بھی یہ آرزو پیدا ہوتی ہو گی کہ تم ان پرندوں کی طرح آسمان کی وسعتوں میں اپنے بازو پھڑ پھڑا کر اُڑو۔

تمھاری یہ تمنا نئی نہیں ہے۔اب سے چند صدیاں پہلے بھی انسان نے یہی کچھ سوچا تھا۔چڑیوں کو اُڑتے دیکھ کر ہی اس کے دل میں یہ آرزو اُبھرتی تھی۔ان قدرتی ہوائی جہازوں کو دیکھ کر اس نے موجودہ ہوائی جہاز ایجاد کر ڈالا،جس میں بیٹھ کر تم ناشتا کراچی میں کروتو دو پہر کا کھانا بڑی آسانی سے لندن میں کھا سکتے ہو۔

اللہ تعالیٰ نے چڑیوں کو آسمان کی حسین ترین مخلوق بنا کر ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔انھیں تخلیق کرتے وقت ان کی اُران کا پوری طرح خیال رکھا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ان کی جسمانی بناوٹ سے صاف ظاہر ہے کہ اس چھوٹے سے گوشت پوست کے لوتھڑے کو کچھ اس انداز سے ڈھالا گیا ہے،جس سے وہ آسانی سے ہزار ہا کلو میٹر کاسفر طے کر سکے۔

ان کے بازوؤں سے منسلک پروں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ انھیں اُڑنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔
خدا نے چڑیوں کو ہمارا دل بہلانے کو ہی نہیں بنایا،بلکہ یہ ہمارے لیے نہایت مفید اور کار آمد بھی ہیں۔ چڑیوں کو ہم اپنی تنہائی کا ساتھی اور تفریح کا ذریعہ بناتے ہیں۔
بہت سی چڑیوں کے پَر کام میں لائے جاتے ہیں۔ان سے ہیٹ اور ٹوپیاں سجائی جاتی ہیں۔یہ ایسے کیڑے مکوڑوں کو بھی کھاتی ہیں جو انسان کو بیمار کرنے والے ہوتے ہیں۔اپنے بچوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کا کام چڑیاں بڑی خوبی سے انجام دیتی ہیں۔
جس سے ایک علاقے کی نسل دوسری جگہ پہنچ جاتی ہے۔
چڑیوں کا دماغ بہت نازک اور چھوٹا ہوتاہے۔اس کے برعکس ان کی آنکھیں بڑی اور تیز ہوتی ہیں۔ قدرت نے انھیں آنکھوں کی حفاظت کے لیے ایک ہلکی سی جھالر عنایت کی ہے،جو ان کی آنکھوں کو کسی قدر ڈھانپے رہتی ہے۔
آنکھوں کا بہت تھوڑا سا حصہ اس کی زد سے باہر رہتاہے ،تاکہ لمبی اُڑان کا اثر ان کی آنکھوں پر نہ پڑسکے۔اسی طرح دھول،گردو غبار ،آندھی طوفان کے جھکڑ اور بارش ان کی نظر پر کسی قسم کا بُڑا اثر نہ ڈال سکے۔
عام طور پر چڑیوں کی دیکھنے کی قوت ہماری اور آپ کی نظر سے دس گنا زیادہ ہوتی ہے۔
چڑیوں میں محسوس کرنے کی صلاحیت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔وہ سورج کا رُخ اور مقام دیکھ کر موسم کا اندازہ کرکے محفوظ مقام پر چلی جاتی ہیں۔مثال کے طور پر سخت سردی پڑنے پر وہ کسی قدر گرم خطوں کی جانب اُڑان شروع کر دیتی ہیں۔اسی طرح مناسب وقت پر ساحلی علاقوں میں بھی ان کا آنا جانا شروع ہو جاتاہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ فضا میں اپنا راستہ یاد رکھتی ہیں۔
آپ کو یہ جان کر بھی حیرت ہو گی کہ ان کے دل کی دھڑکن ایک منٹ میں پانچ سوبار ہوتی ہے۔ ہمارے جسم کا ٹمپر یچر98.6فارن ہائیٹ ہوتاہے اور ان کے جسم کی حرارت عام طور پر110فارن ہائیٹ کے لگ بھگ ہوتی ہے۔
ہمارے جسم کی ہڈیاں سخت اور ٹھوس ہوتی ہیں،لیکن چڑیوں کی نازک نازک سی ہڈیاں تیلیوں کی طرح ہلکی پھلکی اور کھوکھلی ہوتی ہیں ،تاکہ ان کا وزن کم ہو سکے۔چڑیوں کی رفتار بہت زیادہ ہوتی ہے۔بعض کی رفتار اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ تیز رفتار کیمرے بھی ان کی حرکات کی صحیح تصویر لینے میں ناکام رہتے ہیں۔
چڑیاں زمین پر اُترتے وقت اپنے پنجوں سے مدد لیتی ہیں۔سینے کا حصہ بھی اُترنے میں مدد کرتاہے۔یہ اپنے نازک پنجوں کی مدد سے آسانی سے زمین پر اُتر جاتی ہیں۔
چڑیاں اپنے رنگ ڈھنگ اور طبیعتوں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں۔جس طرح انسانوں میں مختلف رنگ،نسل اور مذہب وعقیدے کے لوگ ہوتے ہیں۔
کچھ اسی انداز کی ان کی اپنی برادری بھی ہوتی ہے ۔تم نے خوب صورت سے خوب صورت اور بد صورت سے بد صورت دونوں قسم کی چڑیاں دیکھی ہوں گی ۔کچھ کی مدھر آواز اچھی لگتی ہے اور کسی کی کڑوی آواز تمھیں بُری لگتی ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ یہ میٹھی اور مدھر تانیں ہمارے لیے نہیں ہوتیں،یہ صرف اپنے جوڑوں کو خوش کرنے اور اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ان کا ایک پیغام ہوتاہے۔

چڑیاں بڑی اچھی دست کار اور فنکار ہوتی ہیں۔جفا کشی اور تن دہی سے ایک ایک تنکا اِکھٹا کرکے اپنے گھونسلوں کی تعمیر کرتی ہیں۔تنکوں کو ملا ملا کر وہ اس ڈھنگ سے پروتی ہیں کہ اچھا خاصا ایک جال سا دکھائی دیتاہے۔کچھ چڑیوں کے گھونسلے تو اس قدر مضبوط ہوتے ہیں کہ ان کی پانچ نسلیں بھی اس میں رہنا چاہیں تو بڑے مزے سے رہ سکتی ہیں۔

یہ ننھی منی چڑیاں بڑی پیٹو ہوتی ہیں۔بعض چڑیاں جن کا اپنا وزن21گرام ہوتاہے۔48گرام تک دانہ چگ لیتی ہیں یعنی اپنے وزن سے بھی کہیں زیادہ ویسے عام طور پر چڑیاں دن بھر میں اپنے وزن کے برابر یا کم از کم اپنے وزن کا آدھا دانا تو ہر حالت میں چُگ لیتی ہیں۔
یہ نہ صرف اتنا کھانا کھاتی ہیں بلکہ دن بھر کی اُڑان اور اُچھل کود میں اسے آسانی سے ہضم بھی کر لیتی ہیں۔عام طور پر چڑیاں دو کلو میٹر کی بلندی تک اُڑلیتی ہیں۔اتنی ہی اونچائی پر رہ بھی لیتی ہیں۔شدید گرمی کے موسم میں یہ میدانوں کو چھوڑکر اونچے مقامات پر چلی جاتی ہیں،فاصلہ طے کرنے میں بھی یہ اپنی مثال آپ ہیں۔سائنس دانوں کے مطابق دنیا بھر میں پرندوں کی8500کے لگ بھگ اقسام پائی جاتی ہیں۔جن میں سے زیادہ تعداد چڑیوں کی ہے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Ghareeb Shahzada

غریب شہزادہ۔۔۔تحریر: مختار احمد

Ghareeb Shahzada

Kar Bhala ---- Ho Bhala

کر بھلا۔۔۔ہو بھلا

Kar Bhala ---- Ho Bhala

Sher Aya Sher Aya Dorrna

شیرآیا شیر آیا دوڑنا

Sher Aya Sher Aya Dorrna

Sharfoo Ki Kahani

شرفو کی کہانی

Sharfoo Ki Kahani

Nanha Chooza

ننھا چوزہ

Nanha Chooza

Anaya Ke Gurya

عنایہ کی گڑیا۔۔۔تحریر: مبشرہ خالد

Anaya Ke Gurya

Jasoos Musafir

جاسوس مسافر

Jasoos Musafir

Azeem Insaan

عظیم انسان

Azeem Insaan

Sabaq

سبق

Sabaq

Bahadur Larki

بہادر لڑکی

Bahadur Larki

Khwahish

خواہش

Khwahish

Apni Kulhari Apna Paoon

اپنی کلہاڑی، اپنا پاوٴں

Apni Kulhari Apna Paoon

Your Thoughts and Comments