MENU Open Sub Menu

Neki ka rasta

Neki Ka Rasta

نیکی کا راستہ!

اسٹاپ پر اکثر لفٹ لینے والے کھڑے نظر آتے تھے میرے پاس موٹر سائیکل تھی چوں کہ شہر میں اکثر لوٹ مار کے واقعات ہوتے رہتے تھے اس لیے میں ڈر کے مارے کسی کو اپنے ساتھ نہیں بٹھاتا تھا

جدون ادیب:
جب میں دفتر سے گھر لوٹتا تو اسٹاپ پر کئی لوگوں کو لفٹ کا انتظار کرتے پاتا۔جب سے آبادی کے درمیان سے ایک نیا راستہ بنایا گیا تھا،لوگوں کو آنے جانے میں بڑی سہولت ہوگئی تھی مگر یہ راستہ زیادہ ہمنوار نہیں کیا جاسکا اس سڑک پر چڑھائی زیادہ تھی خاص طور پر چھوٹی گاڑیوں کو سڑک عبور کرنا مشکل ہوجاتا تھا اس لیے رکشے ابھی اس سڑک پر نہیں چل سکتے تھے اس لیے اس اسٹاپ پر اکثر لفٹ لینے والے کھڑے نظر آتے تھے میرے پاس موٹر سائیکل تھی چوں کہ شہر میں اکثر لوٹ مار کے واقعات ہوتے رہتے تھے اس لیے میں ڈر کے مارے کسی کو اپنے ساتھ نہیں بٹھاتا تھا اکثر لوگ لفٹ مانگتے تو میں نظر انداز کرکے آگے بڑھ جاتا،وہ سردیوں کی ایک رات تھی میں خلاف معمول دیر سے آیا تھا جب اسٹاپ پر پہنچا تو دیکھا کہ صرف ایک نوجوان لڑکا کھڑا ہے اس نے مجھ سے لفٹ مانگی پہلے تو میں نے سوچا کہ اسے اپنے ساتھ بٹھالوں مگر میں نے سر جھٹک کر نفی میں گردن ہلائی اور آگے بڑھ گیا تھوڑا سا آگے گیا تھا کہ جمپ پر میری گاڑی قابو سے باہر ہوگئی موٹر سائیکل مجھ سمیت رگڑتی ہوئی دور تک گئی اور الٹ گئی میری ٹانگ نیچے دب گئی زخم کئی جگہ لگے میں ہوش میں تھا اور آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا اس دوران پاس سے اِکا دُکا گاڑیاں گزریں مگر کسی نے رکنے کی زحمت نہ کی شاید اس لیے کہ رات کے وقت وہاں رکنا خطرناک تھا کچھ دن بعد وہاں نامعلوم افراد رکنے والوں کو لوٹ رہے تھے چوں کہ سردی بھی بہت تھی اس لیے راہگیر بھی نہ تھے جب کوئی میری مدد کو نہ آیا تو میں نے خوداٹھنے کی کوشش کی اس لمحے مجھے کسی نے سہار ا دیا میری موٹر سائیکل کو ایک طرف کیا میں نے کھڑے ہونے کی کوشش کی مگر ٹانگوں نے میرا وزن نہ اُٹھایا میں گرنے لگا تھا کہ اس مہربان انسان نے مجھے تھام لیا۔
اب میں نے دیکھا کہ یہ وہی نوجوان تھا جس نے مجھ سے لفٹ مانگی تھی میں نے اسے لفٹ نہیں دی مگر وہ میری مدد کو آگیا۔پھر اس نے فون کرکے ایمبولینس منگوائی تب تک کچھ اور لوگ بھی وہاں آگئے ایمبولینس آئی تو مستعدد ڈرائیور نے اسی نوجوان کی مدد سے مجھے اسٹریچر پر لٹایا پھر اس نوجوان نے وہاں جمع افراد میں سے ایک کے ساتھ کوئی بات کی موبائل نمبر نوٹ کیا اور ایمبولینس میں بیٹھ گیا وہ مجھے لے کر اسپتال پہنچا راستے میں بتایا کہ اس نے میری موٹر سائیکل اس جگہ پر ہوٹل کے چوکیدار کے حوالے کردی ہے اور اس کا نمبر احتیاطاً لے لیا ہے الغرض اس نوجوان نے میری بھرپور مدد کی اور مجھے اسپتال پہنچا کر رخصت ہوگیا مجھے بہت شرمندگی محسوس ہورہی تھی کہ میں کسی نے کام آنے یا دوسروں کی خدمت کے جذبے سے محروم تھا اور وہ نوجوان اس قطع نظر کہ میں نے اسے لفٹ تک دینے سے انکار کیا تھا اس نے میری مدد کی تھی بس اس وقت میں نے فیصلہ کرلیا کہ اب چاہے کچھ بھی ہو میں بھی لوگوں کے کام آیا کروں گا خاص طور پر موقع ملا تو اس نوجوان کے احسان کا بدلہ ضرور چکاؤں گا،میں صحت یابی کے بعد دفتر جا نے لگا ایک دن واپسی پر اسٹاپ پر اس نوجوان کو کھڑے دیکھا تو اس کے قریب موٹر سائیکل لا کر روک دی اس نے مجھے پہچان لیا میری صحت پوچھی میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اسے بیٹھنے کو کہا اس نے اپنی دائیں جانب دیکھا تو ایک ادھیڑ عمر شخص کھڑ ا تھا جو لفٹ لینا چاہتا تھا اس نے مجھے کہا کہ میں اسے لے جاؤں وہ کسی اور سے لفٹ لے لے گا میں نے ایسا ہی کیا پھر وہ کئی دن تک نہ ملاآخر ایک دن وہ میرے ساتھ بیٹھ گیا راستے میں نے اس نے مجھ سے کہا یہ زندگی بے مقصد اور بے کار ہے اگر کسی کے کام نہ آئے اس نے مجھے تاکید کی کہ میں روزانہ جاتے ہوئے کسی نہ کسی کو بٹھالیا کروں یہ نیکی ضائع نہ ہونے دوں اس دن کے بعد سے میں جب بھی کہیں سے گزرتا ہوں تو کسی کو بھی اپنے ساتھ بٹھالیتا ہوں اور اس راستے کو نیکی کا راستہ سمجھتا ہوں۔

Your Thoughts and Comments