neki wala daba

Neki Wala Daba

نیکی والا ڈبا

راشد صاحب سادہ مزاج آدمی تھے ۔وہ کاروبار کے سلسلے میں اکثر دوسرے شہروں میں جایا کرتے تھے۔

نذیر انبالوی
راشد صاحب سادہ مزاج آدمی تھے ۔وہ کاروبار کے سلسلے میں اکثر دوسرے شہروں میں جایا کرتے تھے۔ اس بار انھوں نے راولپنڈی جانے کی تیاری مکمل کرلی تھی ۔ایک سفر ی بیگ ،جس میں ایک سوٹ، ضروری کاغذات اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات تھیں ۔

انھیں معدے کی تکلیف اور دل کا عارضہ تھا ۔وہ سفر کے دوران کھانے کے دو ڈبے ساتھ رکھتے تھے ،ایک کالا اور ایک سفید رنگ کا تھا ۔وہ جب بھی کاروبار کے سلسلے میں کسی دوسرے شہرجاتے ،ان کے پاس کھانے کے دونوں ڈبے ضرور ہوتے تھے۔ سفید ڈبے میں ان کا پرہیزی کھانا ہوتا اور کالے ڈبے کا کھانا اپنے ہم سفر کو پیش کرنے کے لیے تھا۔
اگر کالے ڈبے کا کھانا بچ جاتا تو راستے میں کسی فقیر کو دے آتے ۔
ایک دن اپنی اس نیکی اور سادگی کی وجہ سے انھیں ریلوے پولیس کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

(جاری ہے)

سفر کے دوران انھوں نے ایک ادھیڑ عمر شخص کو کھانے کی پیش کش کی ۔مسافر نے شک بھری نظر سے انھیں گھورا۔


”بھائی صاحب ! اس طرح کیوں گھوررہے ہیں ؟میں نے تو صرف کھانے کی پیش کش کی ہے ۔“راشد صاحب کو اپنے ہم سفر کا اس طرح گھورنا اچھا نہیں لگا تھا ۔
”اپنا کھانا اپنے پاس رکھو۔میں تمھارے جیسے نو سربازوں کو اچھی طرح جانتا ہوں ۔
“مسافر کے گھور نے سے زیادہ اس کے جملے نے راشد صاحب کو پریشان کر دیا تھا ۔”میں نو سر باز․․․․․․․․آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟آپ کو غلط فہمی ہورہی ہے ۔“راشد صاحب نے اپنی صفائی پیش کی ۔
”کبھی کوئی بُڑا آدمی خود کو بُرا کہتا ہے ! تم پہلے مجھے کھانا کھلاؤ گے ،جسے کھا کر میں بے ہوش ہو جاؤں گا اور تم میری جیبوں کا صفایا کر دو گے ۔
میں تمھارے اس چال بازی کو خوب سمجھتا ہوں ۔میں تمھارا منصوبہ کام یاب نہیں ہونے دوں گا ۔“مسافر کی باتوں سے راشد صاحب کا سر چکرانے لگا تھا ۔وہ بولے :”یہ․․․․یہ․․․․آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ؟میں تو انسانی ہمدردی کے تحت ایسا کررہا ہوں ۔

”اگر تم انسانی ہمدردی کے تحت ایسا کر رہے ہوتو پھر خود یہ کھانا کھاؤ۔
مسافر کے اس اچانک حملے سے راشد صاحب نے خود کو بچاتے ہوئے کہا:”میں ․․․․․میں ․․․․․یہ کھانا نہیں کھا سکتا ۔“
”تم یہ کھانا کیسے کھاؤ گے ،اس کھانے میں تو بے ہوشی کی دوا ملائی گئی ہے ،لُٹیرے کہیں کے ،اب تم بچ کر نہیں جا پاؤ گے ۔
“مسافر نے یہ کہہ کر شور مچانا شروع کر دیا ۔آس پاس کے مسافر بھی اس کی حمایت میں بولنے لگے ۔شورسن کرگارڈ آگیا ۔اس نے صورتِ حال دیکھ کر ریلوے پولیس کو بلالیا ۔ریل کی بوگی ہی میں پوچھ گچھ کا عمل شروع ہو گیا ۔کھانے کے دوڈبے سب کے سامنے تھے ۔
راشد صاحب نے جب ان ڈبوں کے بارے میں بتایا تو ایک سپاہی بولا:”آپ اگر سچے ہیں تو اس ڈبے کا کھانا کیوں نہیں کھا رہے ؟“
”دراصل میں معدے کے مرض میں مبتلا ہوں ،پرہیزی کھانا کھاتا ہوں ،کالے ڈبے میں مرچ مسالے والا کھانا ہے ۔
میں اگر اسے کھاؤں گا تو دورانِ سفر ہی بیمار پڑجاؤں گا ۔“
راشد صاحب کے بیان کی تصدیق کے لیے ایک سپاہی نے دونوں ڈبوں میں سے ایک ایک لقمہ لے کر کھایا تو سب کورا شد صاحب کی باتوں پر یقین آگیا ۔معاملہ رفع رفع ہو گیا ۔انھوں نے کالا ڈبا اپنی نشست کے نیچے رکھ دیا ۔
پھر انھوں نے تمام راستے کسی کو کھانا کھانے کی پیش کش نہیں کی ۔ریل سے اُتر کر وہ کھانا ایک بھکاری کو دے دیا ۔
اس کے بعد بھی انھوں نے اپنی اس نیکی سے منھ نہیں موڑا ۔کھانے کے دونوں ڈبے ریل کے سفر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہی رہے ۔
ایک بار سفر کے دوران اپنا پر ہیزی کھانا ڈبے سے نکال رہے تھے کہ اپنی عادت کے مطابق قریب بیٹھے ایک شخص کو کھانے کی پیش کش کر دی ۔مسافر نے کہا:”معاف کیجیے گا ،میں پرہیزی کھانا کھاتا ہوں ۔مرچ مسالے کے بغیر ۔بد قسمتی سے ٹرین میں سوار ہوئے ٹفن پلیٹ فارم پر ہی بھول آیا ہوں ۔
“مسافر کا نام ابراہیم تھا ۔
”یہ بغیر مرچ مسالے والا گھر یلو کھانا حاضر ہے ۔آپ بے فکر ہو کر کھائیے ،ابراہیم بھائی ! تکلیف مت کیجیے گا ۔کھانا بہت ہے ۔“راشد صاحب نے اس وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ،جب ابراہیم نے پہلا لقمہ ہی کھا کر کہا تھا :’واہ ․․․․بہت مزے کا کھانا ہے ۔

کھانے کی تعریف کرتے ہوئے ابراہیم کی نظر کالے ڈبے پر پڑی تو اس نے سوالیہ نظروں سے راشد صاحب کو دیکھا ۔راشد صاحب نے کالے ڈبے کے بارے میں تفصیل سے بتا دیا اور اس سے وابستہ تمام واقعات بھی سنا دیے۔یہ سن کر ابراہیم نے کہا :”آج کل تو نیکی کرنا بھی خاصا مشکل کام ہے ۔
ہم نیکی کا کام کرنے والوں کو بھی شک کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔لوگ سمجھتے ہیں کہ اس نیکی کے کام کے پیچھے ضرور کوئی راز ہو گا ۔“
”آپ ٹھیک کہتے ہیں ۔“راشد صاحب نے بے اختیار کہا۔
اچانک چلتی ٹرین کے انجن میں کوئی خرابی ہو گئی اور وہ ایک جھٹکے سے رک گئی ۔
دور تک کوئی آبادی نہیں تھی ۔کچھ نوجوان ڈبے سے اُتر کر صورتِ حال کا جائزہ لینے لگے تھے ۔
ایک گارڈ پٹڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتے ہوئے مسافروں کو اطلاع دے رہا تھا :”ٹرین کا انجن خراب ہو گیا ہے ،ہم نے قریبی اسٹیشن ماسٹر سے رابطہ کر لیا ہے ،پھر بھی انجن آنے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں ۔

تین گھنٹے گزر گئے ،بچے بڑے بھوک پیاس کی وجہ سے بے حال ہو گئے ۔نوجوانوں نے نیچے اُتر کر ایک ہینڈ پمپ تلاش کر لیا تھا ،جس سے وہ پانی بھر بھر کر مسافروں کو پِلا رہے تھے ۔ان حالات میں راشد صاحب کی نظر کھانے کے کالے ڈبے پر پڑی ۔
اس میں مزے دار کھانا وافر مقدار میں موجود تھا ۔راشد صاحب علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی تفسیر تھے :ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے ․․․․آتے ہیں جو کام دوسروں کے انھوں نے اپنی بو گی کے مسافروں کو کھانا کھانے کی پیش کش کی ۔سبھی کو بھوک نے ستایا ہوا تھا ۔
ڈبا کھلا تو کھانے کی خوشبو سے مسافروں کی بھوک مزید چمل اُٹھی تھی ۔کھانا سب کے سامنے تھا ۔ساتھ بیٹھے مسافروں کے ہاتھ بے تکلفی سے آگے بڑھے۔کھانا واقعی مزے دار تھا ۔کھانا اتنا تھا کہ سب کو کچھ نہ کچھ سہارا ہو گیا کھانا جس مقصد کے لیے لایا گیا تھا ،آج وہ مقصد پورا ہو گیا تھا ۔
آج نہ کسی نے راشد کو نوسر باز کہا تھا اور نہ کسی نے انھیں شک کی نظر سے دیکھا تھا ۔ٹرین میں یوں تو سبھی مسافر خوش تھے ،مگر راشد صاحب تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے ۔وہ بار بار اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے تھے کہ اس کی توفیق سے انھیں ویرانے میں نیکی کرنے کا موقع ملا تھا ۔

Your Thoughts and Comments