Nobel Prize

نوبل پرائز

نوبل پرائز ایک ایسا قابل فخر انعام ہے جس کو دنیا بھر میں بے حدمعتبر مانا جاتاہے ۔

پیر مارچ

Nobel Prize
ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر
نوبل پرائز ایک ایسا قابل فخر انعام ہے جس کو دنیا بھر میں بے حدمعتبر مانا جاتاہے ۔نوبل پرائز کے بانی الفریڈ نوبل جو اپنے دور کے مایہ ناز موجد،انجینئر اور ماہر کیمیا تھے اور انہوں نے اپنی 335ایجادات کے ذریعے بے پناہ دولت حاصل کی تھی ۔
ایک اندازے کے مطابق الفریڈ نوبل کی دولت 186ملین ڈالر سے بھی زائد تھی ۔نوبل جو پیدا تو سویڈن میں ہوئیں مگر اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ روس میں گزارا۔انہوں نے اپنی جمع کی ہوئی رقم کو ابتدائی پانچ انعامات کے لئے مقرر کر دیا تھا اور پھر ان کی موت کے بعد یہ انعام ہر سال ایسے خاص افراد یا اداروں کے نام دیا جانے لگا جنہوں نے فزکس ،کیمیا، طب، ادب اور امن کے میدانوں میں کوئی کارنامہ سر انجام دیا ہو۔

(جاری ہے)


1897ء میں نوبل پرائز کا باقاعدہ آغاز ہوا اور ابتداء میں ریجنر سو ہلمین اور روڈولف کو نوبل فاؤنڈیشن کا سر براہ مقرر کیا گیا اور پھر ان افراد کی منظوری کے بعد نارویجین نوبل کمیٹی اور فزکس اور کیمسٹری میں رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز بنائے گئے جبکہ فزکس اور میڈیسن میں نوبل انعام دینے کے لئے کا رولنسکا انسٹیٹیوٹ کی نوبل اسمبلی اور ادب کے لئے سوئیڈش اکیڈمی کو نامزد کیا گیا جبکہ امن کے شعبہ میں ناروے کی قانون ساز اسمبلی کے منتخب کردہ پانچ افراد کی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔
اور پھر 1901ء میں فزکس، کیمسٹری، ادب، فزیالوجی، میڈیسن اور امن کے شعبہ جات میں نوبل انعامات دےئے گئے ۔
نوبل انعام کی تقسیم کا اعلان ہر سال اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کیا جاتاہے اور پھر دس دسمبر کو ہر سال نوبل انعام کی تقریب کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں ہر انعام یافتہ ایک طلائی میڈل، ایک عدد ڈپلوما اور کچھ مخصوص رقم ادارے سے وصول کرتاہے۔

تاریخ میں پہلا نوبل انعام جرمنی سے تعلق رکھنے والے ول ہیلم کو دیا گیا۔جان برڈین جو ایک ماہر فلکیات تھے انہیں فزکس میں دوبار نوبل انعام سے نوازا گیا اس کے علاوہ میری کیوری نے 1903ء میں فزکس اور پھر 1911ء میں کیمسٹری کا نوبل انعام حاصل کیا۔

فزکس کے میدان میں ابھی تک صرف تین خواتین نوبل انعام حاصل کر چکی ہیں ۔میری کیوری کے بعد ماریا جیوپرٹ نے 1963ء میں جبکہ 2018ء میں ڈونا اسٹک لینڈ نے فزکس میں نوبل انعام حاصل کئے۔
1939ء سے 1943ء تک کے دور میں کسی بھی فرد یا ادارے کو کسی بھی فیلڈ میں نوبل پرائز سے نہیں نوازا گیا جبکہ 1968ء میں بنک آف سویڈن نے نوبل پرائز کی فہرست میں معیشت کے نوبل پرائز کے اضافے کا اعلان کیا۔

Your Thoughts and Comments