num

Num

”نعم“

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ جنگل کی سیر کو گیا ۔اُسکو ایک بوڑھا دکھائی دیاجو باغ میں کھجوروں کی گھٹلیاں بورہا تھا۔بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ اِس سے پوچھو کہ یہ کیا بو رہا ہے ؟

محمد اسد سعید
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ جنگل کی سیر کو گیا ۔اُسکو ایک بوڑھا دکھائی دیاجو باغ میں کھجوروں کی گھٹلیاں بورہا تھا۔بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ اِس سے پوچھو کہ یہ کیا بو رہا ہے ؟
وزیر نے اُس سے پوچھا تو جواب ملا ؛“کھجور کی گھٹلیاں بورہا ہوں“۔


بادشاہ نے پوچھا؛“یہ کتنے عرصے میں پھل لے آئیں گی؟“
بوڑھے نے جواب دیا؛“پچیس برس بعد “۔بادشاہ ہنسنے لگا کہ بوڑھے کے پاؤں قبر میں لٹک رہے ہیں اور پچیس سال بعد کا سامان کررہا ہے ۔وزیر نے یہ بات بوڑھے سے کہی تو وہ بولا اگر سب باغ لگانے والے یہی سوچا کرتے جوتم سوچتے ہوتو آج ہمیں ایک بھی کھجور نصیب نہ ہوتی ۔
بادشاہ سلامت ! دنیا میں کام یو نہی چلتا رہتا ہے کہ کوئی لگاتا ہے تو کوئی کھاتا ہے ۔

(جاری ہے)

آج ہم بھی اپنے باپ دادا کے لگائے ہوئے درختوں کے پھل کھارہے ہیں ۔کل ہمارے بچے بھی اِن درختوں سے پھل کھائیں گے ۔
بادشاہ نے یہ معقول جواب سن کر کہا”نعم“تُم نے درست کہاہے۔

“بادشاہ کا یہ قاعدہ تھا کہ جس شخص کی بات پر ”نعم “بولتا تو اِسکا مطلب یہ ہوتا کہ اِ س شخص کو ایک ہزار دینا ر دے دئیے جائیں ۔چنانچہ وزیر نے ایک ہزار دینار کی تھیلی اُس بوڑھے کے حوالے کر دی ۔اِسکے بعد دونوں آگے چلنے لگے تو بوڑھے نے کہا میری ایک اور بات سنتے جاؤ․․․․․․۔

وزیر نے کہا؛“کہو کیا بات ہے ؟“
بوڑھے نے کہا کسی کا بیج تو بیس پچیس سال میں پھل لاتا ہے لیکن میرے بیج نے ایک ہی ساعت (سال)میں پھل لا دئیے ہیں ۔بادشاہ نے پھر کہا؛”نعم“۔ وزیر نے ایک ہزار دینار کی دوسری تھیلی بھی اُسکے حوالے کر دی ۔
پھر آگے بڑھنے لگے تو بوڑھے نے پھر کہا کسی کا بیج سال میں ایک بار پھل لاتا ہے لیکن میرے بیج نے ایک ساعت میں دومرتبہ پھل لگا دئیے ۔بادشاہ نے خوش ہو کر کہا؛”نعم“۔ وزیر نے ایک ہزار دینار کی تیسری تھیلی بھی اُسکے حوالے کر دی ۔وزیر نے بادشاہ سے کہا کہ بادشاہ سلامت ہمیں یہاں سے اب جلدی جانا چاہئے کیونکہ ہم نے اِس بوڑھے کو بے وقوف سمجھا تھا لیکن وہ بہت عقلمند ہے ۔

Your Thoughts and Comments