MENU Open Sub Menu

Orr Nijaat Mil Gai

Orr Nijaat Mil Gai

اور نجات مل گئی

دن کی روشنی میں چوہے اپنے بل سے نہ نکل سکتے تھے اور نہ ہی خوراک تلاش کرسکتے تھے

اور نجات مل گئی
آمنہ بتول:
کیا آپ جانتے ہیں کہ چوہا بلی کے آتے ہی کیوں بھاگ جاتا ہے․․․ ؟؟؟ بلی کتنے ہی دبے پاؤں کیوں نہ آئے، چوہے کو اس کی آمد کی خبر ہوہی جا تی ہے․․․․ کیا آپ جانتے ہیں بلی کی گردن اندر کو کیوں دھنسی ہوئی ہوتی ہے؟؟ کیا کہا․․․․؟ نہیں جانتے․․․․؟؟ چلیں میں آپ کو بتاتی ہوں!! آج سے کئی سو سال پہلے چوہوں کا ایک خاندان چھوٹے سے بل میں رہائش پذیر تھا۔
دن کی روشنی میں چوہے اپنے بل سے نہ نکل سکتے تھے اور نہ ہی خوراک تلاش کرسکتے تھے، سو سارادن انہیں بھوکا رہنا پڑتا ۔وجہ یہ تھی کہ بلی نہایت آسانی سے انہیں دیکھ لیتی تھی اور شکار بنالیتی تھی ۔ سو چوہے جب رات کو بھی نکلتے تو بھی چھپ چھپا کر نکلتے ۔
بلی کا خوف ان کے سرپر تلوار کی طرح لٹکتا رہتا۔ لیکن وہ کتنی ہی احتیاط کیوں نہ برتتے، بلی ایسے دبے پاؤں آتی کہ انہیں خبر تک نہ ہوتی اور ان کا ایک ساتھی بلی کے لنچ یا ڈنر کی نذر ہوجاتا۔ ایک لمبے عرصے تک وہ خوف کے عالم میں جیتے رہے، ہرروز ان کے ساتھی بلی کی بھینٹ چڑھتے رہے۔
آخر ایک رات بوڑھے چوہے نے اجلاس بلوایا، جس میں چوہا خاندان کا ہر چھوٹا بڑا چوہا شریک ہوا۔ اجلاس ہوا تو بوڑھے چوہے نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے کہا۔ ”میرے ساتھیو! یہ ڈر ڈر کر جینا بھی کوئی جینا ہے؟ یہ کیسی زندگی ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے پیارے دشمن کے پیٹ کا ایندھن بنتے رہیں اور ہم چپ چاپ سہتے جائیں؟؟“ بوڑھے چوہے کی آواز بلند ہوتی گئی۔
اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ دیگر چوہوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اس نے مکاّ ہو ا میں لہرایا اور کہا۔ ”آخر کوئی حد ہوتی ہے ظلم سہنے کی بھی۔ سوچو، میرے ساتھیو، سوچو، کوئی ترکیب سوچو اس عذاب سے نجات پانے کی ، آزاد زندگی گزارنے کی․․․․! “ بوڑھا چوہا خاموش ہوا تو سب سرجوڑ کر بیٹھ گئے۔
آخر ایک چوہا زور سے اچھلا اور بولا۔ ” وہ مارا․․․․!!! ایسی ترکیب سوچی ہے کہ بس․․․“ سارے چوہے یک زبان ہوکر بولے۔ ”وہ کیا ؟“ چوہا کھنکارا، دوبارہ کھنکارام پھر کھنکارا، پھر اپنی گردن سہلاتے ہوئے گویا ہوا۔” ہم ایک گھنٹی بلی کی گردن میں باندھ دیں گے، تو جب وہ آئے گی تو گھنٹی بجے گی اور ہمیں پتا چل جایا کرے گا اور بھاگ جائیں گے!“ سب چوہے خوش سے تالیاں پیٹنے لگے۔
”واہ بھئی واہ! کیا عمدہ ترکیب ہے!! آپ بڑے ہیں ، آپ ہی بلی کی گردن میں گھنٹی باندھیے۔“ چوہا تیار ہوگیا۔ جب بلی کے آنے کا وقت ہوا تو گھنٹی لے کر بل کے باہر کھڑا ہوگیا۔ باقی چوہے بلی قریب آئی، چوہے کے تو چھکے چھوٹ گئے․․․․ پاؤں کپکپائے، ہاتھ تھرتھرائے،گھنٹی ہاتھ سے چھوٹ گئی، سانسوں دوڑتا بل میں داخل ہوگیا بلی تو شکار کو بچتا دیکھ کر واپس ہولی، مگر چوہے بہادر کا بُرا حال ہوا۔
سب چوہے اس کے اردگرد کھڑے ہوکر قہقہے لگا رہے تھے کوئی تالیاں پیٹ رہا تھا، کوئی سیٹیاں بجارہا تھا، ایک نے تو یہ بھی کہہ دیا۔ بڑا آیا گھنٹی باندھنے والا۔ اگلی رات تمام چوہے پھر سرجوڑ کر بیٹھ گئے۔ اس بار ایک بوڑھے چوہے نے ترکیب بتائی۔
میرے دوستو ، اتفاق میں برکت ہے ناں، اس لیے جیسے ہی بلی آئے گی ، ہم سب اس پر اکھٹے حملہ کردیں گے، اپنے سارے مُردوں کے بدلے چکائیں گے، خوب خوب ماریں گے، ایسا کرنے سے بلی پر ہماری دھاک بیٹھ جائے گی اور دوبارہ ہمیں شکار کرنے کی جرأت نہ کرسکے گی۔
“ سارے چوہے خوش ہوگئے اور بلی کاانتظار کرنے لگے۔ جوں ہی بلی آئی سب نے یک بارگی حملہ کردیا کوئی ٹانگ سے چمٹ کر کاٹنے لگا کوئی دُم سے، کوئی پیٹھ سے․․․ بلی نے جو زور لگایا دم جھاڑی پیر جو پٹخا تو ایک چوہا دور جاگرا، دوسرے کا کچومر نکل گیا۔
باقی چوہوں نے جو حال دیکھا تو بھگدڑ مچ گئی، سب بل کی طرف بھاگے۔ بلی نے اطمینان سے ایک تگڑاچوہا دبوچا اور چلتی بنی۔ سب چوہے ایک دوسرے کو لعن طعن کرتے، بزدل اور ڈرپوک کے القابات سے نوازتے پھر سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ سوچنے لگے اور سوچتے ہی چلے گئے یہاں تک کہ ایک ننھا سا چوہا بول اٹھا۔
مجھے ایک بڑھیا ترکیب سوجھی ہے، وہ یہ کہ زمین پر گوند پھیلا دی جائے، اور اس میں گوشت کا ایک ٹکڑا رکھ دیا جائے۔ بلی جب گوشت کا ٹکڑا لینے آئے گی تو اس کے پاؤں گوندکی وجہ سے چپک جائیں گے، پھر وہ ہلنے جلنے سے قاصر ہوجائے گی، اور یوں ہم گھنٹی اس کی گردن میں باندھ دیں گے۔
“ اب چوہے خوشی خوشی گوند زمین پر پھیلائے ، گھنٹی ہاتھ میں پکڑے بلی کا انتظار کرنے لگے۔ بلی آئی ، سرخ گوشت کا بڑا سا ٹکڑا دیکھ کر اس کی باچھیں کانوں تک چر گئیں، جھٹ سے اس پر لپکی لیکن یہ کیا․․․؟؟ اس کے پاؤں تو گوندل کی دلدل میں دھنستے پھسلتے چلے گئے ۔
جیسے جیسے نکلنے کی کوشش کرتی، ویسے ویسے اس کا جسم مزید گوند میں لتھڑتا جاتا۔ چوہوں نے جو یہ ماجرا دیکھا تو نعرہٴ مستانہ بلند کیا۔ ننھا چوہا لپک کر بلی کی پیٹھ پر چڑھ گیا اور اس کی گردن میں گھنٹی باندھ دی۔ دیر تک چوہے ننھے کے حق میں نعرے لگاتے رہے اور نجات کا جشن مناتے رہے اور بلی کا مذاق اڑاتے رہے․․․․ اور اسی وقت سے چوہے بلی سے نہیں ڈرتے۔
انہیں بلی کے آنے کا دور سے پتا چل جاتا ہے کیوں کہ اس کی گردن میں بندھی گھنٹی بجتی رہتی ہے اور وہ فوراََ ہی اپنے بل میں چھپ جاتے ہیں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ گھنٹی کہاں ہوتی ہے؟ نظر تو نہیں آتی۔ تو جناب آپ بلی کی گردن کو ہاتھ لگائیں، آپ کو وہ اندر کی طرف دھنسی ہوئی محسوس ہوگی۔ یہ اسی پٹے کی علامت ہے جس کے ذریعے سے گھنٹی بلی کے آباء واجداد میں سے ایک کی گردن میں باندھی گئی تھی۔

Your Thoughts and Comments