Parri Ki Charri

پری کی چھڑی

ربیعہ کو کتب بینی کا بہت شوق تھا ،خاص طور پر وہ پریوں کی کہانیاں بڑی رغبت و شوق سے پڑھتی تھی ۔ایک دن سکول سے واپسی میں اُس نے ایک بڑھیا کو دیکھا جو قدرے پریشان معلوم ہوئی ۔

ہفتہ ستمبر

parri ki charri

اقراء
ربیعہ کو کُتب بینی کا بہت شوق تھا ،خاص طور پر وہ پریوں کی کہانیاں بڑی رغبت و شوق سے پڑھتی تھی ۔ایک دن سکول سے واپسی میں اُس نے ایک بڑھیا کو دیکھا جو قدرے پریشان معلوم ہوئی ۔جب ربیعہ نے اُن سے احوال پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ کچھ خاص موتی یہاں گر گئے ہیں جو سفید رنگ کے ہیں اور تعداد میں گیارہ ہیں ۔

بینائی کمزور ہونے کی وجہ سے مجھے مل نہیں رہے ۔ربیعہ نے اُن کی مدد کرنے کی ٹھان لی ۔کافی تگ ودو کے بعد اُس نے سارے موتی ڈھونڈ کر بڑھیا کو دے دیے اور جلدی سے گھر کے راستے پر گامزن ہوئی ۔سارے رستے وہ اُن مو تیوں کے بارے سوچتی گئی ۔
اِتنے خوبصورت اور چمکیلے خاصے قیمتی معلوم ہوتے تھے ۔تبھی تو بڑھیا پریشان تھی ۔وہ سکول سے چھٹی کے بعد کافی وقت لا ئبریری میں گزارتی تھی ،اِسلئے وہ اکثر گھر دیر سے پہنچتی تھی ۔

(جاری ہے)

رات کے کھانے کے بعد تھوڑی دیر گھر کی چھت پر ٹہلنا اُسکا معمول تھا ۔

آج کافی خوبصورت موسم تھا،بالکل صاف وشفاف ودلکش سا چاند پورے جو بن پر چمک رہا تھا ۔ہر جانب چاندنی کی کرنیں پھیلی تھیں ،ہوا سے پتوں کی سر سراہٹ اچانک ہر جانب بھینی بھینی خوشبو پھیلنے لگی دور سے ایک روشنی کا ہالہ قریب آنے لگا ۔
جیسے چاند باسی دھرتی کی جانب رخت سفر ہے ۔آہستہ آہستہ منظر صاف ہورہا تھا ،اُسکی اُڑان کچھ تتلی کی مانند تھی بلآخر وہ قریب آگئی وہ ایک بہت حسین وجمیل سفید لباس میں ملبوس ہاتھ میں چھڑی لئے ایک پری تھی ۔
چاند کی کرنوں سے بنا آنچل اس کا
ہاتھ میں لیے موتیوں کی چھڑی
چہرے پہ ہر وقت نور کا ہالہ
جسم ہے جیسے چاندنی کی مورت
ربیعہ تھوڑی سی پریشان ہوگئی لیکن پری نے اُسے حوصلہ دیا کہ وہ اُسکے احسان کا بدلہ چکانے آئی ہے ۔
پری نے اُسے بتایا کہ سکول کے بعد اُس نے جس بڑھیا کی مدد کی تھی اصل میں وہ میں تھی ۔مجھے سب چاند پری کہتے ہیں ،جو موتی تم نے مجھے ڈھونڈ کر دےئے تھے اصل میں وہ میری چھڑی کے تھے جو شیطانی قوتوں سے لڑتے ہوئے ٹوٹ گئی تھی ۔اِس کے ٹوٹتے ہی میرے جسم کی طاقت ختم ہو گئی تھی اور میں بوڑھی نظر آنے لگی لیکن وہ موتی جس جگہ گرے تھے وہ تمہارے سکول کے پاس کی جگہ تھی جہاں تمہارے جیسی نیک دل لڑکی نے میری مدد کی میں تمہاری کوئی بھی خواہش پوری کروں گی ۔
ربیعہ نے جھٹ سے پرستان دیکھنے کی خواہش ظاہر کردی ۔پری نے ربیعہ کا ہاتھ پکڑا اور چھڑی گھمائی تو وہ فوراََ پرستان نے دروازے پر پہنچ گئی جو بادلوں اور اوس سے ڈھکا ہواتھا ۔وہ اندر داخل ہوئی ،پرستان بہت حسین ودلکش تھا ۔لال نیلے پیلے سنہری نارنجی اور گلابی ہر رنگ کے پروں والی پریاں وہاں موجود تھیں ۔
چاند پری کی شان سب سے الگ تھی ۔ہر رنگ کے پھول ،پھولوں سے لدی ڈالیاں ہر رنگ کے پھول پھولوں سے چھپی پہاڑیاں ہوا میں رقص کرتی پریاں تھیں ۔گل وپھول کی گلیاں ہر جانب فطرت کا رنگ پھیلا ہوا تھا اِسکے ساتھ ہی چاند پری نے ایک شاندار دوعوت کا انتظام کیا جس میں سب پریاں مدعو تھیں ۔
کھانے میں شہد ،انواع اقسام کے پھل اور مٹھائیاں پیش کی گئیں ۔پھر محل میں گھومنے کے بعد وہ ایک لائبریری میں گئی ،جہاں سے اُس نے کہانیوں کی کتا بیں ساتھ لے جانے کیلئے رکھ لیں ۔اب واپس جانے کا وقت آگیا تھا ۔ربیعہ سب پریوں سے ملی اور چاندپری سے اجازت چاہی ۔پھر اُس نے چھڑی گھمائی اور ربیعہ واپس اپنے گھر میں موجود تھی ۔اُسکے ہاتھ میں بہت سی کتابیں تھیں ۔چاندپری نے اُسے تحفے میں دیں تھیں اور وہ بہت خوش تھی۔

Your Thoughts and Comments