pehli bazm adab

Pehli Bazm Adab

پہلی بزم ادب

اقبال کیمپس میں ساتویں کلاس کا ایک منظر۔بزم ادم کا پیریڈ تھا،مس سحرش نے بچوں سے پوچھا” پیارے بچو! ہم ہر ویک اینڈ پر بزم ادب کی محفل سجاتے ہیں جس میں بچے نظمیں ملی ترانے لطائف اقوال زریں مزاحیہ پیروڈی ہوتی ہے ،مزاحیہ خبریں اور خاکے ہوتے ہیں ،کوئی بچہ بتا سکتا ہے کہ بزم ادب کا کیا مطلب ہے ۔

ساجدہ
اقبال کیمپس میں ساتویں کلاس کا ایک منظر۔بزم ادم کا پیریڈ تھا،مس سحرش نے بچوں سے پوچھا” پیارے بچو! ہم ہر ویک اینڈ پر بزم ادب کی محفل سجاتے ہیں جس میں بچے نظمیں ملی ترانے لطائف اقوال زریں مزاحیہ پیروڈی ہوتی ہے ،مزاحیہ خبریں اور خاکے ہوتے ہیں ،کوئی بچہ بتا سکتا ہے کہ بزم ادب کا کیا مطلب ہے ۔


”مس جی میرا خیال ہے کہ ایسی محفل ،جس میں لطیفے وغیرہ ہوں “موسی نے کہا۔
”مس جی میر ا خیال ہے ہنسی مذاق والی محفل “عبدل بھٹی نے کہا۔
اِس پر سب بچے ہنسنے لگے ۔
”کوئی اور بچہ؟“مس سحرش نے بچوں کی طرف دیکھا۔

”مس میرا خیال ہے کہ بزم کا مطلب محفل ہوتا ہے اور ادب کا سب کو پتہ ہے یعنی وہ محفل جس میں ادب میں رہتے ہوئے گفتگو تقریر ‘طنز ومزاح کیا جائے“ابوبکر نے کہا”شاباش ،تالیاں “مس سحرش نے کہا۔

(جاری ہے)


جی بچو! اب آئی بات سمجھ میں اس محفل کا اہم مقصد بچوں میں جھجھک دور کرنا ہے ،بچے بیٹھے بیٹھے بہت سی باتیں کرتے ہیں مگر جب اُنہیں کلاس روم میں کسی محفل میں میلاد شریف میں کھڑے ہو کر کچھ پڑھنے کیلئے کہا جائے تو اُن سے بولا نہیں جاتا۔

وہ کانپنا شروع ہوجاتے ہیں اِسی مقصد کیلئے یہ محفل سجائی جاتی ہے ۔یہ مستقبل میں آپکے کام آنے والی ہوتی ہے ۔اِس میں لازماً حصہ لیجئے گا۔اچھا مقرر ہونا کامیابی کی علامت ہے ۔آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ کسی کو شادی ہال میں ٹیبل پر بیٹھ کر کھانے کا شعور نہیں ہوتا حالانکہ پڑھے لکھے بھی ہوتے ہیں مگر فطری جھجھک کی وجہ ہے۔
۔۔
”مس کوئی واقعہ سنا ئیں جس میں جھجھک نہ ہونے کی وجہ سے کسی نے کوئی میرا مطلب ہے ۔۔۔“ایم رمضان نے کہا۔
”اچھا اچھا میں آپ کا مطلب سمجھ گئی ہوں ۔ہاں تو سنئے ۔آپ نے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کا نام تو سنا ہوگا؟اُن کے دور میں سہسر ام کا ا یک فرد شیر شاہ سوری تھا۔
بچوکیا آپ بتا سکتے ہیں کہ شیر شاہ سوری کا اصل نام کیا ہے ؟“مس سحرش نے اچانک پوچھا۔
سب بچے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔ابو بکر اُٹھا اور کہا؛”مس اُن کا نام فرید خان تھا“۔
”تمہیں کیسے پتہ چلا؟“مس نے پوچھا۔

اصل میں میرے پاپا کو کتابیں پڑھنے کا شوق ہے کوئی نام واقعہ اچھی بات ہوتو وہ سب کے ساتھ شےئر کرتے ہیں ،اُنہوں نے پورا واقعہ سنا یا تھا جو آپ سنانے لگی ہیں ۔
اچھا پھر تم اِدھر آؤ اور بچو کو سناؤ ۔ابو بکر اُٹھا اعتماد کے ساتھ ٹیبل کے پاس جا کر کھڑا ہوا اور کہا کہ شیر شاہ سوری ایک طاقتور اور بہادر سپاہی تھا۔
ظہیر الدین بابر نے اُسے اپنے محل میں دعوت پر بلایا اور کھانے کے وقت اپنے ساتھ بٹھایایہ اعزاز ہوتا ہے جو بادشاہ اکثر اپنے بہادر سپاہیوں سپہ سالا روں کو دیتے ہیں ۔شیر شاہ سوری نے کھانے کے دوران دیکھا کہ اُس کی پسندیدہ ڈش ظہیر الدین بابر کے سامنے رکھی ہے ۔
ہرن کی ران تھی ۔اُس نے کسی سے نہیں مانگی وہ خوداُٹھا اور بادشاہ کے سامنے سے وہ ڈش اٹھائی اوراپنے سامنے رکھا خنجر نکالا اور اس سے بوٹیاں کرکے مزے سے کھانے لگا۔
ویری نائس ! بچو کلیپنگ ہوجائے اور ابوبکر کیلئے اِسکے بعد بابر اپنے بیٹے سے کچھ کہا تھا وہ میں بتا دیتی ہوں ۔

بابر نے کہا؛”بیٹا اِس شخص سے محتاط رہنا جو بادشاہ کے سامنے دستر خوان سے اپنی مرضی کی ڈش اُٹھا سکتا ہے وہ یقینا بے باک اور بہادر ہوگا ورنہ بادشاہ کے سا تھ کھانے والے اکثر نگاہ تک نہیں اُٹھاتے چہ جائیکہ ڈش اُٹھائی اور خنجر نکال کر کھانا تو بغاوت ہوتی ہے بعد میں بات سچ ثابت ہوئی شیر شاہ نے ہمایوں کو شکست دی ا۔
اِسی جھجھک شرم کو دور کرنے کیلئے یہ محفل سجائی جاتی ہے ۔
سب سے پہلے تلاوت قرآن پاک حافظ گو ہر‘نعت شریف کیلئے مبشر بھائی اور اِس کے بعد ․․․․․․․
یوں یکے بعد دیگر ے بہت سے بچوں نے حصہ لیا۔ہر چہرہ خوش تھا ،بچوں میں جوش وخروش تھا مگر وقت کی قلت کے پیش نظر کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ بچوں نے حصہ لیا۔

مس سحرش نے کہا؛”انشاء اللہ تعالیٰ اگلے ویک اینڈ پر باقی بچوں سے بھی بہت کچھ سنیں گے ۔بہت سے بچے اٹھے اور کہا؛مس جی میرا نام لکھیں مس جی میرا نام تلاوت ‘نعت شریف ‘نظم ‘آپ فکر نہ کریں آج کچھ وقت بزم ادب کی اہمیت پر صرف ہوا وہ آئندہ نہیں ہوگااِس سے اور بچوں کوبھی موقعہ ملے گا۔

Your Thoughts and Comments