Qeemti Tohfa

قیمتی تحفہ

کچھ دنوں سے علی کارویہ عجیب سا ہو گیا تھا ۔اس سے پہلے وہ ا چھا بھلا تھا۔ایک دن ٹی وی خبریں لگی ہوئی تھیں اور وہ بیٹھا اسکول کا کام کررہا تھا۔”

بدھ اکتوبر

qeemti tohfa

کچھ دنوں سے علی کارویہ عجیب سا ہو گیا تھا ۔اس سے پہلے وہ ا چھا بھلا تھا۔ایک دن ٹی وی خبریں لگی ہوئی تھیں اور وہ بیٹھا اسکول کا کام کررہا تھا۔”
”ہونہ ہو ،ٹی وی پر کوئی خبر ایسی آئی ہے ،جس نے علی کے ذہن پر اثر کیا ہے ۔“جاوید صاحب کے ذہن میں یہ خیال بجلی کی سی تیزی سے آیا تھا ۔

انھوں نے فوراََ اہلیہ سے اظہارِ خیال کیا تو وہ بھی یک دم متفق ہو گئیں :”ہاں واقعی ،اسی وقت سے وہ پریشان ہے ؟“
”میرے ایک دوست ماہرِ نفسیات ہیں ۔خصوصاََبچوں کے مسائل کے ماہر ہیں ۔میرا خیال ہے ان سے بات کروں ؟“جاوید صاحب نے کچھ سوچنے ہوئے کہا۔

”علی کے ذہن پر بُرا اثر نہ پڑے ،ساتوے جماعت میں ہے۔کافی سمجھ دار ہے ،دیکھ لیجیے گا۔“
جاوید صاحب نے اپنی اہلیہ کی تشویش کو محسوس کر لیا،مگر وہ علی کو اپنے دوست سے ملوانے کے بہانے لے گئے ۔

(جاری ہے)


وہ اپنے دوست سے سارا ماحول پہلے ہی کہہ چکے تھے ۔

ڈاکٹر صاحب نے غیر محسوس طریقے سے اس کے مسئلے پر بات کی اور جلد ہی اندازہ لگا لیا کہ وہ کسی بات کی وجہ سے پریشان ہے ،مگر اپنی پریشانی کسی کو بتانا نہیں چاہتا۔
ڈاکٹر نے اس صورتِ حال سے جاوید صاحب کو آگاہ کر دیا اورمشورہ دیا کہ اس کا کوئی دوست ہے تو اس سے مدد لیں۔
علی کا سب سے بہترین دوست سلیم تھا ،مگر اس سے کیسے بات کی جائے ،یہ بھی ایک مسئلہ تھا ۔و ہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی وجہ سے علی کو پریشانی ہو۔
علی اب گم سم رہنے لگا تھا ۔اس کی صحت تیزی سے گررہی تھی ۔کبھی کبھار وہ اپنی امی کو غور سے دیکھتا رہتا ،وہ اس کی جانب دیکھتیں تو وہ دوسری جانب دیکھنے لگتا ۔

ایک دن جاوید صاحب اسے اس کی پسندیدہ آئس کریم شاپ پر لے گئے اور باتوں باتوں میں کہا کہ اگر وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہے تو وہ بتائے ،تاکہ اس کی اُلجھن دور کی جا سکے،مگر اس نے انکار کر دیا کہ کوئی مسئلہ ہے ۔
علی کی امی نے غور کیا تو ایک بات عجیب لگی کہ جب باورچی خانے میں کچھ پکاتی ہیں تو علی ان کے پاس آکر بیٹھ جاتا ہے ۔
انھوں نے یہ بات ڈاکٹر صاحب کو بتائی۔ڈاکٹر صاحب نے کچھ سوچ کر پچھلے دنوں کی خبریں انٹرنیٹ سے نکال کر سنیں ،مگر کسی نتیجے پر پہنچ سکے ۔وہ اتوار کا دن تھا۔علی آج اُٹھا تو بہت مطمئن لگ رہا تھا ۔جیسے وہ کسی پریشان کن مسئلے سے باہر آگیا ہو۔
آج اس نے بھر پور ناشتا کیا۔جاوید صاحب دوڑ لگانے گئے ہوئے تھے ،وہ بھی لوٹ آئے۔تب علی صاحب کو مخاطب کیا:”پپا! میں اگر مماکو ایک تحفہ دوں تو آپ انھیں لینے دیں گے؟“
جاوید صاحب نے حیرت سے اس کی طرف دیکھااور بولے :”ہاں ۔

اس کی امی بھی قریب بیٹھ گئیں ۔علی اپنی امی کی طرف مڑکر بولا:”اور امی! اگرمیں کچن میں ایک کھونٹی لگادوں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا؟“
”نہیں ،بالکل بھی نہیں ،مگر کیوں ؟“وہ فوراََ بولیں ۔
”آئیے ،پہلے کھونٹی لگا تے ہیں ۔
“علی نے اپنی جیب سے ایک کھونٹی نکالی،پھر ہتھوڑی لینے اسٹور میں چلا گیا۔
جاوید صاحب اور ا ن کی اہلیہ ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔دوسرے لمحے وہ لوٹ آیا۔تینوں اِکٹھے ہو کر باورچی خانے میں پہنچے ۔جاوید صاحب نے علی کی بتائی ہوئی جگہ پر کھونٹی لگادی۔

علی کے چہرے پر اطمینان کے تاثرات تھے۔
امی نے آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چوما اور پوچھا:’یہ کیا ہے ؟“
جاوید صاحب بھی خاموشی سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے ۔
علی نے سر ہلایا اور بولا:”پہلے میں آپ کوتحفہ دے لوں ۔
“یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں گیا،ایک لفافہ لا کر اپنی امی کو دیا۔
لفافہ کھولا تواندر سے ایک چھوٹا سادوپٹا برآمد ہوا۔وہ ہنس پڑیں ،کیوں کہ د و پٹا بہت چھوٹا تھا ۔
”اس کو میں اوڑھوں ،یہ چھوٹا نہیں ہے ؟“آخر انھوں نے پوچھ لیا۔

علی مسکرایا اور بولا:”آپ اسے ضرور اوڑھیں ،مگر اس وقت جب آپ چولھے کےآ گے کام کر رہی ہوں ،تب آپ کا بڑا دوپٹا یا چادر اس کھونٹی پر ٹنگی رہے گی۔“
”اور اس سے کیا ہوگا؟“جاوید صاحب نے اُلجھن آمیز انداز میں پوچھا۔

اس سے یہ ہو گا کہ مماکو کچن میں کبھی آگ لگنے کے خطرے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔“علی نے جذباتی لہجے میں کہا:”گھروں میں آگ سے جلنے کے جتنے واقعات رونماہوتے ہیں ،ان میں سے اکثر کی وجہ یہی دوپٹا ہوتا ہے ۔اب ایک کھونٹی لگا دی ہے ،یہ چھوٹا دوپٹاوہاں ہر وقت رہے گا ،جب آپ کھانا بنارہی ہوں گی تو اپنا دوپٹا وہاں رکھ کر یہ دوپٹا اوڑھ لیں گی۔

اب انھیں یاد آگیا کہ اس دن ایک عورت کے جل جانے کی خبر ٹی وی پر دکھائی گئی تھی ۔اب علی کا مسئلہ واضح ہو گیا تھا اور اس نے خود ہی اس کا حل بھی نکال لیا تھا۔
”آج کے بچے تو ایسے ہی حساس ہوتے ہیں ۔ہمیں تو اس بات کا احساس ہی نہیں تھا۔
“جاوید صاحب نے تعریفی نظروں سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”اور کوئی بچہ اپنی ماں کو اس سے زیادہ قیمتی اور خوب صورت تحفہ نہیں دے سکتا۔“امی نے علی کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔
آخر بیٹا کس کا ہے ۔“جاوید صاحب فخر یہ انداز میں بولے اور پھر تینوں مسکرانے لگے۔

Your Thoughts and Comments