Qissa Aik Bheriye Ka - Article No. 1759

قصہ ایک بھیڑیے کا

میرے لئے تو آزادی ہی سب سے بڑی نعمت ہے ۔

بدھ جولائی

Qissa aik bheriye ka
ڈاکٹر جمیل جالبی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ چاندنی رات میں ایک دبلے پتلے،سوکھے مارے بھوکے بھیڑیے کی ایک خوب کھائے پیئے،موٹے تازے کتے سے ملاقات ہوئی۔دعا سلام کے بعد بھیڑیے نے اس سے پوچھا،”اے دوست !تُو تو خوب تروتازہ دکھائی دیتاہے۔
سچ کہتا ہوں کہ میں نے تجھ سے زیادہ موٹا تازہ جانور آج تک نہیں دیکھا۔بھائی!یہ تو بتا کہ اس کا کیا راز ہے؟میں تجھ سے دس گنا زیادہ محنت کرتا ہوں اور اس کے باوجود بھوکا مرتا ہوں۔“
کتا یہ سن کر خوش ہوا اور اس نے بے نیازی سے جواب دیا،”اے دوست!اگر تو بھی میری طرح کرے تو مجھے یقین ہے کہ تو بھی میری طرح خوش رہے گا۔

بھیڑیے نے پوچھا،”بھائی!جلدی بتا،وہ بات کیا ہے؟“
کتے نے جواب دیا،”تو بھی میری طرح رات کو گھر کی چوکیداری کر اور چوروں کو گھر میں نہ گھسنے دے۔

(جاری ہے)

بس یہی کام ہے۔“
بھیڑیے نے کہا،”بھائی!میں دل وجان سے یہ کام کروں گا۔

اس وقت میری حالت بہت تنگ ہے۔میں ہر روز کھانے کی تلاش میں سارے جنگل میں حیران وپریشان مارا مارا پھرتا ہوں۔بارش،پالے اور برف باری کے صدمے اٹھاتا ہوں،پھر بھی پیٹ پوری طرح نہیں بھرتا۔اگر تیری طرح مجھے بھی گرم گھر رہنے کو اور پیٹ بھر کھانے کو ملے تو میرے لئے اس سے بہترکیا بات ہے۔

کتے نے کہا،”یہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں ،سچ ہے۔اب تو فکر مت کر۔بس میرے ساتھ چل۔“
یہ سن کر بھیڑیا کتے کے ساتھ ساتھ چل دیا۔ابھی وہ کچھ دور ہی گئے تھے کہ بھیڑیے کی نظر کتے کے گلے پر پڑے ہوئے اس نشان پر پڑی جو گلے کے پٹے سے پڑ گیا تھا۔
بھیڑیے نے پوچھا،”اے دوست!تیرے گلے کے چاروں طرف یہ کیا نشان ہے؟“
کتے نے کہا،”کچھ نہیں۔“
بھیڑیے نے پھر کہا،”اے دوست!بتا تو سہی یہ کیا نشان ہے؟“
کتے نے دوبارہ پوچھنے پر جواب دیا،”اگر تو اصرار کرتا ہے تو سن،میں چونکہ درندہ صفت ہوں۔
دن کو میرے گلے میں پٹا ڈال کر وہ باندھ دیتے ہیں تاکہ میں سور ہوں اور کسی کو نہ کاٹوں اور رات کو پٹا کھول کر چھوڑ دیتے ہیں تاکہ میں چوکیداری کروں اور جدھر میرا دل چاہے جاؤں۔رات کو کھانے کے بعد میرا مالک میرے لئے ہڈیوں اور گوشت سے تیار کیا ہوا راتب میرے سامنے ڈالتا ہے اور بچوں سے جو کھانا بچ جاتا ہے،وہ سب بھی میرے سامنے ڈال دیتا ہے۔
گھر کا ہر آدمی مجھ سے پیار کرتا ہے۔جمع خاطر رکھ ،یہی سلوک ،جو میرے ساتھ کیا جاتا ہے،وہی تیرے ساتھ ہو گا۔“
یہ سن کر بھیڑیا رک گیا۔کتے نے کہا،”چلو چلو!کیا سوچتے ہو۔“
بھیڑیے نے کہا،”اے دوست!مجھے تو بس معاف کرو۔
یہ خوشی اور آرام تجھے ہی مبارک ہوں۔میرے لئے تو آزادی ہی سب سے بڑی نعمت ہے ۔جیسا تو نے بتایا اس طرح اگر کوئی مجھے بادشاہ بھی بنا دے تو مجھے قبول نہیں۔“
یہ کہہ کر بھیڑیا پلٹا اور تیزی سے دوڑتا ہوا جنگل کی طرف چل دیا۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Nobel Prize

نوبل پرائز

Nobel Prize

Kachi Basti

کچی بستی

Kachi Basti

Naqal Se Toba

نقل سے توبہ۔۔تحریر:ابوعبدالقدوس محمد یحییٰ

Naqal Se Toba

Wapsi Ka Safar

واپسی کا سفر

Wapsi Ka Safar

Naik Dil Shehzada

نیک دل شہزادہ

Naik Dil Shehzada

Jaddu Ka Button

جادُو کا بٹن

Jaddu Ka Button

Baroo Ka Adab

بڑوں کا ادب

Baroo Ka Adab

Moor Ki Udassi

مور کی اُداسی

Moor Ki Udassi

Main Hoon Mars

میں ہوں مریخ

Main Hoon Mars

Naiki Ka Hassan

نیکی کا حسن

Naiki Ka Hassan

Khoob Khailo Khoob Doro

خوب کھیلو، خوب دوڑو

Khoob Khailo Khoob Doro

Kisan Aur Pari

کسان اور پری

Kisan Aur Pari

Your Thoughts and Comments