Quaid E Azam K Mashgale - Article No. 1597

قائداعظم کے مشغلے

قوموں کی تاریخ میں عظیم شخصیتیں روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔عرصے کے بعد کہیں جا کر کوئی ایسا انسان پیدا ہوتاہے ،جو عظمت کے معیار پر پورا اُتر تا ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح25دسمبر1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔

منگل 10 دسمبر 2019

Quaid e Azam K Mashgale

ظل ہما
قوموں کی تاریخ میں عظیم شخصیتیں روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔عرصے کے بعد کہیں جا کر کوئی ایسا انسان پیدا ہوتاہے ،جو عظمت کے معیار پر پورا اُتر تا ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح25دسمبر1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔

بچپن ہی سے آپ کو مطالعے کا بہت شوق تھا۔وہ پڑھنے کے وقت پڑھتے اور کھیل کے وقت کھیلتے تھے۔انھوں نے کبھی سکول کے کام میں سستی کا مظاہرہ نہیں کیا۔رات گئے تک وہ مطالعے میں مصروف رہتے،مگر دوسروں کے آرام کا بھی خیال رکھتے۔رات کو جب مطالعہ کرتے تو مٹی کے تیل والے لیمپ کے ایک طرف گتا رکھ لیتے،تاکہ گھر کے دوسرے لوگ پریشان نہ ہوں۔
قائد اعظم کو شروع ہی سے دھول مٹی والے کھیلوں سے سخت نفرت تھی،کیونکہ وہ شروع ہی سے صفائی پسند تھے۔کرکٹ کو بہت پسند کرتے تھے۔

(جاری ہے)

وہ جب اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن جانے لگے تو اپنے ایک دوست نانجی جعفر کو اپنی گیند اور بلا دیتے ہوئے کہا:”جب تک میں ملک سے باہر رہوں ،تم محلے کے لڑکوں کو کرکٹ کھیلنے کے لیے ہر شام میدان میں لے جایا کرنا اور جو نئے لڑکے آئیں انھیں تربیت دینا،تاکہ وہ دوسرے گندے کھیلوں سے بچے رہیں۔


جانوروں میں انھیں گھوڑا بہت پسند تھا۔گھوڑے کی فطرت میں خود اعتمادی شامل ہے،اس لیے وہ اسے بہت پسند کرتے تھے اور اکثر اپنے ایک دوست قاسم کے ساتھ گھڑ سواری کرتے تھے۔چونکہ قائداعظم خود بے انتہا خود اعتمادی کے مالک تھے،اس لیے خود اعتماد سواری بہت پسند کرتے تھے۔
گردن جھکا کر جینا ان کے اُصولوں کے خلاف تھا۔
قائد اعظم ڈرامے کے بھی شوقین تھے۔وہ اپنی انتہائی مصروفیات کے دنوں میں بھی اس تفریح کے لیے وقت نکال لیتے تھے۔لندن میں انھوں نے اسٹیج ڈراموں میں بھی حصہ لیناشروع کر دیا۔لندن کے مشہور”شیکسپیئر ڈرامیٹک کلب“میں ان کو اداکاری کا پیشہ باقاعدہ طور پر اختیار کرنے کی دعوت دی گئی،مگر انھوں نے معذرت کرلی،کیونکہ وہ ہال میں موجود چند سو انسانوں کی بجائے دنیا کے کروڑوں انسانوں کو متاثر کرنا چاہتے تھے۔
قائد اعظم آپ بلیئرڈ کے کھیل میں بھی کافی مہارت رکھتے تھے۔جن دنوں وہ بمبئی میں وکالت کرتے تھے،شام کو دفاع ہوتے تو ایک دو بلیئرڈ کلبوں میں جایا کرتے تھے۔ان کا شمار بلیئرڈ کے اچھے کھلاڑیوں میں ہوتا تھا۔قائد اعظم نے ایک مرتبہ اپنے ایک دوست سے کہا:”سیاست اور بلیئرڈ،اس لحاظ سے ملتے جلتے ہیں کہ دونوں میں سوچ سمجھ کر اسٹروک لگانا پڑتاہے۔

قائداعظم بمبئی میں ہوتے یادہلی میں ،دن بھر کی مصروفیات کے بعد شام کو اپنے بنگلے کے لان میں چہل قدمی ضرور کرتے۔دل چاہتا تو سمندر کے کنارے ہواخوری کے لیے چلے جاتے۔شروع میں انھیں گھوڑ دوڑ کا بھی شوق رہا۔بعد میں دوسرے کاموں میں لگ کر اسے جاری نہ رکھ سکے۔
گھڑ سواری کا شوق انھیں ہمیشہ رہا۔وہ گولف بھی کھیلتے تھے۔گورنر جنرل بننے کے بعد بھی گولف کھیلنے کا شوق رہا اور کھیلتے بھی رہے۔
قائد اعظم کو مطالعے کا بے حد شوق تھا۔کتب بینی اور اخبار بینی آپ کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔روزانہ اخبارات کا مطالعہ کرتے۔
ایک مشہور تبصرہ نگارنے ایک مرتبہ ان کے بارے میں لکھا:”وہ ایک ایسے لیڈر ہیں،جس کی تمام تر فراست ان معلومات پر مبنی ہے،جو انھیں روزانہ اخبارات کے وسیع مطالعے سے حاصل ہوئی ہیں۔“
قانون اور سیاست میں ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔
انگلستان اور امریکا کے راہنماؤں اور مشہور لوگوں کی زندگیاں اور ان کی ولولہ انگیز تقریریں بھی آپ کے زیر مطالعہ رہیں۔انھیں تاریخی ،سیاسی کتب،سوانح حیات اور ڈراموں سے خاص لگاؤ تھا۔قائد اعظم کو مختلف زبانیں سیکھنے کابھی بہت شوق تھا۔
انگریزی میں وہ ماہر تھے ۔اس کے باوجود اردو سے انھیں خاص لگاؤ تھا۔اردو میں تقریر کرنا پسند کرتے تھے۔قائد اعظم کی عمر کا بیشتر حصہ سیاسی جدوجہد میں گزرا،اس لیے دوسرے تفریحی مشاغل کی طرف خاص توجہ دینے کے لیے وقت نہ مل سکا۔
انھیں قدرتی مناظر سے بھی خاصی دلچسپی تھی۔کشمیر جاتے تو شام کے وقت شکاریوں میں جا بیٹھتے۔سیر سے لطف اندوز ہونے کے لیے خوب صورت وادیوں میں گھومتے۔قرآن مجید کا مطالعہ انھوں نے انگریزی زبانوں میں کیا۔ہندوستانی سیاسیات پر ملکی اور غیر ملکی کتابیں وہ ضرور پڑھتے۔
1945ء میں ان کی توجہ اورنگ زیب کی زندگی پر مرکوز تھی۔
اسی سال مشہور مغربی شاعروں کا کلام بھی ان کے زیرمطالعہ رہا۔انھیں فارغ اوقات میں سکے جمع کرنے اور اخبارات کے تراشے البم میں محفوظ کرنے کا شوق بھی تھا۔1913ء میں مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔
مسلم لیگ میں شامل ہو کر انھوں نے ہندو اور انگریز دونوں کو مات دے دی اور ملک کی آزادی کے لیے انھیں مجبور کر دیا۔14اگست1947ء کو پاکستان ایک آزاد ملک بن گیا۔اسی دن انھوں نے گورنر جنرل پاکستان کے عہدے کا حلف اُٹھایا۔ابھی یہ ملک اپنی کمزور ٹانگوں پر کھڑا بھی نہ ہو پایا تھا کہ قائداعظم 11ستمبر1948ء کو اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Gumnaam Dost

گمنام دوست

Gumnaam Dost

Purana Sikkah

پرانا سکہ

Purana Sikkah

Khatarnak Jungle

خطرناک جنگل

Khatarnak Jungle

Mehnat Ki Kamai

محنت کی کمائی

Mehnat Ki Kamai

Sher Ka Anjaam

شیر کا انجام

Sher Ka Anjaam

Farzi Dawat

فرضی دعوت

Farzi Dawat

Namkin Lemo

نمکین لیموں

Namkin Lemo

Matlab Parast

مطلب پرست

Matlab Parast

Maimnay Ka Bhai

میمنے کا بھائی

Maimnay Ka Bhai

Hadsa

حادثہ

Hadsa

Khata Ka Putla

خطا کا پُتلا

Khata Ka Putla

Asaal Roop

اصل روپ

Asaal Roop

Your Thoughts and Comments