Sabaq

Sabaq

سبق

جنگل کے باہر تالاب کے کنارے سوکھی جھاڑیوں میں دو بطخیں نِر اور پمپل رہتی تھی۔ نِر کے پنکھ سفید تھے۔

جاوید اقبال:
جنگل کے باہر تالاب کے کنارے سوکھی جھاڑیوں میں دو بطخیں نِر اور پمپل رہتی تھی۔ نِر کے پنکھ سفید تھے۔ جبکہ پمپل کے خاکستری ۔ نِر بہت سمجھ دار، عقل مند اور ذمے دار بطخ تھی جب کہ پمپل ایک بے پروا اور بے وقوف بطخ تھی۔

ایک دن نِر نے سوچا ہمارا بھی ایک گھر ہونا چاہیے گھر کے نہ ہونے سے ہمیں کتنی مصیبتیں اُٹھانی پڑتی ہیں۔ جب برسات ہوتی ہے تو ہم بارش میں بھیگ جاتی ہیں۔ جاڑوں میں سردی سے ٹھٹھرتی ہیں۔ گرمیوں میں ہمیں دھوپ جَلاتی ہے۔ ہر وقت بڑے جانوروں کے حملے کا خطرہ رہتا ہے۔
ہمارا گھر بن جائے گا تو ہم موسموں کی سختیوں اور جانوروں کے خطرے سے محفوظ ہو جائیں گے۔
اس نے اپنا یہ خیال پمپل کو بتایا اور اس سے کہا: ”آپمپل ! گھر بنانے میں میرا ساتھ دو۔

(جاری ہے)

تم تنکے اور سوکھی جھاڑیاں مجھے پکڑاتی جانا میں انھیں جوڑتی جاوں گی۔

یوں ہمارا خوب صورت سا گھر بن جائے گا۔“
پمپل بولی:” نا بابا نا ، مجھ سے یہ کام نہیں ہوتا۔ تم گھر بنانے کا خیال چھوڑو، یہ بڑا مشکل کا م ہے۔ اس سے اچھا ہے ہم کسی بنے بنائے گھر پر قبضہ کرلیں۔ یوں ہینگ لگے گی نہ پھٹکری اور ہمیں گھر بھی مل جائے گا۔

نرِ نے کہا:” لویوں بھی کبھی ہوا ہے ۔کسی کا گھر بھلا ہمیں کیسے مل جائے گا۔“
”ملے گا کیوں نہیں۔“ پمپل نے چہک کر کہا۔ ”کیتھی مرغی نے جنگل کی ڈھلان پر اتنا خوب صورت گھر بنایا ہے ہم اسے وہاں سے نکال کے اس کے گھر پر قبضہ کر لیں گے۔
نہیں تو ببلو خرگوش نے جو برگدکی کھو میں گھر بنایا ہوا ہے اس سے چھین لیں گے۔“
نرِ نے کہا :” نہیں پمپل ! یہ اچھی بات نہیں کسی کی محنت سے بنائی ہوئی چیز پہ ہم قبضہ کیوں کریں۔ اپنا گھر ہماری ضرورت ہے ہم خود اپنی محنت سے بنائیں گے۔

پمپل بولی:” تو پھر تم اکیلی گھر بنا لو، مجھے تو سخت بھوک لگی ہوئی ہے میں کچھ کھانے کے لئے جنگل جا رہی ہوں۔“
وہ نر کو وہیں چھوڑ کے جنگل کی طرف چل پڑی۔ نِر حیرانی سے اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔ پمپل کے رویے سے اسے بہت دکھ ہوا تھا۔
پھر اس نے فیصلہ کیا کہ میں خود ہی ہمت کرتی ہوں۔ ہو سوکھی جھاڑیوں اور تنکے اکھٹے کرنے لگی۔ وہ ایک تنکا اُٹھا کے لاتی اسے سلیقے سے جوڑتی پرھ ایک خشک جھاڑی لا کے اس سے تنکے کے ساتھ جوڑ دیتی۔ یوں ایک ایک تنکے سے گھر بننا شروع ہو گیا۔
نر شام تک اپنے کام میں لگی رہی۔ شام تک ایک خوب صورت گھر تو بن گیا مگر نر تھک کر چُور چُور ہو گئی۔ شام کو پمپل جنگ سے واپس آئی تو گھر تیار دیکھ کر حیران رہ گی۔ وہ اس بنے بنائے گے میں حصے دار بن گئی ۔ نر نے اسے کچھ نہ کہا۔ وہ تھکی ہوئی تھی چپکے سے سو گی۔

نِر کے اس اچھے رویے پر بھی پمپل نے اپنے طور طریقے نہ بدلے۔ وہ ویسے ہی بے پروااور بد سلیقہ رہی ۔ سارا دن وہ ادھر اُدھر پھرتی رہتی۔ شام کو تالاب کے کیچڑ میں لت پت گھر لوٹ آتی۔ کبھی جانوروں سے لڑ پڑتی۔ اپنے انڈے بھی سنبھال کے نہ رکھتی ۔
جنگل جاتی تو وہیں انڈا چھوڑ آتی۔ کبھی تالاب کے کنارے انڈا دے دیتی اور کوے اس کے انڈے توڑ کے کھا جاتے۔ کبھی قصبے سے آنے والے لڑکے انڈے اُٹھا کر لے جاتے۔ نِر اگر اسے سمجھاتی تو وہ اس کی بات ایک کان سے سنتی دوسرے کان سے نکال دیتی۔

دن یونہی گزرتے گے۔ ایک شام نِر اور پمپل تالاب کے کنارے اپنے پر سکھا رہی تھیں کہ اُوپر سے انھیں ایک چمکتی ہوئی چیز اپنی طرف آتی نظر آئی۔ پمپل نے اسے دیکھ کر نِر سے کہا:” نِر ! وہ دیکھو ایک ستارہ زمین پر اتر رہا ہے۔ میں اسے پکڑ کر لاتی ہوں پھر ہم اسے اپنے گھر لے جائیں گئے۔
اس چمکتے ستارے سے ہمارا گھر رات کو بھی روشن رہا کرے گا۔“
یہ کہہ کر اس چمکتی ہوئی چیز کے پیچھے بھاگی۔ نِر نے چِلا کر کہا:” رک جاوٴ پمپل ! یہ ستارا نہیں ہے بھلا کبھی ستارے بھی زمین پر اترے ہیں۔ یہ توکوئی جگنو ہے۔“
مگرپمپل نے اس کی بات نہ سنی اور نِر پکارتی رہ گئی۔

یہ چمکتی ہوئی چیز جس کے پیچھے پمپل بھاگی تھی واقعی جگنو تھا۔ جگنو روشنی بکھیرتا جنگل کی طرف جا رہا تھا۔ پمپل چونچ کھولے اس کے پیچھے بھاگی چلی جا رہی تھی۔ جنگل میں پہنچ کر جگنو تو جھاڑیوں اور درختوں کی اوٹ میں نظروں سے اوجھل ہو گیا اور پمپل اندھیرے سے بھٹکتی رہ گئی۔

کچھ دیر تو وہ جگنو کو ڈھونڈتی رہی پھر مایوس ہو کر واپس لوٹنے لگی تو راستہ بھول گئی۔ اتنے میں آسمان پر بادل گر جنے لگے اور پھر ٹپ ٹپ بوندیں گرنے لگیں۔ اب تو پمپل بہت گھبرائی۔ وہ پاگلوں کی طرح ادھر اُدھر بھاگنے لگی۔ بارش تیز ہو گئی۔
بارش کے پانی سے جگہ جگہ کیچڑ ہو گیا تھا۔ پمپل کے پاوٴں کیچڑ میں دھنسنے لگے ۔ اچانک بارش کی بوچھاڑ تیز ہوگی اور ہوا بھی تیزی سے چلنے گی۔ اس قدر تیز طوفان نے سب کچھ اُلٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ درختوں کی شاخیں ٹو ٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں۔
پمپل ہوا کے تیز جھونکوں سے کبھی ادھر گرتی کبھی اُدھر ۔ وہ اندھیرے میں بھٹکتی ہوئی دلدل میں جا پھنسی۔
اِدھر نِر ساری رات ڈرتی رہی کہ کہیں پمپل بارش کے پانی میں بہہ کر جھیل میں نہ جا گرے یا دلدل میں نہ جا پھنسے۔ وہ دعائیں مانگتی رہی کہ خدا یا پمپل خیریت سے لوٹ آئے۔
دعائیں مانگتے مانگتے اس کی آنکھ لگ گئی۔ صبح وہ اٹھی تو ہر طرف روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ بارش رک گئی تھی۔ وہ گھر سے نکلی اور پمپل کی تلاش میں چل پڑی۔ جگہ جگہ بارش کا پانی کھڑا تھا۔ وہ کیچڑ اور پانی میں چلتی ہوئی جھیل کی طرف جا نکلی ۔
نِر نے ہر طرف اسے ڈھونڈا مگر پمپل کا کچھ پتا نہ چلا۔ اس نے جھیل کے کنارے بڑے پتھروں کے پیچھے جھانکا جنگل کی ساری جھاڑیاں چھان ماریں مگر پمپل اسے کہیں نظر نہ آئی۔ وہ ڈھونڈتی ڈھونڈتی دلدل کی طرف آنکلی۔ اچانک اس کی نظر کیچڑ میں کسی چمکتی ہوئی چیز پر پڑی جب وہ قریب گئی تو دیکھا پمپل کیچڑ میں گری پڑی تھی۔
اسے بے حِس و حرکت دیکھ کر پہلے تو نِر سمجھی کہ شاید پمپل مر گئی ہے مگر پھر سانس لینے سے اس کا پر ہلا تو نِر کی جان میں جان ائی ۔ اس نے اگے بڑھ کر پمپل کو سیدھا کیا اس کے پَروں سے کیچڑ صاف کی پھر کہیں پمپل نے آنکھ کھولی۔
نِر کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگے۔
نِ اسے سہارا دے کر گھر لے آئی۔ گھر آکر پمپل بیمار ہو گئی۔ نِر اس کی تیمارداری کرتی رہی۔ ایک ہفتے بعد پمپل ٹھیک ہو گئی۔
پمپل اب بہت بدل گئی ہے۔ نِر کی بات نہ مان کر اس نے جو تکلیف اُٹھائی تھی اس سے پمپل نے کافی سبق حاصل کیا۔ اب وہ نِر کی ہر بات مانتی ہے۔ جنگل میں اسے کوئی جانور ملتا ہے تو وہ اس سے کہتی ہے :”پیارے دوست ! ستارے زمین پر نہیں اترتے اور ستاروں سے قیمتی وہ دوست ہوتاہے جو مشکل وقت میں آپ کے کام آتا ہے۔“

Your Thoughts and Comments