Sacha Khazana - Article No. 1505

سچا خزانہ

ہارون کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کھانستے ہوئے رک رک کر بولے”میں نے جو کیا ہے تمہارے اچھے کے لئے کیا ہے ۔سفر کے اختتام پر تمہیں سفر طویل نہیں لگے گا۔میری وصیت کالے بستے میں پڑی ہے۔اس کا سہرا لینا ۔منزل مل جائے گی۔“

پیر اگست

Sacha Khazana
مریم جہانگیر
سالہا سال پرانی بات ہے۔مصر کے ایک کم آبادی والے علاقے میں ایک کم عمر لڑکا ہارون اپنے دادا شفیع الدین کے ساتھ رہتا تھا۔چھوٹی سی جھونپڑی جس کے باہر ایک طرف گدھا باندھا ہوتا تھا اور دوسری طرف سبزیاں کاشت کی جاتی تھی۔
ہارون کے دادا کافی ضعیف انسان تھے۔ایک رات نیند میں انہیں شدید کھانسی کا دورہ پڑا۔ہارون حساس طبیعت کا مالک تھا۔نیند سے جاگ گیا اور اپنے دادا کا سینہ ملنے لگا۔شفیع الدین نے اُس کے چھوٹے ہاتھوں کا سہارالیا اور بیٹھ گیا۔

ہارون کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کھانستے ہوئے رک رک کر بولے”میں نے جو کیا ہے تمہارے اچھے کے لئے کیا ہے ۔سفر کے اختتام پر تمہیں سفر طویل نہیں لگے گا۔میری وصیت کالے بستے میں پڑی ہے۔

(جاری ہے)

اس کا سہرا لینا ۔منزل مل جائے گی۔

“انہوں نے کھونٹی پر لگے بستے کی طر ف اشارہ کیا اور اس کے بعد مسلسل کھانسی نے انہیں جینے نہ دیا۔
اپنے دادا کی تدفین کے بعد ہارون کو کالے بستے کا خیال آیا۔اس نے کا لابستہ کھولا۔اُس میں ایک چھتری ،بہت سے پتھر اور لکڑی کے مختلف سائز کے ٹکڑے پڑے تھے۔
وہ حیران ہوا یہ کسی وصیت ہے۔پھر اُس نے الٹ پلٹ کربیگ کا جائزہ لیا۔بیگ کے ایک طرف ایک چھوٹی سی زپ تھی۔اُس نے اُسے کھولا تو صفحے پر بہت خوبصورت لکھائی میں درج تھا کہ :
”سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”اے لڑکے!اللہ کا دھیان رکھ!وہ تیرادھیان رکھے گا۔اللہ کا دھیان رکھ!تو اُسے اپنے سامنے پائے گا۔اور جب سوال کرے تو فقط اللہ سے سوال کر اور جب مدد مانگوتو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ اور جان لے کہ ساری دنیا اس بات پر جمع ہو جائے کہ تجھے کوئی فائدہ پہنچائیں تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔
مگر جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اور اگر وہ جمع ہو جائیں کے تجھے کوئی نقصان پہنچائیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔مگر جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے،قلم خشک ہو گئے اور صحیفے لپیٹ دئیے گئے۔“(ترمذی کتاب صفت القیامة2516،مسنداحمد:2673)
ہارون نے سب چیزیں واپس بستے میں ڈالی اور جھونپڑی سے باہر نکل کر چل پڑا۔
کچھ خشک میوہ جات اُس نے اپنی جیب میں بھر لیئے تھے۔انہیں کھاتا رہا اور چلتا رہا۔چلتے چلتے رات پڑ گئی اور اندھیرا گہرا ہو گیا۔بارش شدید طوفان کے ساتھ یکایک آئی اور سارے منظر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ہارون ایک بڑے سے درخت کی جڑوں میں بیٹھ گیا لیکن بارش اپنی سمتیں بدل رہی تھی۔
اُس نے چٹکی بجائی اور بستے میں سے چھتری نکالی۔لیکن یہ کیا․․․․․طوفان نے شدت اختیار کرلی اور اُس کی چھتری اُس سے کہیں دور جاپڑی۔اُس لڑکے کے دماغ میں گھنٹیاں بجنے لگیں۔وہ خود سے مخاطب ہوا”ہارون تم نے کیا غلطی کی ہے جو پھنس گئے ہو؟“مگر جواب نہ ملا۔
بادلوں کی گڑ گڑاہٹ اور بجلی کی چمک نے اُس کے اوسان خطا کر دئیے۔”دادا کے زندہ ہوتے میں اُن سے مشورہ لیتا تھا۔اب کیا کروں اور کس سے پوچھوں؟“
وہ خود سوال کر رہا تھا”ہاں!دادا جان نے جو وصیت کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ لکھ کر دی ہے،اُس سے ضرور کوئی نہ کوئی راستہ نکلے گا۔

اب کے جب بجلی کڑکی تو ہارون نے دوبارہ حدیث مبارکہ کو پڑھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو آنے لگے”اے لڑکے!اللہ کا دھیان رکھ!وہ تیرا دھیان رکھے گا۔اللہ کا دھیان رکھ“یہ دادا ابو نے سمجھا یا تھا کہ اللہ کا دھیان کیسے رکھا جاتا ہے۔
بہترین طریقہ ہے کہ نماز پڑھ کر ۔نماز اللہ کی یاد ہے۔اللہ سے ملاقات ہے اور وہ صبح سے اس وقت تک نماز کو بالکل بھلائے ہوئے تھا۔اس نے اللہ تعالیٰ کا دھیان نہیں رکھا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اُس کا دھیان نہیں رکھا۔اُس نے تھوڑی دیر سوچا ۔
پھر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور چھتری اٹھا کر لایا۔زمین پر تھوڑی سی جگہ چھتری کے لوہے والے سرے سے کھودی اور اردگرد پتھر رکھ دئیے۔دیکھتے ہی دیکھتے پانی جمع ہو گیا۔ہارون نے وضو کیا اور صبح سے ابھی تک کی ساری نمازوں کی قضا پڑھنے لگا۔
نماز پڑھ کر جب سلام پھیرا تو طوفان تھم چکا تھا۔اُس نے شکرانے کیلئے ہاتھ اٹھائے اور وہیں میٹھی نیند نے اُسے آلیا اور وہ سو گیا۔
اگلی صبح کسی نے زور سے ہارون کا کندھا ہلایا اور آنکھیں ملتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔یہ چھوٹا سا قافلہ تھا۔
ایک درمیانی عمر کے انکل،اُن کے ساتھ اُن کی بیوی اور دو بیٹیاں۔بڑی لڑکی ہارون سے تین چار سال چھوٹی تھی اور چھوٹی بیٹی کو اُن انکل کی زوجہ نے اٹھا رکھا تھا۔
”یہاں کیوں پڑے ہوئے ہو؟“انکل نے پوچھا۔“وہ میں شہر کی طرف جانا چاہتا ہوں۔
اپنے دادا کے ساتھ رہتا تھا،اُن کا انتقال ہو گیا ہے۔وہ شہر کا بہت تذکرہ کرتے تھے۔“ہارون نے جواب دیا۔دادا کو یاد کرتے ہی اُس کی آنکھوں میں نمی سی آگئی تھی۔”آؤ ہمارے ساتھ چلو۔“اُس آدمی نے ہارون کے کندھے کو سختی سے دباتے ہوئے کہا۔
ان کے انداز میں عجیب سی حاکمیت تھی۔اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہ تھا۔لہٰذا ہارون اُن کے پیچھے پیچھے چل دیا۔گھر سے لائے ہوئے خشک میوہ جات کہیں راستے میں ہی گر گئے تھے۔یا شاید کل رات کی بارش نے انہیں بہادیا تھا۔بھوک سے پیٹ میں مروڑ پڑ رہے تھے۔
ایک کنوئیں کے پاس آکر وہ آدمی رُکا۔”اس جگہ ہم آدھا گھنٹہ قیام کریں گے ۔تمہارا کھانا پینا ہمارے ذمہ نہیں ہے۔جہاں سے جو دل کرتا ہے ،کھالو۔آدھے گھنٹے بعد یہیں آنا ۔پھر ہم آگے چلیں گے۔
ہارون اس بات کو سن کر رونا چا ہتا تھا،مگر اُسے حدیث یاد آگئی۔
”اور جب سوال کرے تو فقط اللہ سے سوال کر۔اور جب مدد مانگے تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ“۔اُس نے روتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ”تو نے حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں ،کیڑے کو پتھر میں رزق سے نوازا ہے۔یا اللہ مجھے بھوکا مت رکھ!مجھے بھی کچھ کھانے کو دے ۔
یا ارحم الراحمین یا ارحم الراحمین مجھ پر رحم فرما اور میری دعا کو قبول فرما۔“درود شریف پڑھ کر جب اُس نے آنکھ کھولی تو دور ایک سیب کا درخت نظر آیا۔جس کے ساتھ انگور کی بیل بھی لگی ہوئی تھی۔اُس نے دیکھا کہ آس پاس کے سارے درخت ہی پھلوں سے بھرے ہوئے تھے۔
وہ چلتا چلتا آگے آیا اور درختوں پر ہی نظر رکھی ہوئی تھی کہ پاؤں دفعتاً گیلا ہو گیا۔اُس نے دیکھا تو نیچے پانی تھا۔پانی کا بہاؤ تیز تھا ،وہ فوراً پیچھے ہوا۔یہ کسی نہر کی شاخ تھی یا کوئی چشمہ ۔اُس نے ترکیب آزمائی ۔اپنے بیگ سے لکڑی کے سارے ٹکڑے نکالے۔
سب سے بڑا ٹکڑا ہاتھ میں رکھا۔پانی بس ایک فٹ گہرا تھا ،لیکن اُس پر گہرے سبز رنگ کی کائی جمی ہوئی تھی۔ اور جامنی رنگ کا ایک پودا تھا۔جس کے بارے میں عموماً گاؤں میں کہا جاتا تھا کہ زہر یلا پودا ہے۔جس کے جسم کو چھوجائے، وہ فوت ہو جاتا ہے۔
ہارون نے سب سے بڑا لکڑی کا ٹکڑا ہاتھ میں رکھا اور چھوٹے ٹکڑوں کو پانی میں عموداً گاڑ دیا۔اس طرح جامنی پودا چھپ سا گیا۔اب وہ پنجوں کے بل ان لکڑیوں پر چلتا ہوا پانی کے دوسری طرف گیا۔لکڑی کا بڑا ٹکڑا ایک طرف رکھا۔یہ واپسی میں بھی پانی کے تیز بہاؤ سے بچنے کے کام آنا تھا۔
دوسری طرف آکر جب درختوں کو دیکھا تو سب پھل اونچے تھے ۔اور درختوں پر چڑھنا وہ نہیں جانتا تھا۔اُس نے بستے میں ہاتھ مارا تو نوکیلے پتھر ہاتھ میں آئے۔دماغ نے پھر ساتھ دیا۔اُس نے پتھروں کے ذریعے نشانے لگا لگا کر پھل نیچے گرائے اور انہیں بستے میں بھر تا گیا۔
پھل کو دیکھ کر بھوک احساس ختم ہو چکا تھا۔اُسے یاد آیا کہ جن لوگوں کے ساتھ وہ چل رہا تھا،اُن کے پاس بھی کھانے کو خاص سامان نہ تھا۔وہ واپس اُسی کنوئیں پر پہنچا ۔اُن انکل اور اُن کے خاندان کو پھل کا بڑا حصہ دیا اور خود بھی کھایا۔

تین دن کے سفر کے بعد وہ لوگ شہر پہنچ گئے ۔شہر پہنچ کر ہارون اُن انکل جن کا نام سمیع الدین تھا۔اُن سے الگ ہونے لگا تو وہ زبردستی اُسے اپنے گھر لے گئے۔وہاں ایک کمرے میں ہارون کو بند کر دیا۔ہارون حیران ہوا اور وہ باہر سے بولے:
”میں تمہارا حقیقی چچا ہوں۔
مجھے حیرت ہے کہ تمہیں نام سے شک نہیں ہوا۔یہ گھر اور بہت سا کاروبار تمہارے والد کا ہے۔جسے میں حاصل کرنا چاہتا تھا۔کیونکہ تمہارے والدین فوت ہو گئے تھے۔میرے ارادے کو دیکھتے ہوئے میرے ابا جان یعنی تمہارے دادا جان تمہیں یہاں سے دور لے گئے۔
میرے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔لیکن میرے اس ظلم کے بعد میرے تینوں بیٹے وبائی بیماری سے اللہ پاک کو پیارے ہو گئے۔میں انہیں دفنا نے گیا تو ابا جان کا خیال آیا۔کیونکہ وہ یہاں سے جانے سے پہلے تمہارے والد کی کمائی کے تمام جواہرات اور کاغذات اس کمرے میں موجود صندوقوں میں بند کر گئے تھے۔
گاؤں پہنچنے سے پہلے جنگل میں ہی تم مل گئے۔ان صندوقوں کے تالوں میں چار ہندسوں والا نظام ہے۔میں نے بہت کوشش کی ،لیکن صندوق کھولنے میں ناکام رہا۔اب تم مجھے یہ کھول کردو گے ورنہ یہیں مرجاؤ گے۔اپنے تینوں بیٹوں کی زندگی گنوانے کے بعد مجھے یہ جواہرات ملنے چاہئے۔

اندر ہارون انکشاف پر انکشاف سن کر حیران تھا۔اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔اُسے یاد آیا۔حدیث مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔
”اور جان لے کہ ساری دنیا اس بات پر جمع ہو جائے کہ تجھے کوئی فائدہ پہنچائیں تو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکیں گے۔
مگر جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے ،اور اگر وہ جمع ہو جائیں کہ تجھے کوئی نقصان پہنچائیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکیں گے۔مگر جو اللہ تعالیٰ نے تمہار ے لئے لکھ دیا ہے،قلم خشک ہو گئے اور صحیفے لپیٹ دئیے گئے۔“
ہارون بولا”چچا جان!آپ نے جو کیا ہے،میں اُس کے لئے آپ کو معاف کرتا ہوں۔
آپ بھی انسان ہیں اور انسان خطا کا پتلا ہے۔آپ دروازہ کھولیں۔میں آپ کو وہ 4ہندسے بتاتا ہوں جو ان دونوں صندوقوں کو کھول دیں گے۔“
سمیع الدین حیران ہو گئے اور دروازہ کھول دیا۔اندر داخل ہوئے۔دونوں چچا بھتیجا صندوق کے سامنے جا بیٹھے۔
ہارون بولا”پہلے صندوق کا خفیہ تالا کھلنے کے ہند سے ہیں”2516“یہ لگانے کی دیر تھی،صندوق کھل گیا اور جواہرات کی چمک سے ہارون کو اپنی آنکھوں پر باز ورکھنا پڑا۔سمیع الدین حیرانگی سے دوسرے صندوق کی طرف بڑھے اور سوالیہ انداز میں ہارون کو دیکھا۔
وہ بولا”2673“۔صندوق کھل چکا تھا اور جائیداد کے تمام کاغذات سامنے تھے۔سمیع الدین اب ہارون کی طرف مڑے۔”تمہیں کیسے پتہ چلا یہ سب؟“ہارون نے ہاتھ میں دبا کاغذ اُن کی طرف بڑھایا(ترمذی کتاب صفت القیامة:2516،مسند احمد2673)۔
آخر میں یہ لکھا دیکھ کر سمیع الدین کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اور انہوں نے اللہ سے سچی تو بہ کی۔ہارون کو گلے سے لگاتے ہوئے بولے”بے شک میں غلطی پر تھا اور حدیث کی راہ پر چلنے والوں کو شکست نہیں ہوتی۔“
ساری دنیا نے دیکھا کہ اس کے بعد سمیع الدین چچا ہونے کے باوجود ہارون کے لئے کبھی مشکل کھڑی نہ کر سکا۔
(ایک پیسے کا بھی غبن نہ کیا)اور ہارون کی جوانی تک اُس کے کاروبار کو ایماندار ی سے دیکھتا رہا۔کیونکہ”لاحول ولاقوة الاباللہ العلی العظیم“

مزید اخلاقی کہانیاں

Mangita Or Larena - Akhri Qist

منگیتا اور لارینا آخری قسط

Mangita Or Larena - Akhri Qist

Ju Hua Acha Hua

جو ہوا اچھا ہوا

Ju Hua Acha Hua

Imaandari Ka Inaam

ایمانداری کا انعام

Imaandari Ka Inaam

Bad Shakl Shezady Ki Samjhdari

بدشکل شہزادے کی سمجھ داری

Bad Shakl Shezady Ki Samjhdari

Chanbeli Begum

چنبیلی بیگم

Chanbeli Begum

Sainkaron Saal Baad

سینکڑوں سال بعد

Sainkaron Saal Baad

Nanhi Chirya

ننھی چڑیا

Nanhi Chirya

Aik Police Wala Or Aik Chor

ایک پولیس والا اور ایک چور

Aik Police Wala Or Aik Chor

Badshah Or Naik Wazir

بادشاہ اور نیک وزیر

Badshah Or Naik Wazir

Phans Giya Kanjoos

پھنس گیا کنجوس

Phans Giya Kanjoos

Jhot Ki Saza

جھوٹ کی سزا

Jhot Ki Saza

Lazeez Kheer

لذیذ کھیر

Lazeez Kheer

Your Thoughts and Comments