Sachi Khabar

سچی خبر

فیاض صاحب کا مکان محلے میں بنے مکانات کے مقابلے میں ذرا بڑا تھا۔یہ کوئی حیرت کی بات نہ تھی۔ان کے گھر والے کہاں تھے؟یہ کسی کو پتا نہ تھا۔ان کے گھر میں ایک ملازم بشیر صبح میں دو گھنٹے کے لیے آتا تھا،اسی سے محلے والوں کو کچھ باتیں معلوم ہو گئی تھیں۔

بدھ اگست

Sachi khabar
فیاض صاحب کا مکان محلے میں بنے مکانات کے مقابلے میں ذرا بڑا تھا۔یہ کوئی حیرت کی بات نہ تھی۔ان کے گھر والے کہاں تھے؟یہ کسی کو پتا نہ تھا۔ان کے گھر میں ایک ملازم بشیر صبح میں دو گھنٹے کے لیے آتا تھا،اسی سے محلے والوں کو کچھ باتیں معلوم ہو گئی تھیں۔
بشیر میں ایک بہت بڑی خرابی تھی۔اسے ہر وقت ٹوہ میں رہنے کا شوق تھا ۔اسے لوگوں کی بُرائیاں اور کمزوریاں تلاش کرنے میں لطف آتا تھا۔محلے کے تقریباً تمام مردوں ہی کی نہیں ان کی بیگمات کی عادتوں کے بارے میں بھی اس کی معلومات بڑی وسیع تھیں!
وہ جو کچھ دیکھتا یا سنتا، اس میں حسب ضرورت ،نمک،مرچ اور دیگر مسالوں کا بگھار لگا کر دوسروں کوپیش کرتا،لیکن ایک فیاض صاحب کا ذکر آتے ہی اس کی ”معلومات“بارہ مسالے ڈالنے کے باوجود چند لمحوں میں چٹ ہو جاتی تھیں۔

(جاری ہے)

فیاض صاحب کے متعلق وہ صرف یہ کہہ کر رہ جاتا،”صاحب خشک آدمی ہیں ۔کام سے کام رکھتے ہیں ۔اصول کے پکے ہیں۔بیوی بہت پہلے کسی حادثے میں مر گئی ۔صاحب نے اس کے غم میں دوسری شادی نہیں کی۔ایک بیٹا ہے ،جو ان ۔شہر میں پتا نہیں پڑھ رہا ہے یا کوئی بزنس کر رہا ہے ۔
ویسے صاحب دل کے اچھے ہیں ۔ہر مہینے کی اٹھائیس کو ہی تنخواہ کے پیسے پکڑادیتے ہیں۔
مجھے ضرورت ہوتی ہے تو میں مانگ بھی لیتا ہوں۔“پھر وہ ذرا سوچ کر بڑے یقین سے دعویٰ کرتا،
”میں تو جانوں، صاحب کا نشہ بیچنے والوں کے ساتھ بزنس ہے!پوچھو ،کیسے!“
”کیسے ؟“مجمع ایک آواز ہو کر پوچھتا۔
بشیر کہتا:”صاحب مجھے ایک بڑے کمرے میں جانے نہیں دیتے۔اُدھر الماریاں ہی الماریاہیں ۔الماریوں میں خبر نہیں کیا ہے ۔ایک بڑی میز ہے۔اس پہ موٹی موٹی کتابیں ہیں۔کاغذ ہی کاغذ ہیں اور دوکرسیاں ۔صاحب کہتے ہیں ،تم جاکر میری چیزیں خراب کردوگے۔
میں خود ہی صفائی کرلوں گا۔“بس اتنا کہنا کافی تھا۔سب لوگ اپنے اپنے گمان کے گھوڑے دوڑانے لگتے۔بہت سے افراد اپنی اپنی بدگمانیوں کی بنیادوں پر افسانے تراشتے۔پھر یہی افسانے ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کو سناتے پھرتے۔
یہ افسانے جب محلے کی خواتین تک سینہ بہ سینہ پہنچتے تو ان میں مزید رنگ بھر دیے جاتے ۔سنانے والے یاوالی کے”یقین“میں پختگی پیدا ہو جاتی!
اس قسم کا سلوک عام طور پر محلے کے ہر مرد اور ہر خاتون کے ساتھ ہوتا تھا،لیکن فیاض صاحب چوں کہ کسی سے ملتے جلتے نہ تھے،ملازم تک کو صرف دو گھنٹے کے لیے گھر میں آنے کی اجازت دیتے ،شاید اسی لیے ان کے افسانے زیادہ پرکشش ہو جاتے تھے۔

ایک دن بشیر حسب معمول صبح آٹھ بجے فیاض صاحب کے گھر پہنچا۔اس نے صدر دروازے پر لگا گھنٹی کا بٹن دبایا۔پہلے تو احتیاط سے ایک باردبایا کہ صاحب کی ہدایت یہی تھی کہ گھنٹی ایک بار ہلکے سے بجانا کافی ہوتا ہے ،میں جاگ رہا ہوتا ہوں!ایک بار گھنٹی بجانے پر دروازہ نہ کھلا ۔
فیاض صاحب دروازے پر لگے کیمرے کے ذریعے،اندر اسکرین پر دیکھ لیتے تھے کہ باہر کون آیا ہے۔اطمینان ہونے پر وہیں سے بٹن دبا کر دروازہ اب بھی نہ کھلا تو اس نے سوچا ،ہو سکتا ہے ،صاحب واش روم میں ہوں۔ ذرا انتظار کے بعد تیسری بار بٹن دبایا اور کچھ دیر تک پر سے اُنگلی نہ ہٹائی،مگر دروازہ اسی طرح بند رہا۔

بہت سارے خیالات بشیر کے دل میں ایک ساتھ گھس آئے۔صاحب بیمار ہیں ۔صاحب رات دیر سے سوئے ہوں گے،صاحب کہیں گئے ہوتے ہیں،اچانک اس کے خیالات نے نئی کروٹ لی کہیں ․․․․․مگر کہاں ․․․․اچھا․․․․․․ضرور اپنے بزنس پہ گئے ہوں گے۔
کیا پتا مارا ماری ہو گئی ہو۔کچھ بھی ہو سکتاہے۔
بس اتنا ہی کافی تھا۔انسان کے کھلے دشمن یعنی شیطان نے اس ذرا سے”کچھ بھی“کو ”بہت کچھ“بنانے پر اُکسادیا۔
ذراسی دیر میں محلے کے بچے بچے کی زبان پر یہی تھا:”سنا تم نے فیاض صاحب کی اپنے گینگ کے لوگوں سے لڑائی ہو گئی۔
شایدکئی آدمی زخمی ہوئے ہیں۔دوتومرگئے۔“
دوسراکہتا:”اپنے گینگ سے نہیں دوسرے گینگ کے لوگوں سے لڑائی ہوئی ہے۔سناہے فیاض صاحب کو بہت چوٹیں آئی ہیں ۔بچنے کی اُمید کم ہے۔“
محلے کی عورتیں آپس میں راز دارانہ انداز میں باتیں کرنے لگیں ۔
کواڑوں کی آڑ سے ،کھڑکیوں یا گیلریوں میں کھڑے ہو کر ۔سستے پیکج والی لمبی لمبی موبائل کالز کے ذریعے۔ایک کہتی :”اے بہن!سنا تم نے ،فیاض صاحب کو پولیس پکڑ کر لے گئی۔“
دوسری پوچھتی :”ہائے اللہ!وہ کیوں؟“
پہلی کا جواب ہوتا:”اللہ جانے کیا کرتوت تھے بڑے میاں کے ،اسی لیے چھپ کے رہتے تھے۔

بشیر کو بس دوگھنٹوں کے لیے بلاتے تھے۔ایک کمرے میں تو جانے ہی نہیں دیتے تھے۔وہیں رکھا ہو گا سارا ناجائز مال۔“
”کیا خبر ،وہیں سے کوئی تہ خانہ بھی نکلتا ہو۔“دوسری کہہ اُٹھتی ۔
”ہائے ،اس طرف تو میرا دھنیان بھی نہیں گیا تھا۔
ایسا ہی ہو گابہن!اللہ بچائے۔اچھا خاصا شریفوں کا محلہ تھا،اب دیکھو، کون کون آکر آباد ہورہے ہیں۔“
اس قسم کی کاناپھوسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ عورتوں نے اپنے اپنے مردوں کے کان بھرنے شروع کر دیے۔
”ارے سنتے ہیں!محلے میں یہ کیا ہونے لگا ہے۔
اچھا بھلا برسوں سے امن وامان تھا۔نہ کبھی چوری ہوئی نہ موئے ڈاکو آئے،مگر جب سے یہ فیاض صاحب جیسے لوگ آکر آباد ہورہے ہیں،یہاں پولیس بھی آرہی ہے۔آج پولیس آئی ہے ،کل کو گولیاں چل گئیں تو کیا ہو گا؟اے ہمارے بچے تو روز گلیوں
میں کرکٹ کھیلتے ہیں․․․․اے سن رہے ہیں!آپ تو بس اپنے موبائل ہی میں لگے رہیے۔

اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے سارے ہی مردگھروں پر تھے اور فرصت سے ناشتا کرتے تھے ،مگر بشیر نے صبح صبح خبر پھیلا کر سنسنی دوڑا دی تھی۔
عورتوں نے اپنے اپنے مردوں کو ناشتا تو کروا دیا،مگر مسلسل طعنے دے دے کر ان کا ناک میں دم کر دیا۔
نتیجہ یہ کہ محلے کے بہت سے مرد چوک میں جمع ہو کر صلاح مشورے کرنے لگے۔بھانت بھانت کے تبصرے شروع ہوگئے۔
”فیاض صاحب کے گھر کا تالا توڑ و اور اندرجا کر دیکھو تو سہی کہ ہوتا کیا رہا ہے اب تک۔“
”ارے!ہم بھی بہو بیٹیوں والے ہیں۔
ہماری بھی کوئی عزت ہے۔اگر محلے کی یہ شہرت ہو گئی کہ یہاں جرائم پیشہ گروہوں کے اڈے ہیں،گینگ وارچل رہی ہے تو کون شریف آدمی ادھر کارُخ کرے گا؟بتاؤ بھلا!“
بہت سے لوگ ہاں میں ہاں ملاتے۔کچھ دیر بحث مباحثہ کے بعد طے ہوا کہ فیاض صاحب جوں ہی نظر آئیں ،ان سے مکان خالی کروا کر محلے سے نکال باہر کریں۔

”ہاں ،بالکل ،ذرا بھی ترس کھانے کی ضرورت نہیں،اچھی طرح جھاڑوبڑے میاں کو!“
اسی بحث ومباحثہ میں دن کے تقریباً دو بج گئے۔ابھی لوگ منتشر ہورہے تھے کہ شیخ صاحب کا چھوٹا لڑکا ہانپتا ہو ا آیا۔چلا کر بولا:”فیاض صاحب کا بیٹا کیپٹن اعجاز شہید ہو گیاہے۔

”کیا ہانک رہا ہے؟“شیخ صاحب بھنا کر بولے۔
”ابا ،بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ٹی وی میں آرہا ہے ۔ہماری محلے کا نام بھی لیا گیا ہے خبروں میں۔“لڑکا سانس درست کرنے کی کوشش کرتا ہوا بولا۔
ارے تو وہ بھی کر منلز کے ساتھ ہو گا نا۔
شہید کا ہے کو کہہ رہا ہے باؤلے!“میر صاحب سر ہلا کر بولے۔
”‘نہیں انکل ،شہید ہی کہاٹی وی والوں نے۔ بارڈر پہ شہید ہوا ہے ۔فوجی تھا۔دشمن کی فائرنگ سے زخمی ہوا ،ڈھائی گھنٹے بعد شہید ہو گیا ۔“لڑکا اَڑا ہوا تھا۔

”اور کیا بتایا ٹی وی والوں نے؟“
”انکل ! ٹی وی والے کہہ رہے تھے،ڈاکٹر فیاض ہمارے ملک کا بہت بڑا سرمایہ ہیں۔علمی تحقیقی کام کررہے ہیں۔اسی لیے شہر کے دور دراز محلے اتحاد کالونی میں اکیلے رہتے ہیں۔کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتے۔
ہر وقت لکھنے پڑھنے میں لگے رہتے ہیں۔“ایک بچے نے تفصیل سے بتایا۔
کیپٹن اعجاز کی تصویر ٹی وی پر بار بار دکھائی جارہی تھی۔شہید کیپٹن کا ذکر ،اینکر بہت احترام سے کررہے تھے۔یہ اعلانات بھی کیے جارہے تھے کہ شہید کے والد ڈاکٹر فیاض احمد خان سے بات چیت رات آٹھ بجے براہ راست نشر کی جائے گی۔

روز ہی شام میں شیخ صاحب کے گھر کے باہر چبوترے پر محفل جم جاتی۔آج بھی بہت سے لوگ جمع تھے،لیکن سب پر چپ طاری تھی۔آخر سناٹے کو شیخ صاحب کی آواز نے توڑا:”بھئی ،میں نے تو بیگم کو بہت ڈانٹا ،یہ عورتیں ہی جھوٹی سچی خبریں پھیلاتی ہیں۔
ان کی اطلاع پر ہی ہم ڈاکٹر صاحب کو گھر سے نکالے پر تیار تھے۔اب پتا چلا کہ پروفیسر صاحب تو بہت عظیم انسان ہیں۔“
سب نے ہاں میں ہاں ملائی۔سوزلکھنوی بولے:”بھئی صرف خواتین ہی نہیں ہم مرد بھی برابر کے ذمے دار ہیں۔
”ویسے یہ بات سب سے پہلے بتائی کس نے ؟“میر صاحب سوچتے ہوئے بولے۔

”ارے بھئی ،بیگم تو کہتی ہے کہ سب سے پہلے یہ اطلاع بشیر نے دی تھی۔“
”خیر ،اللہ نے کرم کیا،ہم لوگوں نے ڈاکٹر صاحب کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔“میر صاحب سوچتے
ہوئے بولے۔
”ہمیں خود اپنے گریبان میں منھ ڈال کر دیکھناچاہیے۔
ہم جب چاہتے ہیں کسی پر الزام لگا دیتے ہیں۔خود کوبھول جاتے ہیں کہ ہم کتنے گناہ کررہے ہیں۔“مسجد کے امام صاحب نے کہا۔وہ کہیں جاتے ہوئے ،شیخ صاحب کی محفل میں پانچ منٹ کے لیے رک گئے تھے۔
رات آٹھ بجے تمام ٹی وی چینلوں پر خصوصی پروگرام کا آغاز ہو گیا۔

شہید کیپٹن اعجاز کے قابل احترام والد ،جناب ڈاکٹر فیاض احمدخان نے اپنے انٹرویو کے دوران بتایا کہ”وہ ․․․وہ بہت بہادر لڑکا تھا۔اس کی ماں اسے شہیدوں کے واقعات سناتی رہتی تھی۔وہ اسکول جانے لگا تو اکثر کہتا،میں فوجی بنوں گا۔
اللہ کی راہ میں دشمن سے لڑوں گا۔اس نے پرندوں یا جانوروں کو کبھی نشانہ نہیں بنایا۔وہ بہت سعادت مندبچہ تھا․․․․‘ڈاکٹر صاحب کی آواز بھرا گئی۔
کیپٹن اعجاز کا پھولوں میں لپٹا ہوا چہرہ اسکرینوں پر نمودار ہو گیا۔لوگ اپنے آنسو پونچھ رہے تھے۔اس کے بعد کسی نے ڈاکٹر فیاض کے خلاف کوئی بات نہ کی۔محلے کی خواتین بھی اب کم ہی کسی کی بُرائی کرتی تھیں۔
اس دوران بشیر کہیں غائب ہو گیا تھا۔شاید شرم کے مارے۔

Your Thoughts and Comments