Sachi Khushi - Article No. 2031

Sachi Khushi

سچی خوشی - تحریر نمبر 2031

مجھے اپنے جیتنے کی اتنی خوشی نہیں ہوئی،جتنی مجھے اس کو پیسے دینے کے بعد ہوئی

جمعرات 5 اگست 2021

نمرہ فیصل،کراچی
ہمارے گاؤں میں ایک بہت بڑا کراٹے کا مقابلہ ہونے والا تھا۔جیتنے والے کے لئے دس لاکھ روپے انعام تھا اور میں بہت محنت سے اپنی تیاری میں مصروف تھا۔ویسے تو میں بہت خوش تھا،کیونکہ جس محنت اور لگن سے میں تیاری کر رہا تھا،مجھے لگ رہا تھا کہ میں ہی جیتوں گا،لیکن اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں راجو کراٹے ماسٹر کا اعزاز نہ جیت جائے۔

راجو کراٹے میں چیمپئن تھا اور وہ پہلے بھی بہت سے انعامات جیت چکا تھا۔مجھے کراٹے کا بہت شوق تھا،اس لئے میں نے اس مقابلے میں حصہ لیا تھا۔مجھے بے صبری سے اس دن کا انتظار تھا،جس دن کراٹے کا مقابلہ ہونے والا تھا۔
آخر وہ دن آہی گیا۔سب لوگ خوب تیاری کے ساتھ آئے تھے،لیکن راجو تھوڑا افسردہ لگ رہا تھا۔

(جاری ہے)

مقابلہ شروع ہو گیا۔سخت محنت کے بعد میں نے مقابلہ جیت لیا،لیکن حیرت بھی ہو رہی تھی کہ راجو ہار کیسے گیا۔

مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں جیت گیا ہوں۔راجو کچھ پریشان سا لگ رہا تھا۔مقابلہ ختم ہونے کے بعد میں نے اس سے پوچھا کہ تم پریشان لگ رہے ہو،کوئی پریشانی ہے کیا؟
اس نے بتایا کہ میری ماں کی طبیعت خراب ہے اور شہر جا کر اس کا علاج کروانے کے لئے میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔میں نے مقابلے میں اس لئے حصہ لیا تھا کہ اگر میں جیت جاؤں گا تو مجھے پیسے مل جائیں گے،لیکن ماں کا خیال رکھنے کی وجہ سے تیاری نہ کر پایا اس لئے تم سے ہار گیا۔

یہ کہنے کے بعد وہ اُداس ہو کر مایوسانہ انداز میں بیٹھ گیا۔مجھے اس پہ ترس آگیا اور میں نے وہ دس لاکھ روپے اس کو دے دیے۔پہلے تو اس نے پیسے لینے سے انکار کر دیا،لیکن میرے بے حد اصرار پر لے لیے۔مجھے اپنے جیتنے کی اتنی خوشی نہیں ہوئی،جتنی مجھے اس کو پیسے دینے کے بعد ہوئی۔واقعی آج مجھے سچی خوشی ملی تھی۔

Browse More Moral Stories