Sainkaron Saal Baad

Sainkaron Saal Baad

سینکڑوں سال بعد

ایک دن بہت پرانے قبرستان میں دو روحیں آپس میں باتیں کررہی تھی ۔ ایک روح نے حیرت سے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے دوسری سے پوچھا: ہم کتنے عرصے پہلے مرے تھے؟

جاوید اقبال :
ایک دن بہت پرانے قبرستان میں دو روحیں آپس میں باتیں کررہی تھی ۔ ایک روح نے حیرت سے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے دوسری سے پوچھا: ہم کتنے عرصے پہلے مرے تھے ؟
دوسری روح نے کافی دیر سے سوچنے کے بعد کہا ل سینکڑوں سال پہلے، لیکن ابھی قیادت نہیں آئی ہے ۔

دونوں روحیں علاقے کا جائزہ لینے قبرستان سے نکل پڑیں۔ بدلی ہوئی دنیا دیکھ کر دنگ رہ گئیں ۔ پہاڑوں جتنی اونچی عمارتیں سراٹھائے کھڑی تھیں۔ ان بلند عمارتوں کو دیکھ کر انھیں ڈرلگاکہ کہیں یہ ان کے اوپر ہی نہ آگریں۔ صاف شفاف سڑکوں کو دیکھ کرانھیں بہت حیرت ہوئی۔
یہ صبح کا وقت تھا۔ اکاد کا لوگ ہی سڑکوں پر تھے ۔ انھیں ایک انسان اپنی طرف آتا ہو نظرآیا۔ اس نے جولباس پہن رکھاتھا، وہ اتنا تنگ تھا کہ خود انھیں گھٹن محسوس ہونے لگی ۔

(جاری ہے)

انھوں نے تو اپنی زندگی میں سرسے پاؤں تک کالباس پہنے ہی انسانوں کو دیکھاتھا۔


دونوں قدیم روحیں بڑے مزے سے سڑک کے درمیان چل رہی تھیں کہ اچانک انھیں اپنے پیچھے شور سنائی دیا۔ دونوں نے پلٹ کر دیکھا تو ایک خوف ناک بلاشورمچاتی ادھر آتی نظرآئی ۔ دونوں روحیں گھبرا کر چیخنے لگیں ۔ وہ بلا دھواں چھوڑتی ، تیزآواز کے ساتھ ان کے بیچ میں سے گزرگئی ۔
دونوں روحیں ڈر کر بھاگیں ۔ بھاگتے بھاگتے وہ ریل گاڑی کی پٹری تک پہنچ گئیں ۔ دور تک جاتی ہوئی لوہے کی دولمبی اور چپٹی سلاخوں کو دیکھ کر وہ ششدر رہ گئیں۔ اتنے میں چھک چھک کرتی ریل گاڑی آگئی ۔ ریل گاڑی کو دیکھ کروہ اتنی خوف زدہ ہوئیں کہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکیں اور ریل گاڑی انھیں روندنی ہوئی گزرنے لگی۔
جانے اس بَلا کے جسم کے کتنے حصے ہیں جو ختم ہی نہیں ہورہے ۔ دونوں روحیں سہی ہوئی سوچ رہی تھیں۔ اللہ اللہ کرکے ریل گاڑی گزری تو وہ اچھل کر کھڑی ہوگئیں ۔ انھیں ڈر تھا کہ یہ خوف ناک عفریت پھر واپس نہ آجائے ۔ وہ سرپرپاؤں رکھ کر وہاں سے بھاگیں ۔

اب دونوں روحیں پھر ایک صاف ستھری سڑک پر پہنچ گئیں ۔ انھیں ایک فیشن زدہ عورت ادھر آتی نظرآئی اس کے سر کے بال کسی پرندے کے گھونسلے کی طرح بکھرے ہوئے تھے ۔ دونوں روحیں اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگیں۔ اچانک اس عورت کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے بیگ سے ایک پراسرار گھنٹی جیسی آواز گونجی ۔
اس اچانک آواز سے ڈر کردونوں روحیں اس بری طرح اچھلیں کہ ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں ، مگر ان کے ٹکرانے سے ان پر کوئی اثر نہیں ہوا، کیوں کہ دونوں روحیں تھیں ۔ عورت نے اپنے تھیلے میں سے ایک چھوٹی سی ڈبیانکالی اور کان سے لگا کر باتیں کرنے لگی ۔
دونوں روحیں حیران تھیں کہ عورت اکیلے ہی بولے چلے جارہی ہے۔ کبھی کبھی تھک کر چپ بھی ہوجاتی ۔ کچھ سستا کردوبارہ بولنے لگتی ۔
دونوں قدیم روحین اب ایک پل کی دیوار پر بیٹھ گئیں ۔ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ وہ دنیا کے کس حصے میں پھنس گئیں ہیں۔
اتنے میں آسمان پر ایک چیختا چنگاڑتا پرندہ نمودار ہوا۔ وہ کان پھاڑ دینے والے شور کے ساتھ عین ان کے سرپر آپہنچا۔ ایسا خوفناک پرندہ انھیں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ ڈر کے مارے ایک نالے میں چھپ گئیں۔ بَلا کے گزرنے کے بعد وہ ادھر اُدھر دیکھ کر ڈرتے ڈرتے باہر آئیں۔
اسی وقت دوپہیوں والی ایک چھوٹی سی بَلا جس پر لوہئے کا کنٹوپ پہنے ایک آدمی بیٹھا تھا، چیختی چنگاڑتی ، پھسلتی ہوئی ان کی طرف بڑھی۔ آسمان پر وہ خوفناک پرندہ اور زمین پر پیچھا کرتی اس مصیبت سے ڈر کر دونوں روحیں قبرستان کی طرف بھاگیں ۔ بھاگتے بھاگتے وہ قبرستان پہنچیں اور چھلانگ مار کر اپنی قبروں میں کود کرپناہ لی ۔

Your Thoughts and Comments