salgrah

Salgrah

سالگرہ

سونے کا وقت ہو گیا تھا۔نیلو‘نگو اور ریشم تینوں بلی کے بچے آگ کے نزدیک بیٹھ کر اپنی زبانوں سے اپنے منہ صاف کررہے تھے ۔کیونکہ وہ

احمد عدنان طارق
سونے کا وقت ہو گیا تھا۔نیلو‘نگو اور ریشم تینوں بلی کے بچے آگ کے نزدیک بیٹھ کر اپنی زبانوں سے اپنے منہ صاف کررہے تھے ۔کیونکہ وہ اُس وقت بہت جوش میں تھے ۔کل اُن کی سالگرہ تھی ۔نیلو سوئی سوئی آواز میں پوچھنے لگی۔

کیا کل ہمیں کوئی تحفہ بھی دے گا؟“نگو نے اپنی مونچھیں صاف کرنا بند کر دیں اور کہنے لگی۔مجھے تو پورا یقین ہے ہر کسی کو سالگرہ پر تحفے ملتے ہیں ۔ریشم بولی۔مجھے اتنی امید نہیں کیونکہ کسی کوعلم ہی نہیں کہ کل ہماری سالگرہ ہے ۔

نیلو بولی؛”اب تو بہت وقت گزرگیا ہے ،اب ہم کسی کو نہیں بتا سکتے ۔پھر مایوسی سے تینوں بلی کے بچے اپنی سونے والی ٹوکری میں سکڑ کراکھٹے ہوگئے ۔نیلو سب سے پہلے اُٹھی ۔اُس نے ایک آنکھ کھول کر اِدھر اُدھر دیکھا لیکن کمرے میں کوئی تحفہ نظر نہیں آیا۔

(جاری ہے)

پھر بی مانوجواُنکی اَمّی تھیں ،بھی وہاں آگئی۔اُس نے تینوں بچوں کو ناشتے کیلئے بلایا تینوں بچے باورچی خانے میں چلے گئے وہ اُداس تھے ۔وہاں اُنکا دوست شیرودودھ پی رہا تھا ۔اُس نے سب کو خوشی سے صبح بخیر کہا۔
خاموشی سے اُنہوں نے دودھ پیا۔
وہ خاموشی سے بھی شیرواور اَمّی کو یاددلارہی تھیں کہ آج اُنکی سالگرہ ہے ۔وہ سوچ رہی تھیں کہ کم از کم امی کوتو اُنکی سالگرہ یاد ہونی چاہئے آخر وہ اَمّی ہیں ۔پھر اُنہوں نے اَمّی کے کہنے پر دوڑنا بھاگنا شروع کیا وہ شیرو سے کوئی بات کر رہی تھیں ۔
پھر وہ سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
تینوں کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن وہ اُنہیں کسی کو دکھانا نہیں چاہتی تھیں لیکن پھر چائے کے وقت جب تینوں بلی کے بچے اُونگھ رہے تھے تو اُنہیں لگا جیسے خواب میں اُنہیں کوئی گانا سنائی دے رہا ہو۔
وہ ہڑ بڑا کر اُٹھے تو کمرہ سالگرہ مبارک کی آوازوں سے گونج رہا تھا اور کمرے میں بلیاں ہی بلیاں تھیں ۔سارا محلّہ وہاں اَکٹھا تھا ۔
اَمّی خوشی سے بتانے لگیں ،تمہارا خیال تھا میں بھول گئی ہوں ۔میں تو تمہیں حیران کرنا چاہتی تھی۔

اور اِس حیرانی میں بھی خوشیاں بھری تھیں۔
نیلو نگو اور ریشم کو یقین ہی نہیں آرہا تھا ۔پھر کھانے کا دستر خوان بچھا اور دنیا جہان کی نعمتیں اُس پر چُنی گئیں ۔وہ تمام چیزیں تھیں جو بلیاں کھانا پسند کرتی ہیں اور پھر میز تحفوں سے بھری ہوئی تھی۔کھلونے ہی کھلونے تھے ۔
اب تینوں کے چہرے خوشی سے چمک رہے تھے ۔وہ اکتا ہٹ والی سالگرہ اتنی یادگار بن گئی تھی کہ سارا شہر اُسے بڑا عرصہ یاد کرتا رہا۔

Your Thoughts and Comments