Samundari Pariyaan Akhri Qist - Article No. 1770

سمندری پریاں آخری قسط

وہاں ان شعلہ نکالنے والی مچھلیوں کو سمندری بیلوں سے باندھ دیا گیا تھا تاکہ ٹیمپوں کاکام دیں۔

ہفتہ جولائی

Samundari Pariyaan Akhri Qist
آمنہ ماہم
وہاں ان شعلہ نکالنے والی مچھلیوں کو سمندری بیلوں سے باندھ دیا گیا تھا تاکہ ٹیمپوں کاکام دیں۔محل کی گھرداری کا انتظام پرانے پرانے کیکڑوں کے سپرد تھا،جو اندر یا باہر برابر بھرتے رہنے اور صفائی ستھرائی وغیرہ کے کام اس قدر مستعدی کے ساتھ انجام دیتے کہ سینکڑوں لونڈیاں،باندیاں بھی نہ کر سکتیں،کیونکہ سونے کے علاوہ وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ کیے ہی جاتے اور ایک لمحے کے لئے بھی خالی نہ بیٹھتے۔
کیکڑوں کی نہایت خوب صورت اور نرالی وردیاں بنائی گئی تھیں،ان کی پشتوں پر خوش نما رنگوں کا سمندری سبزہ اگادیا گیا تھا۔انہیں اپنی تمام عمر میں کبھی ایسا اچھا زمانہ نہیں ملا تھا۔اس کی پرانی زندگی بدل گئی تھی۔وہ آدمیوں کو چمٹنا اور شرارت کرنا قطعی بھول گئے تھے،پریوں کی تربیت نے انھیں پہلے سے بہت بہتر بنا یا تھا۔

(جاری ہے)

محل اب ہر طرح سے آراستہ اور نئے بادشاہ کے قابل ہو گیا تھا۔
آخر کار بادشاہ سلامت آئے اور اپنے ساتھ ملکہ کو بھی لائے۔تمام پریاں خوش تھیں۔سمندر کی مخلوق خوشی کے ساتھ جوش میں غوطے لگانے لگی۔ہر ایک نے پورے دن کی چھٹی منائی ،سوائے کیکڑوں کے ،جو قدرتاً کام کرنے کے ایسے عادی تھے کہ بیکار رہنا ان کے لئے عذاب تھا۔
دعوت بھی اس ٹھاٹھ کی ہوئی کہ نہ ایسا سلیقہ کسی نے دیکھا ہو گا ،نہ ایسے کھانے کھائیں ہوں گے۔دوسرے دن سلطنت کا نظام قائم کیا گیا۔پریوں میں جو سب سے زیادہ سمجھدار تھی،وہ بادشاہ کی وزیر مقرر ہوئی اور خوب صورت سے خوب صورت اور نیک سے نیک کم عمر پریاں ملکہ کی خدمت کار بنائی گئیں۔
پرستان میں نر ہویا مادہ ،جتنی خوبصورت شکل ہوگی اسی قدر خوش اخلاق اور سلیقہ شعار بھی ہوگی۔اس لئے سمجھ لو کہ ملکہ کی خدمت میں رہنے کے لئے کن کو چنا ہو گا۔
بادشاہ اور ملکہ کو وہاں جتنے ایک بادشاہت میں کام ہوا کرتے ہیں،انتے ہی یہاں بھی کام تھے۔
وہ اپنی عمل داری میں دورے کرتے کہ کہیں کوئی ایک دوسرے پر ظلم تو نہیں کرتا۔بڑی دیکھ بھال یہ کرنی تھی کہ ظالم شارک اور ازومچھلیاں ضعیف اور کمزور مچھلیوں کے ساتھ تو شرارت نہیں کرتیں یا دوسری مخلوق کا حد سے زیادہ توخون نہیں کرتیں۔
سمندر کے اژد ہے اپنے آپ سے باہر نہیں نہیں ہوتے،کنڈلی ٹنڈلی مار کر دوسروں کا راستہ تو نہیں روک لیتے۔ان باتوں کے سوا یہ کام بھی تھا کہ جانوروں کے جھگڑوں کا تصفیہ کریں اور پریوں میں سے جوکام میں سست ہو یا شرارت کرے ۔اس کو سزادیں۔
اچھا ان کی سزا کا کیا طریقہ تھا؟پریوں یا سمندر کی مخلوق کو وہ سزا کیا دیتے؟شریر پریوں کو یہ سزا ملتی کہ رات کو اوپر سمندر کے کنارے جانا اور سنہری ریت ہر اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلنا کودنا،چٹانوں پر بیٹھنا،اپنے بالوں میں کنگھی کرنا اور گانا بجانا بند۔
پانی کے اندر پڑی ترسا کریں۔بد ذات جانوروں کی یہ سزا ہوتی کہ وہ کچھ عرصے کے لئے کیکڑوں کا ہاتھ بٹانے پر مجبور کر دیے جاتے۔کیکڑے ان کو کیکڑے جیسا سیدھا کر دیتے کہ پھر ان سے کوئی قصور سرزد نہیں ہوتا۔
شریروں اور نافرمان جانوروں کو جس طرح سزا ملتی،اسی طرح اچھا کام کرنے والوں اور ظلم ماننے والوں کو انعامات بھی دیے جاتے۔
سب سے بڑا انعام یا صلہ یہ تھا کہ درباریوں میں جگہ دی جاتی۔وہ بادشاہ کے سمندری سلطنت کے بڑے بڑے دوروں پر ان کے ساتھ ہوتے اور جہاں ان کا جی چاہتا ،سیر کرتے پھرتے۔
جب کبھی وحشت ناک طوفان آتے اور پانی کی موجیں شور کے ساتھ سمندر مملکت پر حملہ آور ہوتیں تو پریاں پانی کی بلند سے بلند سطح پر پہنچ جاتیں اور بڑے بڑے جہازوں کو چٹانوں سے ٹکرانے اور ریت میں دھنس جانے سے بچانے کی بے انتہا کوشش کرتیں،پھر اگر ان کی کوشش ناکام رہتی،ڈوبنے والے جہاز ڈوب ہی جاتے تو نہایت سریلی آوازوں میں ان کا مرتبہ پر سمجھیں اور ڈوبے ہوئے ملاحوں کی ریت میں دفن کرایتیں۔

کبھی کبھی جہاز راں اور ملاح بھی ان کی جھلک دیکھ لیتے،انھیں جل پری یا جل مانس کہتے اور کبھی ان کو نہیں ستاتے۔صرف دیکھتے ،خوش ہوتے اورگزر جاتے۔اب آپ نے سن لیا کہ خشکی کی پریوں کی طرح سمندر میں پریاں کس طرح پیدا ہوئیں اور کیوں کر وہاں آگئیں۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Sunehre Din

سنہرے دن

Sunehre Din

Lalchi Dost (last Episode)

لالچی دوست (آخری قسط)

Lalchi Dost (last Episode)

Hisab E Dostaan

حسابِ دوستاں

Hisab E Dostaan

Tanha Bandar

تنہا بندر

Tanha Bandar

Neki Wala Daba

نیکی والا ڈبا

Neki Wala Daba

Sachi Lagan

سچی لگن

Sachi Lagan

Parosion Ki Khabar Lain

پڑوسیوں کی خبرلیں

Parosion Ki Khabar Lain

Jashn E Azadi Mubarak Ho

جشن آزادی مبارک ہو۔۔۔تحریر: مختار احمد

Jashn E Azadi Mubarak Ho

Andher Nagri Chopat Raj

اندھیر نگری چوپٹ راج

Andher Nagri Chopat Raj

Tain Tain

ٹیں ٹیں

Tain Tain

ایک بھوکا لاکھ پتی

Aik Bhooka Lakh Pati

Hamari Qoumi Pehchaan

ہماری قومی پہچان

Hamari Qoumi Pehchaan

Your Thoughts and Comments