Shararat Ki Saza - Article No. 1554

شرارت کی سزا

جب سے اسکول سے چھٹیاں ہوئیں تھی تب سے مبین ،احمد، اعمار، حسن اور زین سب کزنز مل کر سارا دن شرارتیں کرتے ،راہ چلتے لوگوں کو تنگ کرتے ،تو کبھی محلے میں لوگوں کے گھروں کی گھنٹیاں بجا کر بھاگ جاتے۔

پیر اکتوبر

Shararat Ki Saza

گل افشاں رانا(فیصل آباد)
جب سے اسکول سے چھٹیاں ہوئیں تھی تب سے مبین ،احمد، اعمار، حسن اور زین سب کزنز مل کر سارا دن شرارتیں کرتے ،راہ چلتے لوگوں کو تنگ کرتے ،تو کبھی محلے میں لوگوں کے گھروں کی گھنٹیاں بجا کر بھاگ جاتے۔

ان کے گروپ نے سب کے ناک میں دم کیا ہوا تھا۔ایک دن انہیں پتہ چلا کے ان کے عمر چاچو ایک کام سے کسی گاؤں جارہے ہیں۔وہ سب بھی ساتھ جانے کے لیے ضد کرکے تیار ہوگئے۔دوسرے دن اپنے چاچو کے ساتھ ان کے جاننے والوں کے گاؤں پہنچے تو شام کے سائے ڈھل کر اندھیرے میں مدغم ہورہے تھے ۔
وہ سب لکڑی کا بڑا سادروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے تو بہت بڑا صحن نظر آیا جس میں بیری کا ایک بہت بڑا درخت لگا ہوا تھا۔جس کے خشک پتوں نے صحن کے کچے فرش کو ڈھانپ رکھا تھا۔

(جاری ہے)

عجیب سی اداسی اور وحشت چھائی ہوئی تھی پورے ماحول پر ۔

وہ سب ہنستے مسکراتے ایک دوسرے کو تنگ کرتے اپنے چاچو کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے گھرکے اندرونی حصے کی طرف گئے۔وہاں برآمدے میں چاچو کے دوست ان کے منتظر بیٹھے تھے۔چاچو ان سے مل کر اپنے کام کی باتیں کرنے لگ گئے۔اتنے میں بچوں نے بھوک کا شور مچا دیا۔

چاچو کے دوست نے کہا:میری بوڑھی ماں کے سوا گھر میں کوئی بھی نہیں رہتا۔وہ بھی اپنے کسی رشتے دار کی فوتگی پر گئی ہوئی ہیں ۔اس لئے میں باہر سے ہی کچھ کھانے پینے کو لے کر آتا ہوں۔چاچو کے دوست جانے کے لیے اٹھے تو ساتھ ہی عمر چاچو نے کہا میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔
چاچو کے دوست نے جاتے جاتے پیچھے مڑکر کہا:”بچو!آپ لوگ ادھر والی سائیڈ پر ہی رہنا،باہر صحن میں درخت والی جگہ پر نہ جانا، کوئی شرارت نہ کرنا“۔دوست کو اتنی نصیحت کرتے دیکھاتو چاچو نے پوچھا”کیوں خیریت
ہے؟“۔
ان کا دوست بولا”ہاں خیریت ہی ہے بس سایہ ہے درخت پر۔جو کبھی کبھی شرارتوں پر اتر آتا ہے“۔دوست کی بات سن کر چاچو سمیت بچے بھی ہنس پڑے ،کہ آج کے دور میں بھی یہ لوگ ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں ۔چاچو کا دوست بولا”ایسے مت ہنسو میں سچ کہہ رہاہوں کیا پتہ وہ یہیں کہیں کھڑا ہماری باتیں سن رہا ہو“۔
یہ کہہ کر انہوں نے سراسیمگی سے ادھر ادھر دیکھا تو چاچو ان کے کاندھے پر ہاتھ مار کر ہنستے ہوئے باہرنکل گئے۔اور سب بچے چار پائیوں پر بیٹھے جنوں بھوتوں کا مزاق اڑاتے ہوئے ہنسنے لگے کہ آج کے اس ٹیکنالوجی کے دور میں بھی جن بھوت ہوتے ہیں۔

”اگر ہوتے ہیں تو سامنے کیوں نہیں آتے؟“مبین نے سوال اٹھایا ۔تو احمد قہقہہ لگا کر بولا”وہ اب ہم سے ڈرتے ہوئے گے اس لئے سامنے نہیں آتے ہوں گے“آؤ باہر ادھر صحن میں جاکر دیکھتے ہیں جہاں چاچو کے دوست کہہ رہے تھے کے مت جانا سایا ہے کوئی۔
وہ سب اٹھکیلیاں کرتے درخت کے نیچے آکر کھڑے ہو گئے۔حسن نے دور پڑا لکڑی کا چھوٹاسا ٹکڑا اٹھا کر درخت کی اوپر والی شاخوں پر پھینکا تو کچھ پتے ٹوٹ کر نیچے گرے۔وہ سب پھرہنسنے لگے کہ جنوں کا گھر تو دیکھو۔احمد نے اوپر منہ کرکے کہا”جن بابابات سنو!یہ عمار بہت گندابچہ ہے۔
اسے کچھ دیر کے لیے اپنے پاس لے جاؤ۔اسے آپ لوگوں کا گھر دیکھنے کابہت شوق ہورہا ہے۔“ابھی اس نے یہ کہہ کر احمد کی طرف دیکھا ہی تھاکہ وہ ہو گیا جوان میں سے کسی کے بھی گمان میں بھی نہ تھا۔عمار ان کی نظروں کے سامنے سے غائب تھا۔
وہ سب حیران ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگے کہ یہ ہو کیا گیا ہے ۔
اتنے میں تیز ہواؤں کے ساتھ مٹی کا طوفان بھی اٹھنے لگا۔دور صحن میں جو ایک چھوٹا سا بلب روشن تھا وہ بھی بند ہو گیا اور وہ سب درخت کے نیچے کھڑے پریشان ہونا شروع ہو چکے تھے کیونکہ ان کے نزدیک یہ سب ایک مزاق تھا انہوں نے اپنے گھروں کی بڑی سکر ینوں پر یہ خوفناک منظر دیکھے تو تھے لیکن یہ اب بھی حقیقت کی دنیا میں ہوتے ہیں یہ ان سب کے لیے پریشان کن بات تھی۔
غیر ارادی طور پر سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا اور چیختے ہوئے وہاں سے باہرگلی کی طرف دوڑ لگا دی۔راستے میں چاچو اور ان کے دوست مل گئے ۔انہوں نے جو بچوں کی یہ حالت دیکھی تو پریشان ہو گئے۔ان کے پوچھنے پر احمد نے آنسو پونچھتے ہوئے ہمت کرکے پوری بات بتادی کہ”عمار نجا نے کہاں چلا گیا ہمیں وہاں بہت خوف محسوس ہوا تو ہم وہاں سے بھاگ آئے“۔

چاچو جلدی سے عمار کو ڈھونڈیں وہ کہاں چلا گیا؟۔احمد کی بات سن کر چاچو پریشان ہوکر اپنے دوست کی طرف دیکھنے لگے جو روہا نسا ہو کر سر پکڑ کر کھڑا تھا۔”میں نے کہا بھی تھاکہ درخت کے پاس مت جانا لیکن تم شہری بچے کب بات مانتے ہو کسی کی اب بھگتو خود ہی ۔
مجھے تو خودان سے بہت ڈرلگتا ہے ۔اماں کی وجہ سے اس گھر میں رہتا ہوں ،ورنہ کب کا بھاگ چکا ہوتا“۔چاچو پریشانی سے بولے”میرا بھتیجا غائب ہے۔اس کا پتہ کرو وہ کہاں گیا اوپر سے رات سر پر آگئی ہے؟“۔”آؤ میرے ساتھ بابا فضلو کے ڈیرے پر چلتے ہیں ۔
صرف وہی ہماری مدد کر سکتے ہیں“چاچو کے دوست نے کہا۔کچھ ہی دیرمیں وہ سب گاؤں سے ہٹ کر فضلوں کے پاس بنے بابا فضلوکے ڈیرے پر آگئے جہاں ایک بزرگ جائے نماز پر بیٹھا تسبیح کررہا تھا۔
چاچو کا دوست ان کے گھٹنوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور انہیں پوری بات بتائی۔
ساری بات سن کر بابا فضلو نے ان سب کوغور سے دیکھا اور اٹھ کر کھڑے ہو گئے”جلدی چلو اس درخت کے پاس اس سے پہلے کے دیر ہو جائے‘۔وہ سب بابا فضلو کے سنگت میں اندھیرے میں چلتے ہوئے جارہے تھے کے گھن گھرج کے ساتھ موسلادھار بارش بھی شروع ہو گئی۔
بارش کے ساتھ ساتھ زور دار قسم کی بجلی تھوڑی تھوری دیر بعد اندھیرے میں ڈوبے گاؤں کو پر اسراروشنی سے چمکانے کی کوشش کرنے لگی۔وہ سب جب درخت کے پاس پہنچے تو تیز ہوا اور بارش کی وجہ سے درخت کے پتے عجیب سا شور پیدا کررہے تھے۔
فضلو بابا نے جاتے ہی کچھ پڑھ کر اپنے اور ان سب کے اردگرد پھونکا اور گرج دار آواز میں درخت کو مخاطب کرکے بولے”جو کوئی غیر انسانی مخلوق اس وقت درخت پر موجود ہے میرے سامنے آئے ورنہ میں یہ پورا درخت جلاکر بھسم کردوں گا“۔

انہوں نے جب تیسری بار یہ دھمکی آمیز الفاظ دہرائے تو درخت کی ایک شاخ ٹوٹ کر بابا فضول کے پاؤں کے پاس آکر گری ۔بابا نے پاؤں کو ٹھوکر سے اسے خود سے دور کیا اور طیش میں بولے”اگر اب بھی کوئی نا بولاتو میں درخت جلا دوں گا۔
“بابا کی بات سن کر اسی ٹوٹی ہوئی شاخ سے عجیب بھدی سی آواز آئی”ہم نے کیا تکلیف دی ہے کسی کو جو ہمارا گھر جلانا چاہتے ہو“۔شاخ کی بات سن کر بابا فضلو نے اس سے پوچھا”ان شہری بچوں کا ساتھی کہاں ہے؟“فضلو بابا نے پھر کچھ پڑھ کر پھونک ماری تو شاخ سے پھر آواز آئی”اس بچے کے ساتھی نے کہا تھاکہ جن بابا اسے لے جاؤ اس وقت ہمارے گھر ایک بزرگ جن آئے ہوئے تھے ۔
وہ سمجھے یہ شہری بچے شاید کوئی پہنچی ہوئی ہستیاں ہیں اور ہمیں دیکھ رہے ہیں اسی لئے انہوں نے کہا ہے کہ اسے کچھ دیر کے لیے اپنے پاس لے جاؤ یہ ہمیں بہت تنگ کررہا ہے۔تو جن بابا جی بچے کو لے کر کہیں چھوڑ آئے ہیں“۔
فضلو بابا گرج کر بولا”ایک منٹ کے اندربچے کو لے کر آؤ ورنہ تم سمت تمہارے پورے خاندان کو جلا کر بھسم کر دوں گا“۔
وہ لکڑی نظروں سے غائب ہو گئی اور وہ سب حیرت سے ششدر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے کانپ رہے تھے ۔چند لمحوں بعد ہی گھر کے ایک کونے سے عمار کے رونے کی آواز سنائی دی۔وہ سب ادھر بھاگے تو عمر زمین پر لیٹا آنکھوں پر ہاتھ رکھے رورہا تھا۔
سب نے جاکر اسے گلے لگا یا پانی پلایا اور چاچو ان سب کو لے کر اس پر اسرار گھر سے باہرنکل آئے۔جہاں فضلو بابا ان ساؤں سے نجانے کون کون سے حلف لے رہے تھے ۔پیارے بچو!بڑوں کی باتوں کو ماننے میں ہی عافیت ہوتی ہے ۔ان کی باتوں کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

اچھا لباس اچھا شکاری

Acha Libas Acha Shikari

Betakaluf Rishta

بے تکلف رشتہ

Betakaluf Rishta

Mehmaan ALLAH Ki Rehmat

مہمان اللہ کی رحمت

Mehmaan ALLAH Ki Rehmat

Chidiya Ke Bachche

چڑیا کے بچّے

Chidiya Ke Bachche

Gaon Ka Khawab

گاؤں کا خواب

Gaon Ka Khawab

Chirya Ki Kahani

چڑیا کی کہانی

Chirya Ki Kahani

Chalak Mujrim

چالاک مجرم

Chalak Mujrim

Zyada Acha Kon?

زیادہ اچھا کون؟۔۔تحریر:مختاراحمد

Zyada Acha Kon?

بارہ پیٹھے تیرہ لاگی

12 Paithay 13 Laagi

Mehnat Ka Jado

محنت کا جادو

Mehnat Ka Jado

Larka Or Apple Ka Darakhat

لڑکا اور سیب کا درخت

Larka Or Apple Ka Darakhat

Mehnat Karen Kamyabi Payen

محنت کریں کامیابی پائیں

Mehnat Karen Kamyabi Payen

Your Thoughts and Comments