Shararti Pingoo Chota Penguen - Article No. 1044

شرارتی پنگو۔۔۔۔۔۔چھوٹا پنگوئن

حل سمندر پر پہنچ کر وہ تینوں کھیلتے رہے اور پھر کھانا کھا کر پنگو کے والدین تھوڑا آرام کرنے لگے۔ اس دوران ان دونوں کی آنکھ لگ گئی۔ جبکہ پنگو ابھی بالکل بھی نہ تھکا تھا۔ وہ بہت خوش تھااور اس کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ آرام کرے

منگل نومبر

Shararti Pingoo Chota Penguen
وہ کھلے سمندر کی طرف بہتا جا رہا تھا اور مدد کے لیے پکار رہا تھا․․․․․
چھوٹا پنگوئین، پنگو بہت ہی چیخل اور شرارتی تھا۔ اسے کسی جگہ ٹک کر بیٹھنا آتا ہی نہ تھا۔ ایک دفعہ اس کے والدین پنگوئین نے فیصلہ کیا کہ وہ تینوں پکنک پر جائیں۔
ساحل سمندر پر پہنچ کر وہ تینوں کھیلتے رہے اور پھر کھانا کھا کر پنگو کے والدین تھوڑا آرام کرنے لگے۔ اس دوران ان دونوں کی آنکھ لگ گئی۔ جبکہ پنگو ابھی بالکل بھی نہ تھکا تھا۔ وہ بہت خوش تھااور اس کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ آرام کرے۔
اس نے سوچا کہ کیوں نہ میں آس پاس کے ساحل کی سیر کروں اور اچھل کود میں وقت گزاروں ۔ اس نے اپنے چھوٹے ٹیڈی بیئر کو ساتھ لیا اور آس پاس کے علاقوں کے دیکھنے نکل کھڑا ہوا۔ پہلے تو وہ ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گیا اور اونچے ٹیلے سے نیچے کی طرف بیٹھ کر لڑھکنے لگا۔

(جاری ہے)

اور اس طرح اسے بہت مزہ آیا۔ کچھ دیر بعد اس نے سوچا کہ کیوں نہ وہ سمندر کے کنارے چلتا جائے۔ سمندر کا ساحل برف سے بھرا تھا۔ اونچے نیچے برف کے ٹکڑے اور چٹانیں پھیلی ہوئیں تھیں۔ وہ قلانچیں بھرتا ایک سے دوسری برف کی سلوں پر آگے بڑھتا رہا۔
ایک دفعہ اس نے برف کی ایک بڑی سی سل پر چھلانگ لگائی تو اسے زور دار چٹاخ کی آواز آئی۔ پنگو ایک دم سناٹے میں آگیا۔ مگروہ سمجھ نہ سکا کہ کیا ہوا۔ اب جو اس نے اردگرد نظر دوڑائی تو اسے سمجھ آئی کہ ہوا کیا تھا۔ دراصل برف کی یہ چٹان عین اس جگہ سے چٹک کر دو حصوں میں بٹ گئی تھی، جہاں پر پنگو چھلانگ لگا کر اترا تھا۔
آدھے حصے پر پنگو تھا اور آدھی دوسری جانب۔ اس اچانک پیدا ہونے والی صورتحال سے پنگوا یکدم خوفزدہ ہوگیا۔ اس کی بدقسمتی یوں شروع ہوئی درمیان سے ٹوٹی برف کی چٹان کے جس حصے پر وہ کھڑا تھا وہ کھلے سمندر کی طرف بہنا شروع ہوگیا ۔
اس بات پر وہ بہت پریشان ہوگیا۔ اس نے شور مچانا شروع کیا۔ مگر کوئی اس کی مدد کو نہ آیا۔ لیکن پھر جب اس نے بہت مدد۔۔۔ مدد۔۔ مدد۔ کی آواز لگائی تو سمندر سے تیرتے ہوئے دو دریائی گھوڑے اس کے قریب آئے اور پنگو سے پوچھنے لگے کہ کیا ہوا؟ تم ۔
۔۔ کیوں شور مچا رہے ہو؟ اس پر پنگو کی ڈھارس بندھی اور اس نے ان دریائی گھوڑوں کو بتایا کہ معاملہ کیا ہے۔ اس نے بتایا کہ ” مجھے تیرنا نہیں آتا۔۔۔ اب میں کس طرح اپنے ابو امی کے پاس پہنچوں گا۔“ کہتے ہوئے پنگو رونے لگا۔
دریائی گھوڑوں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ پنگو کی کیسے مدد کریں۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد میں ان میں سے ایک بولا۔۔۔ ہم ایسا کرتے ہیں کہ اس برف کی چٹان کو دھکیلتے ہوئے واپس ساحل کی طرف لے جاتے ہیں۔ اور پھر ساحل کے قریب پہنچ کر پنگو چھلانگ مارکر اتر جائے گا۔
“ جتنی آسانی سے اس نے یہ مشورہ دیا تھا اتنا آسان یہ تھا نہیں۔ لیکن اُن دونوں دریائے گھوڑوں نے کافی مشکل تک پہنچا ہی دیا۔ اور پنگو نے ایک چھلانگ ماری اور وہ ساحل پر دھب سے گرا اس نے اٹھ کر خوشی سے دریائی گھوڑوں کا شکریہ ادا کیا اور جلدی جلدی والدین کے پاس لوٹ گیا۔ اور اس نے توبہ کرلی کہ وہ امی ابو کو بتائے بغیر کہیں نہیں جائے گا۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Badshah Bahadur Shah Zafar Ka Hathi

بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا ہاتھی

Badshah Bahadur Shah Zafar Ka Hathi

Bhalo Ki Asharfiyan

بھالو کی اشرفیاں

Bhalo Ki Asharfiyan

Dard Samjhain

درد سمجھیں

Dard Samjhain

Surakh Cover Ki Note Book

سرخ کور کی نوٹ بک

Surakh Cover Ki Note Book

Jadeed Door Ka Shaikh Chili

جدید دور کا شیخ چلی

Jadeed Door Ka Shaikh Chili

Khata Ka Putla

خطا کا پُتلا

Khata Ka Putla

Adal E Jahangiri

عدل جہانگیری

Adal E Jahangiri

Saadi Ne Chirya Gher Dekha

سعدی نے چڑیا گھر دیکھا

Saadi Ne Chirya Gher Dekha

Sachi Khabar

سچی خبر

Sachi Khabar

Wazir Badshah

وزیر شہزادہ

Wazir Badshah

Hame Inaam Nahi Chahiye

ہمیں انعام نہیں چاہیے۔۔تحریر:مختار احمد

Hame Inaam Nahi Chahiye

Aqalmand Wazir K Hasid Dushman

عقلمند وزیر کے حاسد دشمن

Aqalmand Wazir K Hasid Dushman

Your Thoughts and Comments