shareek hayaat

Shareek Hayaat

شریک حیات

ہم بہت دور نکل جاتے ہیں بہت دور بے تکی راہوں پربے تکان چلتے چلتے گرم اور ریتیلے راستوں پر بھٹکتے اور

ایم عاصم مجاہد
ہم بہت دور نکل جاتے ہیں بہت دور بے تکی راہوں پربے تکان چلتے چلتے گرم اور ریتیلے راستوں پر بھٹکتے اور ڈگمگاتے کسی کم ظرف منزل کی طرف کسی ناآشنا مسکن کی جانب اور اس ساری جدوجہد میں راستے کی دھول ہمارے نتھنوں میں چلی جائے ہمیں کوئی پر واہ نہیں ہوتی گرد اور مٹی ہمارے سر کے بالوں سے لے کر ہمارے پاؤں تک کو آلودہ کرڈالے ہمیں شعور اور احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ تو سراب راہیں ہیں جو زندگی میں عذاب ہی عذاب گھول ڈالے گی اور پھر جب افق کے پار حیات کا سورج غروب ہونے لگتا ہے ہماری سانسوں کی بے تر تیبی بد نظمی اور تھکاوٹ ہمارے بدن کی بناوٹ کو بگاڑ کر رکھ دیتی ہے۔

پھر اچانک یہ احساس ہمیں جکڑ لیتا ہے کہ سامنے تو منزل ہے نہ راستہ اور نہ سفر کرنے کی مزید مہلت تمام راستے مسدود اور تمام مہلتیں مغلوب کرکے وقت اپنی بساط سمیٹنے والا ہے ۔

(جاری ہے)


عمر بھر دھیان کہیں باہر بھٹکتا رہا خیالات باہر کسی نامحرم کے تعاقب میں لگے رہے نگا ہیں اپنے اردگرد اپنی منزل کو چھوڑ کر کسی اور سمت جاہ نکلیں اور پھر لوٹ کر کبھی اپنے پہلو میں آہی نہ سکی جو گھر کے برتن مانجھ مانجھ کر اپنے ہاتھوں کو کھردار کر وا چکی ہوں وہ گھر کے فرش پر جھاڑو اور پوچا مار مار کر بڑھاپے کی چوکھٹ پر آن بیٹھی۔


وہ جو دن رات بچوں کو پال پوس کر اپنے وجود کو مٹانے پر تلی ہے تمہاری متلاشی نگا ہیں اس عورت کی طرف کیوں نہ اٹھ سکی وہ جسے دنیا بیوی کہتی ہے جو عمر بھر کی ساتھی کہلاتی ہے وہ جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ان کے بارے میں اللہ سے ڈرو وہ ہی عورت جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کے لیے بہتر ہو اور اللہ کے تقویٰ کے بعد مومن کے لیے نیک بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں وہ ہی عورت جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا تھا۔

چشم فلک تو نے یہ محبت آفرین سماں بھی دیکھا ہے کہ جب حبشیوں کا کھیل دکھانے کے لیے اللہ کے سب سے محبوب انسان نے اپنے کندھے مبارک نیچے کیے اورحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ مبارک پر اپنا چہرہ رکھ کر وہ کھیل دیکھا آج ہم بھی غور کریں کہ کیا کبھی اپنی بیویوں کی اس طرح دل جوئی کرنے کی سنت ادا کی ہے محبتوں کا یہ منظر ہم نے بھی اپنے گھروں میں پیدا کیا ہے ۔

چاہتوں کا وہ جذبہ کتنا شدید تھا کہ دنیا سے رخصتی کے وقت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی چبائی ہوئی مسواک منہ میں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دانت مبارک صاف کیے داعیان حب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غور کریں کبھی ہم نے بھی اپنی بیویوں کی چبائی ہوئی مسواک استعمال کی ہے ۔

اپنی زندگی کو انتہائی خشکی اور سکری میں مبتلا کردینے والو سنو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ دوڑ بھی لگائی لیکن ہم کسی اور سمت نکل گئے وہ اسوہ جو ہمارے لیے نمونہ تھا اس کے کسی ایک پہلو کسی ایک حصے کی بھی ہم سے تکمیل نہ ہو سکی معمولی سی غلطی اور چپقلش پر ہم نے اپنی ساری زندگی کا حسن وار دینا گوارا کر لیا مگر سبب تلاش کرنے کی زحمت گوارہ نہ کی ہو سکے تو سبب تلاش کرو۔

یوں ہی کوئی خفا نہیں ہوتا ہم نے اپنے جیون ساتھی کی محبت سے ایسی پہلو تہی برتی کہ اسے سرے سے ہی زندگی سے نکال ڈالا وہ ایک ایسا ہی جنون تھا جو خود لڑ جھگڑ کر بیوی کو بس میں بیٹھا کر لوٹ آیا اور سالوں بیت جانے کے بعد بھی بیوی نہ آئی نہ وہ لینے گیا۔
وہ اب بھی بس میں بیٹھی سسک رہی ہوگی ۔میں اپنا ہاتھ ہوا میں لہرا کر لوٹ آیا۔
وہ جو آ پ کے گھر کی ملکہ اور رانی ہے اسے وہ توجہ نہ دی جا سکی جس کی وہ حقدار تھی اور خود کسی اور کے تعاقب میں مارا مارا پھر رہا ہے میں مانتا ہوں کہ بعض عورتوں کی زبان صرف چلتی ہی نہیں بلکہ سرپٹ بھاگتی ہے مگر محض اس غلطی پر اپنے جیون ساتھی سے سر موا غران برت لینا بھی تو ازدواجی رشتے کی تو ہین کے مترادف ہے اور اس بات کو جواز بنا کر کسی نا معلوم منزل کی طرف نکل پڑنا بھی خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ۔

محبت کی بہار آئی اور خالی گئی آکر
حصار بد گمانی سے تم نکلے نہ ہم نکلے
یہ ہم کہاں نکل آئے ہیں ہماری حقیقی محبت کا ڈیل ڈول تن وتوش بالکل بھدا ہو کر بے روا کاری کا شکار کیوں ہو گیا ہم جانتے ہوئے کسی عذاب نگری کے مسافر کیوں بن رہے ہیں اس سے پہلے کہ زندگی کا سورج آخری سانس بھرے اس سے پہلے کہ سانسوں کی آمد رک جائے اس سے پہلے کہ زندگی کا آفتاب ڈوبنے لگے ۔
اپنی گمراہ محبتوں کو روک لیجیے خدا کے لیے اگر آپ کا اپنا جیون ساتھی آپ سے روٹھ چلا ہے تو پلیز اسے ایک بار کہہ دیجیے۔
بن تمہارے تو حل نہیں ہوں گے
ہم سے یہ مسئلے محبت کے
کتنے ہی لوگوں کی اس روش اور ڈگر پر چلتے چلتے زندگیاں ختم ہو گئیں انہوں نے شریک حیات کو کبھی اہمیت دی نہ محبت ان کی زندگیوں میں کبھی ایسے پارسا جذبات اُگ بھی آئے تو انہوں نے اندر ہی اندر اپنے جذبات کا گلا دبا کر اُن کو اپنے وجود میں دفن کرلیا۔

اور کسی غیر محرم کے پیچھے اپنی زندگی کو بر باد کرلیا خدا کے لیے اپنے مثبت جذبات پر قابو مت رکھیں آج میری بات مان لیجیے چاہے آپ کا ہمسفر آپ کی زندگی کا ساتھ آپ سے ناراض ہے یا خوش آپ ایک تحفہ لیجیے اور اپنی بیوی کے نام کر دیجیے ایک بے کراں محبتوں کا سمندر آپ کے دل میں ٹھا ٹھیں مارے گا اور آپ کو اپنی بیوی کی وہ تمام خوبیاں نظر آئیں گی جو آپ کے خیال نگر سے گزری نہیں۔

اس قدر بھی تو نہ جذبات پر قابو رکھو عاصم
تھک گئے ہو تو میرے کندھے پر سر رکھو

Your Thoughts and Comments