Shehzadi Dhanak Ki Salgirah - Article No. 1821

شہزادی دھنک کی سالگرہ

آج ہم شہزادی دھنک کی کہانی سنیں گے

جمعہ اکتوبر

Shehzadi dhanak ki salgirah
آمنہ کوثر
شام کا وقت ہو رہا تھا اور سب بچے بہت خوش تھے کیونکہ انھیں روزانہ کی طرح دادی اماں سے کہانی سننی تھی۔ابھی سب رات کے کھانے سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ سب بچے بھاگ کر دادی کے کمرے میں جا پہنچے۔
سب لوگ بچوں کو جاتے ہوئے حیرت زدہ نظروں سے دیکھنے لگے کہ آخر بچوں کو ہو کیا گیا ہے۔شام ہوتے ہی نہ گیمز کی لڑائی ٹی وی ریمورٹ پر مارا ماری۔دادی اماں بولیں”یہ سب کہانیوں کا کمال ہے۔بچے قدرت سے دور ہو چکے تھے۔انھیں کہانیوں کی دنیا کا پتہ ہی نہ تھا۔
اب یہ کہانی کی دنیا کے شوق میں باقی سب چیزوں کو بھول جاتے ہیں“۔پھوپھو بولیں”اوہ تو یہ سب کہانی کے چکر میں آپ کے کمرے میں جا پہنچتے ہیں“۔دادی اماں مسکرائیں ۔دادی اماں جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئیں وہاں پر پہلے سے جمع فوج نے شور مچانا شروع کر دیا۔

(جاری ہے)

”دادی اماں آج ہم کون سی کہانی سنیں گے۔دادی اماں آج ہم کونسی کہانی سنیں گے۔“دادی اماں مسکرائیں”پیارے بچو!آج ہم شہزادی دھنک کی کہانی سنیں گے۔“
سب بچے ایک زبان بولے ”شہزادی دھنک کی کہانی“۔دادی اماں بولیں”ہاں بچو!شہزادی دھنک کی کہانی۔
“پھر دادی اماں نے شہزادی دھنک کی کہانی سنانی شروع کی۔”یہ کہانی ہے عالیہ کی جو اپنے گھر کی بہت لاڈلی ہے۔عالیہ کو دھنک بہت پسند ہے اس لئے سب اسے شہزادی دھنک کے نام سے بلاتے ہیں۔آج اس کی سالگرہ ہے اور وہ بہت افسردہ ہے کیونکہ کسی نے اسے سالگرہ کی مبارکباد نہیں دی۔
اسے امید تھی کہ میرے صبح اٹھتے ہی سب مجھے سالگرہ کی مبارکباد اور تحفے دیں گے لیکن کسی نے ایسا نہیں کیا۔البتہ کسی کو شاید میری سالگرہ یاد ہی نہیں۔“بشریٰ متجسس ہوئی”دادی یہ دھنک کیا ہوتی ہے“۔دادی نے کہا”دھنک کا دوسرا نام قوس قزح ہے۔
انگلش میں ہم اسے Rainbowکہتے ہیں۔ دھنک سات رنگوں سے مل کر بنتی ہے جس میں سرخ،مالٹائی،پیلا،نیلا،جامنئی،سبز اور گہرا نیلا شامل ہیں۔جب بارش کے قطرے فضا میں ہوتے ہیں اور سورج کی روشنی ان پر سے گزرتی ہے تو سات رنگوں کی ایک کمان آسمان پر بن جاتی ہے۔
اسے دھنک کہتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دھنک آسمان پر واقعی موجود نہیں ہوتی مگر یہ دیکھنے والے کی جگہ پر منحصر ہوتا ہے۔
نیوٹن نے اس بات کو ثابت کیا کہ سفید روشنی دھنک کے سات رنگوں سے مل کر بنتی ہے۔بچو!کیا آپ کو پتہ ہے کہ دھنک ایک نہیں بلکہ مختلف انداز میں ترتیب پاتی ہے۔
اسے”دھنک کے ذائقوں“ کا نام دیا جاتا ہے۔“عقیل کہنے لگا”دادی مجھے بھی یہ دھنک دیکھنی ہے۔“ دادی مسکرائیں”بچو!ہم دھنک کو ہر وقت نہیں دیکھ سکتے۔“مناحل گڑ بڑائی”تو دادی اماں پھر ہم کب دیکھیں گے دھنک کو۔
“ارحم کہنے لگا کیا میں صبح صبح اٹھ کر دھنک کو دیکھ سکتا ہوں۔“زینب کہنے لگی”ہاں تم کبھی بھی دیکھ سکتے ہو۔تم تو دھنک شہزادے ہونا!۔“قہقہے گونجنے لگے۔ دادی اماں بولیں”نہیں بچو!عموماً جب آدھے آسمان پر بادل ہوں اور آدھا آسمان صاف ہو تو آسمان پر دھنک بنتی ہے۔
لیکن جیسے کہ میں نے بتایا ہے اسے ہر جگہ نہیں دیکھا جا سکتا۔یہ جگہ پر منحصر ہوتا ہے کہ روشنی وہاں سے کس زاویے سے گزر رہی ہے۔“
بشریٰ کہنے لگی”دادی شہزادی دھنک کی سالگرہ کا کیا بنا۔“دادی کہنے لگیں ”عالیہ پریشان حال میں ہی سکول چلی گئی۔
سکول بھی اس کی کسی دوست نے اسے مبارکباد نہ دی۔سکول سے واپسی پر وہ اپنی نانی اماں کے گھر چلی گئی۔وہاں بھی کسی کو عالیہ کی سالگرہ یاد نہ تھی۔عالیہ بہت اداس ہو گئی۔‘ارحم نے پوچھا”دادی کیا عالیہ سے کوئی پیار نہیں کرتا۔
“دادی مسکرائیں”نہیں بچو ایسی بات بالکل نہیں۔“سب پوچھنے لگے”تو پھر کسی کسی کو عالیہ کی سالگرہ یاد کیوں نہیں۔“دادی کہنے لگیں یہ تو کہانی کے آخر میں پتہ چلے گا۔“سب خاموش ہو گئے۔دادی نے کہانی کو آگے بڑھایا۔
”عالیہ سارا دن اداس پھرتی رہی اوریہ سوچتی رہی کہ کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا کسی کو میری سالگرہ یاد نہیں۔اب میں کسی سے بات نہیں کروں گی لیکن جب رات کو وہ ماموں کے ساتھ گھر واپس آئی تو حیران رہ گئی۔سب لوگ پہلے سے گھر میں موجود تھے۔
نانی لوگ،کنزنز اور اس کی دوستیں سب نے بلند آواز کہا”Happy birthday Dhanak shehzadi“۔عالیہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ سب کو میری سالگرہ یاد تھی۔گھر کو سب نے اتنا اچھا سجایا ہوا ہے اور کیک پر دھنک بنی ہوئی ہے۔یوں سب نے عالیہ کو سر پرائز دیااور اس کی ساری اداسی غائب ہو گئی۔
“بشریٰ کہنے لگی”دادی اماں میری سالگرہ بھی ایسے ہی کرنا آپ۔“سب ہنسنے لگے۔ارحم کہنے لگا”مجھے تو دھنک دیکھنی ہے جب بارش کا موسم ہو گا میں ضرور دیکھوں گا۔“سب بچے کہنے لگے”ہم بھی دیکھیں گے۔“دادی اماں کہنے لگیں”چلو اب بہت رات ہو گئی ہے سب بچے جا کر سو جاؤ۔“سب بچے سونے چلے گئے اور دادی اماں خوش ہو گئیں کہ بچے قدرت کی قریب آرہے ہیں۔
دور تک کوئی نہ آیا ان رتوں کو چھوڑنے
بادلوں کو جو دھنک کی چوڑیاں پہنا گئیں

مزید اخلاقی کہانیاں

Dunya K Chaand Zaheen Tareen Janwar

دنیا کے چند ذہین ترین جانور

Dunya K Chaand Zaheen Tareen Janwar

Aqalmand Gadha

عقلمند گدھا

Aqalmand Gadha

Teesra Kamra

تیسرا کمرہ ۔ تحریر: مختار احمد

Teesra Kamra

Be Behra

بے بہرہ

Be Behra

Nanhay Mian Ki Tobah

ننھے میاں کی توبہ

Nanhay Mian Ki Tobah

Munni Ke Jute

مْنّی کے جوتے۔۔تحریر:مختار احمد

Munni Ke Jute

Mohammad SAW Hamare Bari Shaan Wale

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارے بڑی شان والے

Mohammad SAW Hamare Bari Shaan Wale

Kanjoosi Ki Saza

کنجوسی کی سزا

Kanjoosi Ki Saza

Mehnat Ka Jado

محنت کا جادو

Mehnat Ka Jado

Panda

پانڈا

Panda

Aam K Aam

آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔۔۔تحریر:مختار احمد

Aam K Aam

Burd Baari

برد باری

Burd Baari

Your Thoughts and Comments