MENU Open Sub Menu

Shikar Tamasha

Shikar Tamasha

شکار تماشا

جانے وہ کیسی گھڑی تھی کہ میں نے سہراب بابوکے ساتھ شکار کا پروگرام بنا لیا ۔ ان کے ایک دوست مرزا حشمت بیگ ایک ریاست کے نواب ہیں۔

جاوید اقبال:
جانے وہ کیسی گھڑی تھی کہ میں نے سہراب بابوکے ساتھ شکار کا پروگرام بنا لیا ۔ ان کے ایک دوست مرزا حشمت بیگ ایک ریاست کے نواب ہیں۔
سہراب بابو بولے: میاں ریاست کے ساتھ گھان جنگل ہے۔
شیر، ہاتھی ، ہرن، نیل گائے، بارہ سنگھاجو چاہے شاکر ونہ پر مٹ کا چکر، نہ پولیس کاکھٹکا۔ ابھی ہم نواب حشمت بیگ کی حویلی جارہے ہیں۔ تم دیکھنا وہ خود شکار کے لیے تیار ہوجائیں گے۔
لالچ میں میری بھی عقل ماری گئی۔ سوچا چلو نواب صاحب کی مہمان داری کالطف بھی اُٹھائیں گے اور شکار کا شوق بھی پورا ہوجائے گا۔
جھٹ پٹ تیاری کرلی، چادریں، بستر، ہتھیار سب سہراب بابو کی موٹر گاڑی میں ٹھونس دیا اور پھر گاڑی میں بیٹھ کرروانہ ہوئے۔
کہتے ہیں کہ چلتی کانام گاڑی، مگر سہراب بابوکی گاڑی بھی انہی کی طرح تاریخ نوادر میں سے ایک تھی۔ قدم قدم پہ اڑیل ٹٹوکی طرح رک جاتی۔
سہراب بابوکبھی انجن کا ڈھکنا اٹھا کر پانی ڈالتے، کبھی مجھ سے کہتے نیچے اُتر کر دھکالگاؤ۔ یوں گاڑی چند کلو میٹر چل جاتی۔ خدا خدا کرکے یہ سفر ختم ہوااور ہم نواب صاحب کی ریاست جاپہنچے۔
سہراب بابو نے گاڑی حویلی کے بڑے سے دروازے کے آگے جاروکی۔
ملازموں کے ایک ہجوم نے ہمارا استقبال کیا۔ وہ سب سہراب بابو کو جانتے تھے۔ ہماری خوب آؤ بھگت ہوئی۔ رات کو نواب صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ خوب موٹے تازے، لمبے قد کے نواب صاح بڑی خوشی دلی سے ملے۔ رات کے کھانے کے بعد گپ شپ بھی ہوئی۔
نواب صاحب کہنے لگے: سہراب بابو! اپنے دوست سے کہیے ہمیں بھی شکار پر ساتھ لے چلیں۔
ضرور لے چلیں گے نواب صاحب! سہراب بابو فوراََ بولے۔
لیکن ہمیں بندوق چلانی نہیں آتی۔ نواب صاحب نے کہا۔
آپ کی بندوق چلانی نہیں آتی؟ حیرات کے مارے میرے منھ سے نکل گیا۔

بھئی ہمارے بزرگ توتیروتلوار کے ماہرتھے، مگر ہمیں ان آتشی گولوں سے کبھی دل چسپی نہیں رہی۔ ہمیں تو کنکوا (پینگ) اُڑانے کاشوق ہے۔ بڑے بڑے پتنگ بازوں کے پیچ کاٹے ہیں ہم نے۔ نواب صاحب نے بڑے فخر سے بتایا۔
میں نے سہراب بابو کی طرف دیکھا۔
انھوں نے اشارہ کیا کہ بس سنتے جاؤ، پھرنواب صاحب بولے: نواب صاحب آپ فکر نہ کریں۔ ہم آپ کوبندوق چلانا سیکھا دیں گے۔
نواب صاحب یہ سن کر خوش ہوگئے۔ رات کوجب ہم سونے کے کمرے میں تھے تو میں نے پوچھا: سہراب بابو! کیا ہوگا۔
بولے: میاں! تم فکر کیوں کرتے ہو۔
میں سب سنبھال لوں گا۔
مگر آپ کیا سنبھالیں گے۔ نواب صاحب کو توبندوق چلانا بھی نہیں آتی ۔ شکار کیسے ہوگا؟ میں نے خدشہ ظاہر کیا۔
وہ بولے: میاں! صبح تم نواب صاحب کانشانہ بازی میں ذرا ہاتھ سیدھا کردو، پھر دیکھتے جاؤ کیا ہوتا ہے۔

دوسرے دن سہراب بابو تو بہانہ کرکے کہیں غائب ہوگئے اور میں اکیلا پھنس گیا۔ حویلی میں زوروشور سے شکار کی تیاریاں شروع ہوگئی تھیں۔ دوپہر تک نواب صاحب مجھ سے نشانہ لگانا سیکھتے رہے، مگر ان سے ایک نشانہ بھی ہدف پر نہ لگا۔
سہ پہر کے وقت سہراب بابو بھی آپہنچے۔ ادھر سب تیاریاں مکمل ہوگئی تھیں۔ ہم بہت سارے ملازموں کے جھرمٹ میں جنگل کی طرف چل پڑے۔
جنگل کے کنارے پر سہراب بابو نے دودرختوں پر مچانیں بندھوادی تھیں۔ بھاری بھر کم نواب صاحب کو بڑی مشکل سے مچان پر پہنچایا گیا۔
میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ دوسرے مچان پر سہراب بابو بیٹھ گئے۔ سب ملازم ادھر اُدھر چھپ گئے۔
ہم شیر کا انتظار کرنے لگے۔انتظار کرتے کرتے رات ہوگئی اور چاند نکل آیا۔ نواب صاحب بولے: بھئی شیر کب آئے گا۔
مگر میں حیران کہ شیر جنگل کے اس کنارے پہ آئے گاکیسے۔
اتنے میں جھاڑیوں میں سرسراہٹ ہوئی اور پیلے رنگ کی کھال پر سیاہ ڈھاریوں والا جھاڑیوں سے نکل کر سامنے آگیا۔
سہراب بابو نے کہا: نواب صاحب گولی چلائیں۔ نواب صاحب نے بندوق سیدھی کی اور گولی چلادی، مگر گولی شیر کولگنے کی بجائے آسمان کی طرف نکل گئی۔

اور گولی چلائیں۔ سہراب بابو کی آواز آئی۔
نواب صاحب نے پھر گولی چلائی۔ اس دفعہ گولی حیرت انگیزطور پر شیر کو جالگی۔ سارا جنگل نعروں سے گونج اٹھا، مگر میں حیران تھا کہ پہلی گولی چلنے کے بعد شیر بھاگا کیوں نہیں۔ نیچے اتر کے دیکھا سچ مچ کا شیر مرا پرا تھا۔

اس کامیابی پر حویلی میں خوب جشن منایا گیا۔ دوست احباب کی خوب دعوتیں ہوئیں کافی دنوں بعد ہمیں واپس جانے کی اجازت ملی۔ راستے میں، میں نے پوچھا سہراب بابو! یہ سب کیا ڈراما تھا۔
ہنس کربولے: میں نے سارا منصوبہ رات کو ہی بنالیا تھا۔
قریبی شہرکے چڑیا گھر کاانچارج میرا دوست ہے۔ اس سے ایک بھس بھرا شیر اور ایک بوڑھا شیر سستے داموں خریدلیے۔ نواب صاحب کے سب ملازم میرے اعتماد والے ہیں۔ جھاڑیوں کے پیچھے چھپے ملازموں نے بُھس بھرا شیر جھاڑیوں سے آگے سرکایا اور خود پیچھے ہٹ گئے۔
پھرنواب صاحب کے درخت سے نیچے اُترتے اترتے بھس بھُس بھرا شیر ہٹاکر پہلے سے مارا ہوشیر وہاں رکھ دیا گیا۔ میاں تھوڑے پیسے خرچ ہوگئے، مگر نواب صاحب کو خوش کرنا تھا، وہ خوش ہوگئے۔ اب ایسا چکر چلاؤں گاکہ دُگنے پیسے وصول ہوجائیں گے۔

Your Thoughts and Comments