Soone Ka Dewana Badshah

سونے کا دیوانہ بادشاہ

کافی عرصے پہلے ایک ملک پر بہت خوبصورت بادشاہ کی حکومت تھی ۔اس بادشاہ کا نام ”مائیڈس“تھا۔اس بادشاہ کے پاس بے حساب سونا تھا جس سے وہ شہروں کے شہر خرید سکتا تھا۔وہ اپنے سونے کو جان سے بھی زیادہ چاہتا تھا۔

ہفتہ جولائی

Soone Ka Dewana Badshah
زینب مغل
کافی عرصے پہلے ایک ملک پر بہت خوبصورت بادشاہ کی حکومت تھی ۔اس بادشاہ کا نام ”مائیڈس“تھا۔اس بادشاہ کے پاس بے حساب سونا تھا جس سے وہ شہروں کے شہر خرید سکتا تھا۔وہ اپنے سونے کو جان سے بھی زیادہ چاہتا تھا۔
کسی کو بھی نہیں پتا تھا کہ اس کے پاس اتنا سونا کہاں سے آتا ہے۔بادشاہ اپنا سارا سونا محل کے تہہ خانے میں رکھا کرتا تھا۔وہ ہر روز وہاں جاتا تھا اور سونے کی اشرفیاں اور سونے کی اینٹوں کو گنتا تھا۔رانی بادشاہ کی اس حرکت کو دیکھتی اور اس کا مذاق اڑاتی تھی اور کہتی بادشاہ سلامت!روز روز اپنا سونا مت گنےئے کیا ہوا اگر یہ کچھ گھٹ بھی گئے تو۔

بادشاہ کہتا آپ اس طرح مذاق کیسے اڑاسکتی ہیں آپ کو اندازہ بھی ہے کہ یہ سونا کتنا بیش قیمتی ہے ذرا غور سے دیکھئے اس ہار کو جو آپ نے پہنا ہے کیا یہ خوبصورت نہیں ہے دیکھئے کتنا چمک رہا ہے یہ۔

(جاری ہے)

رانی بولی جی ہاں یہ واقعی بہت خوبصورت ہے بھلے ہی یہ بیش قیمتی ہوں مگر ہمارے لےئے خوشیاں تو نہیں خرید سکتے۔


بادشاہ بولا یہ میرے لےئے خوشیوں کا باعث ہے تم کبھی نہیں سمجھو گی ،بھلا اس سے بھی خوبصورت کوئی چیز ہو سکتی ہے دنیا میں۔رانی بادشاہ کی بات سے اتفاق نہیں کرتی تھی مگر وہ جانتی تھی کہ بادشاہ سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔
بادشاہ کی سونے کی چاہ دن بدن بڑھتی جارہی تھی۔اس کو سونے سے اتنی محبت تھی کہ اس نے اپنی بیٹی کا نام”میری گولڈ“رکھ دیا۔میری گولڈ بہت ہی زندہ دل تھی۔ہر چھوٹی چیز میں خوبصورتی دیکھ لیتی تھی۔وہ ہمیشہ اپنے ابا سے کہتی ،اباجان!یہ دیکھئے کتنے خوبصورت پھول ہیں،دیکھئے شبنم کیسے گھاس پر چمک رہی ہے ۔
بادشاہ کہتا پھر بھی یہ سونے جیسا چمک دار نہیں ہے بیٹا! آپ نہیں سمجھو گی۔اپنی ماں کی طرح میری گولڈ بھی نہیں سمجھ پائی کہ سونا پھول سے زیادہ حسین کیسے ہو سکتاہے۔
یوں ہی وقت گزر تا گیا۔اب بادشاہ اپنا زیادہ تر وقت اکیلے تہہ خانے میں گزارنے لگا۔
وہ اپنے سونے کو بار بار گنتا اور گنتا رہتا۔
ایک دن سپاہی بادشاہ کی ملاقات کرانے کیلئے ایک اجنبی شخص کو لے کر دربار میں حاضر ہوا۔وہ شخص بہت ہی سادا سا لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔بادشاہ نے یہ بھی دیکھا کہ اس کے پیروں میں کوئی بھی چپل نہیں تھی ۔
بادشانے پوچھا کون ہے یہ شخص؟
عالی جاہ!یہ شخص ہمیں سڑک پر بھٹکتا ملا اس نے کہا میں بھٹک گیا ہوں میرے پاس رہائش کی کوئی جگہ نہیں۔
۔۔۔ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی ہمارے شہر کانہ ہو تم نے کہا یہ بھٹک گیا ہے اس کے رہنے کا انتظام کرو اور جب تک اس کا گھر نہ مل جائے یہ ہمارا مہمان رہے گا۔

دن گزرتے گئے بادشاہ صرف اتنا جانتا تھا کہ خاموش بوڑھا شخص ایک اجنبی ہے بادشاہ کو اس بات کا بالکل بھی علم نہیں تھا کہ یہ جنگل کے جن کا دوست ہے ۔بہر حال اس شخص کا شاہی طریقے سے خیال رکھا گیا اسے سب کچھ مہیا ہو جاتا جس کی وہ مانگ کرتا ۔
کچھ ہفتوں کے بعد سپاہیوں نے اس کے گھر کا پتہ لگا لیا۔اس مہمان کا اپنے گھر رخصت ہونے کا وقت آگیا۔
اسی رات بادشاہ تہہ خانے میں سونا گننے میں مصروف تھا۔تبھی اچانک وہاں جنگل کاجن نمودار ہوا۔
بادشاہ اسے دیکھ کر بہت حیران ہوا اور بولا کہ تم کون ہو اور یہاں کس لیے آئے ہو۔

جن بولا میں جنگل کا جن ہوں مائیڈس۔
آپ میرے نام سے کیسے واقف ہیں؟بادشاہ اور زیادہ حیران ہو کر بولا،کیا آپ میرا سونا چرانے آئے ہیں۔
جنگل کا جن ہنسا اور بولا میں سونے کا کیا کروں گا یہ میرے کسی کام کا نہیں میں تمہیں شکریہ کہنے آیا ہوں۔
کس بات کا شکریہ۔
وہ بوڑھا شخص میرا دوست ہے جس کا تم نے بہترین خیال رکھا ہے میں تمھاری میز بانی سے بہت خوش ہوں،میں تمھاری کوئی ایک خواہش پوری کرنے آیا ہوں ،بتاؤ تمہیں کیا چاہئے؟
بادشاہ کو اپنے کانوں پر بھروسہ نہیں ہوا کہ وہ کچھ بھی مانگ سکتا ہے اور وہ جانتا تھا کہ اسے کیا چاہئے وہ بولا مجھے سونے سے بھرا ایک جہاز چاہئے نہیں سونے سے بھرا ہوا پورا گھر چاہئے نہیں یہ بھی کافی نہیں ،مجھے پتا ہے مجھے کیا چیز خوش رکھ سکتی ہے ۔
مجھے سونے کی چھوون دے دو میں چاہتا ہو کہ میں جس چیز کو ہاتھ لگاؤں وہ خالص سونا بن جائے۔
جن بولا میں تمھاری خواہش پوری کرنے کا وعدہ کرتا ہوں ،کل جیسے ہی سورج طلوع ہو گا جس چیز کو بھی تم ہاتھ لگاؤ گے وہ خالص سونے میں تبدیل ہو جائے گی پر یاد رکھنا بادشاہ تمہاری یہ خواہش تمھیں خوش نہیں رکھ پائے گی سونا ساری خوشیاں نہیں خرید سکتا۔

بادشاہ ہنسا اور دل ہی دل میں بولا اس جنگل کے فرشتے کو سونے کی قیمت کیسے پتا چلے گی،میں اب ساری دنیا کا سب سے امیر اور خوش حال شخص بن جاؤں گا۔
بادشاہ خوشی کے مارے ساری رات سو نہیں پایا وہ شدت سے صبح ہونے کا انتظار کررہا تھا۔
صبح ہوئی بادشا ہ بہت بیتاب تھا یہ جاننے کیلئے کہ اس کے چھونے سے چیزیں سونے میں تبدیل ہوتی ہیں یا نہیں اس نے اپنے بستر کو ہاتھ لگایا تو وہ سونے میں تبدیل ہو گیا۔پھر بادشاہ ہر اس چیز کو چھونے لگا جہاں
تک اس کا ہاتھ جا سکتا تھا۔

اب مجھے اپنا سونا چھپانے کی ضرورت ہی نہیں،بادشاہ بڑ بڑاتے ہوئے بولا۔
چلو باہر چلتے ہیں پوری جگہ کو سونے میں تبدیل کرتے ہیں بادشاہ بڑ بڑاتے ہوئے باہر نکل گیا اور وہ ہر چیز کو چھوتا جاتا اور وہ سونے میں تبدیل ہوتی جاتی،پھر وہ باغ میں جا پہنچا اور ہر ایک درخت اور پودے کو چھو کر سونے کا بنادیا۔

میں جگہ جگہ بھاگ کر تھک گیا ہوں میرے پاس پوری سلطنت باقی ہے سونے میں بدلنے کیلئے ،مجھے اپنی سلطنت کو دکھانا ہو گا کہ میں کس طرح ہر چیز کو سونے میں تبدیل کردیتا ہوں لیکن ابھی مجھے بھوک لگی ہے پہلے کچھ کھا لیتا ہوں، بادشاہ یہ کہتا وہاں واپس محل چلا آیا۔
دستر خوان پر بہت سے کھانے سجے ہوئے تھے صرف بادشاہ کیلئے اور جیسے ہی اس نے پانی پینے کیلئے گلاس کوہاتھ لگایا تو وہ سونے میں تبدیل ہو گیا ۔
بادشاہ یہ دیکھ کر بہت پریشان ہو گیا۔
اس کے اندر کا پانی کہاں گیا مجھے بہت پیاس لگی ہے ،اس نے جیسے ہی کھانے کیلئے کسی چیز کو ہاتھ لگایا تو وہ بھی سونے میں تبدیل ہو گئی ،اب بادشاہ بہت ہی خوفزدہ ہو گیا۔
اوہ اب میں کیا کھاؤں گا مجھے سخت بھوک لگی ہے،میں سونا کھا اور پی تو نہیں سکتا ،کیا دنیا کا سب سے امیر بادشاہ بھوک سے مر جائے گا۔بادشاہ بہت غمگین ہو گیا وہ وہاں رکھی ساری غذا کو دیکھتا رہا جو سونے کی بن چکی تھی اور اب اس کے کسی کام کی نہیں تھی تبھی اس کی بیٹی باہر سے دوڑتی ہوئی اندر آئی اور اس سے پہلے کی بادشاہ کچھ سوچ پاتا اس کی بیٹی دوڑتی ہوئی اس کے گلے لگ گئی اور جیسے ہی بادشاہ نے اسے دور کرنے کیلئے ہاتھ لگایا تو وہ بھی سونے میں بدل گئی۔

نہیں‘میری گولڈ میری بیٹی یہ کہتے ہوئے بادشاہ زور زور سے رونے لگا۔
میری گولڈ اب ایک چمکدار خوبصورت مجسمے میں تبدیل ہو چکی تھی جو خوبصورت تھا مگر بے جان تھا وہ ہل جل نہیں سکتی تھی بادشاہ یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا اس کی عزیز بیٹی اس کے پاس ہو کر بھی اس کے ساتھ نہیں تھی۔

اوہ‘نہیں ،یہ میں نے کیا کردیا میری گولڈ ،مجھے اس طرح کی خوشی نہیں چاہئے ،بادشا ہ زاروقطار رونے لگاوہ شہر جانے کی طرف دوڑا تاکہ وہ جنگل کے جن سے مدد لے سکے ،اس نے تہہ خانے میں پہنچ کر زور زور سے جن کو پکارنا شروع کر دیا چند ہی لمحوں بعد وہاں جنگل کا جن نمودار ہوا اور بادشاہ کو مخاطب ہو کر بولا،کیا مسئلہ ہے ؟تم نہایت ہی غمگین نظر آرہے ہو ابھی تو کچھ ہی وقت گزرا ہے تمھاری خواہش کو پورا ہوئے کیا تمھاری کوئی دوسری خواہش ہے ؟
اوہ خدایا ! میں آ پ کے سامنے معافی کی بھیگ مانگتا ہوں ایسی خوشی کس کام کی جو مجھے میری بیٹی سے جدا کردے میں ان چیزوں کا کیا کروں گا جو خالص سونے کی بنی ہیں ،میں انہیں کھا بھی نہیں سکتا میں سونے کے پانی کا کیا کروں جو میری پیاس نہیں بجھا سکتا ،میری اصلی خوشی تو میری بیٹی ہے پر اب وہ کچھ بول نہیں سکتی میں ایسے خالص سونے کا کیا کروں جس نے میری بچی کی مسکان چھین لی،مہربانی کر کے میرا سارا سونا لے لیجئے میرا سب کچھ لے لیجئے بس میری بیٹی میری گولڈ مجھے لوٹا دیجئے میں اب سمجھ گیا ہو سونا ساری خوشیو ں کو خرید نہیں سکتا۔
جن بادشاہ کی بات سن کر بولا اے بادشاہ تم نے آج ایک اصل حقیقت سمجھ لی سونا ایک دن چلا جائے گا انسان کیلئے ضروری ہے وہ ہے سچا پیار اور اپنوں کا اپنا پن جو کبھی نہیں مرتا یہ کہہ کر جن نے بادشاہ کو پانی سے بھری ایک بوتل دی اور کہا یہ بوتل جادوئی پانی سے لبریز ہے اس کے کچھ قطرے ان چیزوں پر چھڑ ک دو جو سونا بن چکی ہیں جا دوئی پانی سے وہ چیزیں پہلے جیسی ہو جائیں گی۔

بادشاہ نے جن سے وہ بوتل لی اور بولا شکریہ بہت بہت شکریہ۔پھر بادشاہ جادوئی پانی کو لے کر اپنی بیٹی کے پاس بھاگا اور جلد ی سے کچھ قطرے اپنی بیٹی پر چھڑ ک دےئے ،قطرے پڑتے ہی میری گولڈ میں جان آگئی ،بادشاہ نے اپنی بیٹی کو بانہوں میں بھر لیا۔
اباجان !یہاں کیا ہوا تھا کچھ نہیں میری بچی میں اب سب کچھ ٹھیک کردوں گا،پھر بادشاہ نے کچھ قطرے کھانے کی ان اشیاء پر ڈال دیے جو سونے کی بن چکی تھیں،پھر وہ اپنی بیٹی کولے کر باغ میں گیا اور اس جادوئی پانی کے قطرے درختوں اور پودوں پر ڈالنے لگا،بادشاہ نے پہلی بار قدرتی مناظر کو دل سے محسوس کیا۔
ساری چیزوں کو اپنی اصلی قدرتی شکل میں تبدیل کرنے کے بعد بادشاہ اپنی بیٹی اور بیوی کے ساتھ ناشتے کی میز پر رکھی وہ اشیاء کھانے لگا جو وہاں موجود تھیں۔اس سے پہلے بادشاہ کو ناشتہ اتنا لذیذ پہلے کبھی نہیں لگا تھا اس نے بہت سا پانی پیا اور اپنی پیاس کو بجھایا ۔
بادشاہ کی بیٹی اور اس کی بیوی دونوں اس نظارے کو دیکھ کر حیران ہورہی تھیں۔اب بادشاہ نے سونا گننا بند کر دیا تھا جو اس نے تہہ خانے میں محفوظ کررکھا تھا وہ اب اپنا وقت اپنی بیٹی اور بیوی کے ساتھ گزارنے لگا۔اب وہ اپنے اطراف موجود چھوٹی سے چھوٹی چیزوں کا لطف اٹھانے لگا۔اب وہ دنیا کا سب سے امیر ترین انسان بن چکا تھا۔

Your Thoughts and Comments